🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب فِي تَرْكِ الْقَوَدِ بِالْقَسَامَةِ
باب: قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4524
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلَفُوهُمْ، فَأَبَوْا، فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کر دیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہو جانے کی گواہی دیں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کر لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4524]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصاریوں کا ایک آدمی خیبر میں قتل ہو گیا، تو اس کے وارث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گئے اور اس مقتول کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے اس ساتھی کے قتل کے متعلق گواہی دیں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہ تھا، اور وہ لوگ یہودی ہیں، وہ اس سے بھی بڑی باتوں کی جرأت کر سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے پچاس آدمیوں کو منتخب کر لو اور ان سے قسمیں لے لو۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3564) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3532)
وللحديث شواھد كثيرة جدًا منھا الحديث السابق (4523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4525
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، قَالَ: إِنَّ سَهْلًا وَاللَّهِ أَوْهَمَ الْحَدِيثَ،" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى يَهُودَ أَنَّهُ قَدْ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَتِيلٌ فَدُوهُ، فَكَتَبُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةِ نَاقَةٍ".
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ (خود) ادا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4525]
سیدنا عبدالرحمٰن بن بجید رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک سہل کو اس حدیث (کے بیان کرنے) میں وہم ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو یہ لکھا تھا کہ بلاشبہ تم میں مقتول پایا گیا ہے، لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔ تو انہوں نے لکھا اور (اپنی تحریر میں) اللہ کے نام کی پچاس قسمیں کھائیں کہ ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں قاتل کا کوئی علم ہے۔ انہوں نے کہا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت ایک سو اونٹنیاں اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4520)، (تحفة الأشراف: 9686) (منکر)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4526
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ الْأَنْصَارِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْيَهُودِ وَبَدَأَ بِهِمْ: يَحْلِفُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ رَجُلًا، فَأَبَوْا، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: اسْتَحِقُّوا، قَالُوا: نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةً عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ".
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: تم اپنا حق ثابت کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4526]
جناب ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سلیمان بن یسار، انصار کے کئی لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے کہا اور ان ہی سے ابتدا کی: تم میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے کہا: اپنا حق (قسمیں کھا کر) ثابت کرو۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ان دیکھی بات پر کیسے قسمیں کھائیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت یہودیوں پر ڈال دی کیونکہ وہ مقتول ان ہی کے ہاں پایا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15588، 15691) (شاذ)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري عنعن
وأصله عند مسلم في صحيحه (1670/7)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب يُقَادُ مِنَ الْقَاتِلِ
باب: قاتل سے قصاص لیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4527
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4527]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا (اور ابھی اس میں زندگی کی رمق باقی تھی) تو اس سے پوچھا گیا: یہ تیرے ساتھ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ (ہاں) تو اس یہودی کو پکڑا گیا اور پھر اس نے اعتراف کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں سے کچلا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، والطلاق 24 (تعلیقاً)، الدیات 4 (6876)، 5 (6877)، 12 (6884)، صحیح مسلم/القسامة 3 (1672)، سنن الترمذی/الدیات 6 (1394)، سنن النسائی/المحاربة 7 (4049)، القسامة 8 (4746)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2665)، (تحفة الأشراف: 1391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163، 183، 203، 267)، سنن الدارمی/الدیات 4 (2400) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2746) صحيح مسلم (1672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4528
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ نَحْوَهُ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4528]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کو قتل کر دیا جو کچھ زیور پہنے ہوئے تھی، اور پھر ایک کنویں میں پھینک دیا اور اس کا سر پتھر سے کچل دیا۔ پھر اسے پکڑ لیا گیا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے سنگسار کیا جائے حتیٰ کہ مر جائے۔ چنانچہ اسے سنگسار کیا گیا، حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ابن جریح نے ایوب سے اسی کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الحدود 3 (1672)، سنن النسائی/ المحاربة 7 (4049)، (تحفة الأشراف: 950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4529
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَقَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بِرَأْسِهَا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا فلاں نے کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4529]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی اپنے چاندی کے زیور پہنے ہوئے تھی کہ ایک یہودی نے پتھر سے اس کا سر کچل دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لڑکی کے پاس آئے جب کہ (ابھی) اس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیا فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے، کیا فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے دو پتھروں میں رکھ کر قتل کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4527)، (تحفة الأشراف: 1631) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6877) صحيح مسلم (1672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب أَيُقَادُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ
باب: کیا کافر کے بدلے مسلمان سے قصاص لیا جائے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4530
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقُلْنَا: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: لَا إِلَّا مَا فِي كِتَابِي هَذَا، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَأَخْرَجَ كِتَابًا، وَقَالَ أَحْمَدُ: كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ، فَإِذَا فِيهِ:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ"، قَالَ مُسَدَّدٌ: عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، فَأَخْرَجَ كِتَابًا.
قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب (نکالی) اس میں یہ لکھا تھا: سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ۱؎، آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہو گی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص (بدعتی) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں: ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4530]
سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور اشتر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص وصیت فرمائی ہے جو عام لوگوں سے نہ کہی ہو؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، سوائے اس کے جو میرے پاس اس مکتوب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے وہ تحریر نکالی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: انہوں نے اپنی تلوار کی میان میں سے وہ تحریر نکالی، تو اس میں تھا: تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں اور وہ اپنے علاوہ کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں (ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں)۔ ان کے ذمے اور امان کا ان کا ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی پابند ہے۔ خبردار! کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں اور کسی امان والے کو اس کے ایام امان میں قتل نہ کیا جائے، جس نے دین میں کوئی نیا کام کیا (بدعت ایجاد کی) تو اس کا وبال اس کی اپنی جان پر ہے، جس نے کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ مسدد نے بواسطہ ابن ابوعروبہ (یوں) روایت کیا: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر نکالی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 5 (4738)، (تحفة الأشراف: 10257)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/122) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دے دے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4738)
قتادة والحسن البصري عنعنا
وللحديث شواھد صحيحة عند البخاري (111،7300) و مسلم (1370) وغيرهما دون قوله : ’’ ولا ذو عهد في عھده ‘‘
وانظر ضعيف سنن ابن ماجه (2660)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4531
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ، زَادَ فِيهِ: وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَيَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4531]
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مانند ذکر کی، اس میں اضافہ ہے: ان کا (مسلمانوں کا) بعید ترین فرد بھی امان دے سکتا ہے، اور ان کا تنومند اور قوی رفتار اپنے ضعیف اور سست رفتار کو بھی ساتھ ملائے (مال غنیمت میں اس کو شریک کرے) اور چھوٹے دستے میں جانے والا بڑے لشکر میں رہ جانے والوں کو بھی شریک سمجھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وقد مضی بتمامہ 2751، (تحفة الأشراف: 8815)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 31 (2685) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3496)
أخرجه ابن ماجه (2685 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (2751)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب فِي مَنْ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ
باب: جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4532
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ"، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: إِلَى مَا يَقُولُ سَعْدٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی (میں تو اسے قتل کر دوں گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں (عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، (سنو) جو سعد کہہ رہے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4532]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر ڈالے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے: کیوں نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی بات سنو، کیا کہہ رہا ہے۔ عبدالوہاب کی روایت میں ہے: سنو سعد کیا کہہ رہا ہے۔ (یعنی بہت ہی غیرت مند ہیں۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللعان 1 (1498)، سنن ابن ماجہ/الحدود 34 (2605)، (تحفة الأشراف: 12699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 19 (17)، الحدود 1(7)، مسند احمد (2/465) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1498)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4533
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4533]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: فرمائیے کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پاؤں تو کیا اسے چھوڑ دوں حتیٰ کہ چار گواہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12737) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1498)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں