🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
168. باب فِي الرَّجُلِ يُنَادِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ
باب: آدمی کسی کو پکارے تو اس کے جواب میں «لبيك» کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5233
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هَمَّامٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيَّ , قَالَ:شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا , فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ الشَّجَرَةِ , فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ , لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ , فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , قَدْ حَانَ الرَّوَاحُ , قَالَ: أَجَلْ , ثُمَّ قَالَ: يَا بِلَالُ , قُمْ فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ , فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ , فَقَالَ: أَسْرِجْ لِي الْفَرَسَ , فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ , فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ لَيْسَ لَهُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثُ , وَهُوَ حَدِيثٌ نَبِيلٌ جَاءَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
ابوعبدالرحمٰن فہری کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا: «السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته»  کوچ کا وقت ہو چکا ہے، آپ نے فرمایا: ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا چڑے کے سایہ جیسا تھا ۱؎ انہوں نے کہا: «لبيك وسعديك وأنا فداؤك» ”میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں“ آپ نے فرمایا: ”میرے گھوڑے پر زین کس دو“ تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں تکبر کی کوئی بات تھی نہ غرور کی ۲؎ پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے (اور چل پڑے) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5233]
سیدنا ابوعبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ ہم انتہائی گرمی کے دن میں چلتے رہے پھر ایک درخت کے سائے تلے اترے۔ جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی، گھوڑے پر سوار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے۔ میں نے عرض کیا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، کوچ کا وقت ہو گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ پھر فرمایا: ”بلال! اٹھو۔“ تو وہ ایک کیکر کے درخت کے نیچے سے اچھل کر اٹھے اور ان کا سایہ ایسے پڑ رہا تھا جیسے کسی پرندے کا ہو۔ (وہ بہت ہی نحیف جسم کے تھے) انہوں نے کہا: ”میں حاضر ہوں اور حاضر ہوں اور آپ پر فدا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا گھوڑا تیار کرو۔ (اس پر زین رکھو)“ چنانچہ انہوں نے ایسی زین نکالی جس کی گدیاں کھجور کی چھال سے بھری گئی تھیں۔ ان میں کسی قسم کا تکبر اور بڑائی نہ تھی (انتہائی سادہ تھیں)۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے اور ہم بھی۔ اور پوری حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابوعبدالرحمٰن فہری سے یہی ایک حدیث مروی ہے اور یہ عمدہ حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12067)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/286)، سنن الدارمی/السیر 16 (2496) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اشارہ ہے ان کے ضعف اور ان کی لاغری کی طرف۔
۲؎: جیسے دنیا داروں کی زین میں ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو ھمام عبداﷲ بن يسار : مجهول (تق: 3718) وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
169. باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ
باب: آدمی کسی کو کہے «أضحك الله سنك» ”اللہ تجھے ہنستا رکھے“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5234
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ , وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ , وَأَنَا لِحَدِيثِ عِيسَى أَضْبَطُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ يَعْنِي السُّلَمِيَّ , حَدَّثَنَا ابْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ:" ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مرداس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے «أضحك الله سنك» ”اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے“ کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5234]
جناب (عبداللہ) ابن کنانہ بن عباس بن مرداس اپنے والد سے وہ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیے تو سیدنا ابوبکر یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ آپ کو (ہمیشہ) ہنستا مسکراتا رکھے۔“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المناسک 56 (3013)، (تحفة الأشراف: 5140)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/15) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابن کنانہ اور خود کنانہ بن عباس مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3013)
عبداﷲ بن كنانة وأبوه :مجهولان (تق: 3556،5667)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
170. باب مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ
باب: مکان بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5235
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ , حَدَّثَنَا حَفْصٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ:" مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي , فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , شَيْءٌ أُصْلِحُهُ , فَقَالَ: الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا: عبداللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ مرمت (سرمت) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے (یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5235]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں اور میری والدہ اپنے احاطے کی دیوار لیپ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے۔ آپ نے پوچھا: ”عبداللہ! کیا ہو رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی کچھ مرمت کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”معاملہ تو اس سے بہت جلد ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزھد 25 (2335)، سنن ابن ماجہ/الزھد 13 (4160)، (تحفة الأشراف: 8650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/161) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5449)
الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (456)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5236
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَهَنَّادٌ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا , قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا وَهَى , فَقَالَ: مَا هَذَا؟ , فَقُلْنَا: خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ.
اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہو گیا تھا، آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ ہم نے کہا: ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر میں تو معاملہ (موت) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں“ (زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5236]
جناب اعمش رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور ہم اپنی جھگی (یا کوٹھری) جو بوسیدہ ہو گئی تھی، اس کی مرمت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہو رہا ہے؟“ ہم نے عرض کیا کہ ہماری یہ جھگی بوسیدہ ہو گئی ہے، تو اس کی مرمت کر رہے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو معاملے کو اس سے بھی جلد سمجھتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8650) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (5235)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5237
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ , عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ , فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً , فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قَالَ: فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي النَّاسِ , أَعْرَضَ عَنْهُ , صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ , وَالْإِعْرَاضَ عَنْهُ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ , فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالُوا: خَرَجَ , فَرَأَى قُبَّتَكَ , قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا , حَتَّى سَوَّاهَا بِالْأَرْضِ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا , قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ؟ , قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا , فَقَالَ: أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ , إِلَّا مَا لَا إِلَّا مَا لَا يَعْنِي مَا لَا بُدَّ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ: آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ (مکان) دیکھا تھا (شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے (توڑ تاڑ کر) زمین کے برابر کر دیا، پھر ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا: مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بے التفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتا دیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا: ”سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5237]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو ایک اونچا قبہ (مکان) دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ فلاں انصاری کا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور بات اپنے دل میں رکھی، جب اس کا مالک دوسرے لوگوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سلام کرنے کے لیے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر توجہ نہ دی۔ اور بار بار ایسا ہی ہوا حتیٰ کہ وہ سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہیں اور توجہ نہیں فرما رہے ہیں۔ تو اس نے اس کیفیت کی اپنے ساتھیوں سے شکایت کی اور کہا: ”اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدلا بدلا پاتا ہوں۔“ اس کے ساتھیوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تھے اور تمہارا قبہ دیکھا تھا۔ چنانچہ وہ آدمی اپنے اس قبہ (مکان) پر گیا اور اسے گرا دیا، حتیٰ کہ اسے زمین کے برابر کر دیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر گئے تو وہ مکان نظر نہ آیا تو پوچھا: ”قبے کا کیا ہوا؟“ صحابہ نے بتایا کہ اس کے مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے توجہی کی ہم سے شکایت کی تھی تو ہم نے اسے وجہ بتائی تو اس نے اسے گرا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر تعمیر اپنے مالک کے لیے وبال کا باعث ہے، مگر وہ جو... مگر وہ جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1720)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد 13 (4161)، مسند احمد (3/220) (حسن) (الصحیحة 2830)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أبو طلحة الأسدي صدوق كما في الكاشف للذهبي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
171. باب فِي اتِّخَاذِ الْغُرَفِ
باب: بالاخانے بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5238
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ , حَدَّثَنَا عِيسَى , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ قَيْسٍ , عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ , قَالَ:" أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْنَاهُ الطَّعَامَ , فَقَالَ: يَا عُمَرُ , اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ , فَارْتَقَى بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ , فَأَخَذَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ".
دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5238]
سیدنا دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلے کا مطالبہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! جاؤ اور ان کو دو۔“ چنانچہ وہ ہمیں لے کر ایک بالا خانے پر چڑھے اور اپنے حجرے سے چابی لے کر اس کو کھولا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/174) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5184)
إسماعيل بن أبي خالد صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (895 وسنده صحيح) قيس ھو ابن أبي حازم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
172. باب فِي قَطْعِ السِّدْرِ
باب: بیر کے درخت کاٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5239
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ" , سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ , فَقَالَ: هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ , يَعْنِي: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا , صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ.
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا ۱؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا“۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے (تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5239]
سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بیری کا درخت کاٹا، اللہ اس کے سر کو جہنم میں الٹا لٹکائے گا۔“ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی توضیح پوچھی گئی، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حدیث مختصر ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جنگل میں لگی بیری کا درخت جو آنے جانے والے مسافروں اور جانوروں کے لیے سائے کا کام دیتا ہو اور کوئی شخص بے مقصد ظلم سے اسے کاٹ ڈالے، تو اللہ اسے جہنم میں الٹا لٹکائے گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5242) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: طبرانی کی ایک روایت میں «من سدر الحرم» (حرم کے بیر کے درخت) کے الفاظ وارد ہیں جس سے مراد کی وضاحت ہوجاتی ہے اور اشکال رفع ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2970)
وللحديث شواھد كثيرة عند البيھقي (6/141 وسنده حسن) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5240
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ وَسَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5240]
جناب عثمان بن ابو سلیمان نے ثقیف کے ایک آدمی سے، اس نے سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت کیا اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5242، 19044) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عروہ تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (5239)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5241
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ , وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ , عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ , فَقَالَ:" أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ , كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ , زَادَ حُمَيْدٌ , فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ , سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ" , ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی (بھائی) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ ”بدعت“ تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5241]
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ بیری کا کاٹنا کیسا ہے؟ جبکہ وہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ کے محل کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: ”کیا تم یہ دروازے اور چوکھٹیں دیکھ رہے ہو؟ یہ عروہ رحمہ اللہ کی بیریوں سے بنائے گئے ہیں اور عروہ رحمہ اللہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ لیا کرتے تھے“ اور کہا کہ ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ حمید بن مسعدہ رحمہ اللہ نے مزید کہا کہ ہشام رحمہ اللہ نے کہا: ”ارے عراقی! (حسان بن ابراہیم) تو تو میرے پاس ایک بدعت والی بات لایا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے جواب دیا کہ ”بدعت تو تمہاری طرف سے ہے۔ میں نے مکہ میں علماء سے سنا ہے جو یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی پر لعنت کی ہے جو بیری کو کاٹے۔“ پھر مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (حسن) (الصحیحة 615)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
173. باب فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
باب: راستے سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹا دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5242
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا , فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ , قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا , وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ , فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اتنی طاقت کس کو ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مسجد میں تھوک اور رینٹ کو چھپا دینا اور (موذی) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا اتفاق نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5242]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”انسان کے اندر تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، تو اس پر واجب ہے کہ اپنے ہر ہر جوڑ کے بدلے صدقہ دیا کرے۔“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! کون اس کی ہمت رکھتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں پڑی رینٹ (حلق کی آلائش) کو دفن کر دینا، راستے میں پڑی (تکلیف دہ) چیز ہٹا دینا اور اگر یہ نہ ہو سکے تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہیں اس (تمام صدقے) سے کافی ہو جائیں گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1965)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/354، 359) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1315)
صححه ابن خزيمة (1226 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں