سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. باب فِي الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 5213
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ:" لَمَّا جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ , قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَاءَكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ , وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یمن کے لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کرنا شروع کیا“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5213]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اہل یمن آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق اہل یمن تمہارے پاس آ گئے ہیں۔ اور یہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے مصافحے کا عمل شروع کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/212، 251) (صحیح)» ( «وهم أول من ...» کا جملہ انس کا اپنا قول مدرج ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا أن قوله وهم أول مدرج فيه من قول أنس
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
155. باب فِي الْمُعَانَقَةِ
باب: معانقہ (گلے ملنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5214
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ , أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ: حَيْثُ سُيِّرَ مِنْ الشَّامِ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: إِذًا أُخْبِرُكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا , قُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ , هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي , وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي , فَلَمَّا جِئْتُ , أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ لِي , فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ , فَالْتَزَمَنِي , فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ".
قبیلہ عنزہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے جب وہ شام سے واپس لائے گئے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا، میں نے کہا: وہ راز کی بات نہیں ہے (پوچھنا یہ ہے) کہ جب آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے تو کیا وہ آپ سے مصافحہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میری تو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ ہی فرمایا، اور ایک دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، پھر جب میں آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا تھا تو میں آپ کے پاس آیا اس وقت آپ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، تو آپ نے مجھے چمٹا لیا، یہ بہت اچھا اور بہت عمدہ (طریقہ) ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5214]
ایوب بن بشیر بن کعب عدوی، بنو عنزہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا (جبکہ انہیں شام سے روانہ کر دیا گیا تھا): ”میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث دریافت کرنا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں بتا دوں گا۔“ میں نے کہا: ”کوئی راز کی بات نہیں ہے، آپ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تھے تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں سے مصافحہ کیا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”میں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مصافحہ فرمایا، اور ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا مگر میں گھر میں نہیں تھا، جب میں واپس آیا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلاوے کا بتایا گیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے معانقہ فرمایا اور یہ (میرے لیے) عمدہ، بہت عمدہ بات تھی۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/163، 167) (ضعیف)» (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أيوب بن بشير بن كعب مستور (تق: 604) ورجل من عنزة مجهول كما قال المنذري (عون المعبود 522/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
إسناده ضعيف
أيوب بن بشير بن كعب مستور (تق: 604) ورجل من عنزة مجهول كما قال المنذري (عون المعبود 522/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
156. باب مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ
باب: استقبال کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5215
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ," أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ , أَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ أَقْمَرَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ إِلَى خَيْرِكُمْ , فَجَاءَ حَتَّى قَعَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قریظہ کے لوگ سعد کے حکم (فیصلہ) پر اترے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سردار یا اپنے بہتر شخص کی طرف بڑھو“ پھر وہ آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5215]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو قریظہ نے جب سیدنا سعد (سعد بن معاذ) رضی اللہ عنہ کا فیصلہ قبول کر لینے پر اتفاق کر لیا تو آپ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کی طرف یا اپنے افضل کی طرف بڑھو۔“ تو وہ (سعد) آئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 168 (3043)، المناقب 12 (3804)، المغازي 31 (4121)، الاستئذان 25 (6262)، صحیح مسلم/الجھاد 22 (1768)، (تحفة الأشراف: 3960)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/142) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6262) صحيح مسلم (1768)
حدیث نمبر: 5216
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , بِهَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ: فَلَمَّا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ , قال لِلْأَنْصَارِ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ.
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: جب وہ مسجد سے قریب ہوئے تو آپ نے انصار سے فرمایا: ”اپنے سردار کی طرف بڑھو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5216]
جناب شعبہ رحمہ اللہ نے یہ روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ جب وہ مسجد کے قریب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”اپنے سردار کی طرف بڑھو۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3960) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے قیام تعظیم کی بابت استدلال درست نہیں کیونکہ ترمذی میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موجود ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے پھر بھی لوگ آپ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ آپ کو یہ چیز پسند نہیں۔ دوسری جانب مسند احمد میں «قوموا إلى سيدكم» کے بعد «فأنزلوه» کا اضافہ ہے جو صحیح ہے اور اس امر میں صریح ہے کہ لوگوں کو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لئے کھڑے ہونے کا جو حکم ملا یہ کھڑا ہونا دراصل سعد رضی اللہ عنہ کو اس زخم کی وجہ سے بڑھ کر اتارنے کے لئے تھا جو تیر کے لگنے سے ہو گیا تھا، نہ کہ یہ قیام تعظیم تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4121) صحيح مسلم (1768)
حدیث نمبر: 5217
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , وَابْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ , عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ , عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا , وَقَالَ الْحَسَنُ: حَدِيثًا وَكَلَامًا , وَلَمْ يَذْكُرْ الْحَسَنُ السَّمْتَ وَالْهَدْيَ وَالدَّلَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْ فَاطِمَةَ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهَا كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ , قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا , وَقَبَّلَهَا , وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ , وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا , قَامَتْ إِلَيْهِ , فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ , فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے طور طریق اور چال ڈھال میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا (حسن کی روایت میں ”بات چیت میں“ کے الفاظ ہیں، اور حسن نے «سمتا وهديا ودلا» (طور طریق اور چال ڈھال) کا ذکر نہیں کیا ہے) وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی طرف لپکتے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، ان کو بوسہ دیتے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے پاس لپک کر پہنچتیں، آپ کا ہاتھ تھام لیتیں، آپ کو بوسہ دیتیں، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5217]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ”میں نے کسی کو نہیں پایا کہ وہ اپنی عادات، چال چلن اور بات چیت میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہو۔ حسن بن علی کی روایت میں «حَدِيثًا وَكَلَامًا» ”بات چیت اور کلام“ کے لفظ وارد ہیں، «السَّمْتَ وَالْهَدْيَ وَالدَّلَّ» ”عادات، چال چلن اور طریقے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ جب وہ آپ کے ہاں آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ان کی طرف بڑھتے، ان کا ہاتھ پکڑتے، بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے اور (اسی طرح) جب آپ ان کے ہاں جاتے تو وہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑتیں، بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھا دیتیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 61 (3872)، (تحفة الأشراف: 17883، 18040) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4689)
مشكوة المصابيح (4689)
157. باب فِي قُبْلَةِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ
باب: آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 5218
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ , أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَبِّلُ حُسَيْنًا , فَقَالَ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ , مَا فَعَلْتُ هَذَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین (حسین بن علی رضی اللہ عنہما) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا“ (پیار و شفقت رحم ہی تو ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5218]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے، تو انہوں نے کہا: ”تحقیق میرے دس بچے ہیں اور میں نے کسی کے ساتھ ایسے نہیں کیا (کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا)۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 15 (2318)، سنن الترمذی/البر والصلة 12 (1911)، (تحفة الأشراف: 15146)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 17 (5993)، مسند احمد (2/228، 241، 269، 513) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5997) صحيح مسلم (2118)
حدیث نمبر: 5219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ , فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ , وَقَرَأَ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ , فَقَالَ أَبَوَايَ: قُومِي , فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: أَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا إِيَّاكُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے“ اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا: میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں (کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں) نہ کہ آپ دونوں کا (کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5219]
جناب عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (واقعہ افک کے سلسلے میں بیان کرتے ہوئے) کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! خوشخبری ہو، اللہ عزوجل نے تیری براءت نازل فرما دی ہے۔“ اور اسے قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں، تو میرے ماں باپ نے مجھے کہا: ”اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو بوسہ دو۔“ تو میں نے کہا: ”میں اللہ عزوجل کی حمد کرتی ہوں، تم دونوں کی نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 16879)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النور 6 (4750)، صحیح مسلم/التوبة 10 (2770)، مسند احمد (6/59) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وھذا طرف من حديث الإفك رواه البخاري (2661، 4750) ومسلم (2770)
وھذا طرف من حديث الإفك رواه البخاري (2661، 4750) ومسلم (2770)
158. باب فِي قُبْلَةِ مَا بَيْنَ الْعَيْنَيْنِ
باب: آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ أَجْلَحَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَالْتَزَمَهُ وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ".
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا (معانقہ کیا) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5220]
جناب شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے (جبکہ وہ سفر سے واپس آئے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معانقہ کیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ بھی دیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18853) (ضعیف)» (شعبی تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
السند مرسل كما قال البيهقي (101/7)
وللحديث طرق ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
ضعيف
السند مرسل كما قال البيهقي (101/7)
وللحديث طرق ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
159. باب فِي قُبْلَةِ الْخَدِّ
باب: گال چومنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , عَنْ إِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ , قَالَ:" رَأَيْتُ أَبَا نَضْرَةَ قَبَّلَ خَدَّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام".
ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ کو دیکھا انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گال پر بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5221]
جناب ایاس بن دغفل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے جناب ابونضرہ (منذر بن مالک) رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے رخسار پر بوسہ دیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19493) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5222
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ:" دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ , فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ , قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى , فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ لَهَا كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5222]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جبکہ یہ لوگ نئے نئے مدینہ آئے تھے، اور ان کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بخار کی وجہ سے لیٹی ہوئی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے قریب ہوئے اور پوچھا: ”بٹیا تمہارا کیا حال ہے؟“ اور ان کے رخسار پر بوسہ بھی دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6588) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3918)
مشكوة المصابيح (4690)
مشكوة المصابيح (4690)