سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
148. باب فِي السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ
باب: بچوں کو سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5203
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , قَالَ: قَالَ أَنَسٌ" انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ فِي الْغِلْمَانِ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ , أَوْ قَالَ: إِلَى جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5203]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ میں لڑکوں میں سے ایک لڑکا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک پیغام دینے کے لیے بھیج دیا۔ اور خود ایک دیوار کے سائے میں یا کہا دیوار کے ساتھ ہو کر بیٹھ رہے حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 639) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون القعود في الظل
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة، وحديث مسلم (2482) يغني عنه
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة، وحديث مسلم (2482) يغني عنه
149. باب فِي السَّلاَمِ عَلَى النِّسَاءِ
باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5204
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , يَقُولُ: أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ ابْنَةُ يَزِيدَ ," مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا".
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5204]
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کی جماعت پر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کہا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 9 (2697)، سنن ابن ماجہ/ الآداب 14 (3701)، (تحفة الأشراف: 15766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/452، 457)، سنن الدارمی/الاستئذان 9 (2679) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر عورتوں کی جماعت ہے تو انہیں سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عورت اگر اکیلی ہے اور سلام کرنے والا اس کے لئے محرم نہیں ہے تو (فتنہ کے خدشہ نہ ہونے کی صورت میں) سلام نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ فتنہ وغیرہ سے محفوظ رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4647، 4663)
أخرجه ابن ماجه (3701 وسنده حسن) ورواه الترمذي (2697 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4647، 4663)
أخرجه ابن ماجه (3701 وسنده حسن) ورواه الترمذي (2697 وسنده حسن)
150. باب فِي السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: اہل ذمہ (معاہد کافروں) کو سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5205
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ , فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ أَبِي: لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ , فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ , وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ , فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِِ".
سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں (یعنی قافلے والوں) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں (اور ان کے پجاریوں کو) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا: تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے: ”انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو“ (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5205]
جناب سہیل بن ابو صالح نے کہا: ”میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف گیا تو لوگ عیسائیوں کے عبادت خانوں پر سے گزرے، تو انہیں سلام کہتے تھے۔“ میرے والد نے کہا: ”انہیں سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو، اس لیے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا ہے: ”ان لوگوں (کافروں) کو سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“”“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 4 (2167)، (تحفة الأشراف: 12682)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 12 (2700)، مسند احمد (2/346، 459) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2167)
حدیث نمبر: 5206
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ , فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , قال فِيهِ , وَعَلَيْكُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے اور وہ «السام عليكم» (تمہارے لیے ہلاکت ہو) کہے تو تم اس کے جواب میں «وعليكم» کہہ دیا کرو“ (یعنی تمہارے اوپر موت و ہلاکت آئے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری نے بھی عبداللہ بن دینار سے «وعليكم» ہی کا لفظ روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5206]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو (لفظ) «السَّامُ عَلَيْكُمْ» بولتے ہیں ”تم پر موت آئے“ تو تم انہیں جواب میں «وَعَلَيْكُمْ» کہا کرو ”جو تم نے کہا ہے وہ تمہی پر ہو“۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس روایت کو امام مالک اور ثوری نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ اس میں کہا: «وَعَلَيْكُمْ» ۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7222)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 23 (2657)، واستتابة المرتدین 4 (6928)، صحیح مسلم/السلام 4 (2164)، سنن الترمذی/السیر 41 (1603)، موطا امام مالک/السلام 2 (3)، مسند احمد (2/19)، سنن الدارمی/الاستئذان 7 (2677) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (6257) صحيح مسلم (2164)
حدیث نمبر: 5207
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ:" إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا , فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: قُولُوا وَعَلَيْكُمْ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَة يَعْنِي الْغِفَارِيَّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ «وعليكم» کہہ دیا کرو“ ابوداؤد کہتے ہیں: ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5207]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ”اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) ہمیں سلام کہتے ہیں تو ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں «وَعَلَيْكُمْ» کہا کرو۔“ ( «السَّلَامُ» کا لفظ نہ بولا کرو)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، ابوعبدالرحمٰن جہنی رضی اللہ عنہ اور ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 4 (2163)، (تحفة الأشراف: 1260)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 22 (6257)، استتابة المرتدین 4 (6926)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 58 (3301)، سنن ابن ماجہ/الأدب 13 (3697)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (386، 387)، مسند احمد (3 /99، 212، 218، 222، 273، 277، 309) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6258، 6024) صحيح مسلم (2163، 2165)
151. باب فِي السَّلاَمِ إِذَا قَامَ مِنَ الْمَجْلِسِ
باب: مجلس سے اٹھ کر جاتے وقت سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5208
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَمُسَدَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ , فَلْيُسَلِّمْ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ , فَلْيُسَلِّمْ , فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے“ (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5208]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے تو چاہیے کہ سلام کہے اور جب وہاں سے اٹھنا چاہے تو بھی سلام کہے۔ پہلی دفعہ سلام کہنا دوسری دفعہ کے مقابلے میں کوئی زیادہ اہم نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 15 (2706)، (تحفة الأشراف: 13038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/230، 439) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4660)
أخرجه الترمذي (2706 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1008)
مشكوة المصابيح (4660)
أخرجه الترمذي (2706 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1008)
152. باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ
باب: «عليك السلام» کہنے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 5209
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ أَبِي غِفَارٍ , عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ , عَنْ أَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيِّ , قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ , فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى".
ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: «عليك السلام يا رسول الله» ”آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول!“ تو آپ نے فرمایا: «عليك السلام» مت کہو کیونکہ «عليك السلام» مردوں کا سلام ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5209]
سیدنا ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے کہا: ” «عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ» “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لفظ «عَلَيْكَ السَّلَامُ» مت بولو، یہ مردوں کا سلام ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 28 (2721)،سنن النسائی/الیوم اللیلة (318)، (تحفة الأشراف: 2123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4084)
انظر الحديث السابق (4084)
153. باب مَا جَاءَ فِي رَدِّ الْوَاحِدِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
باب: ایک آدمی کا جواب جماعت کی طرف سے کافی ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5210
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ:" يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ , وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے)، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو (لوگ چل رہے ہوں) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5210]
امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے شیخ حسن بن علی نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا، فرمایا کہ: ”ایک جماعت گزر رہی ہو تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کہہ دینا کافی ہے اور بیٹھے ہوئے (لوگوں) میں سے کوئی ایک جواب دے دے تو کافی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10231) (صحیح) (الإرواء: 778، الصحیحة: 1148،1412)»
وضاحت: ۱؎: اور اگر سبھی جواب دیں تو یہ افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4648)
وللحديث شاھد عند الطبراني في الكبير (3/ 82، 83 ح 2730 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4648)
وللحديث شاھد عند الطبراني في الكبير (3/ 82، 83 ح 2730 وسنده حسن)
154. باب فِي الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 5211
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بَلْجٍ , عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَكَمِ الْعَنَزِيِّ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاهُ , غُفِرَ لَهُمَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ملیں پھر دونوں مصافحہ کریں ۱؎، دونوں اللہ عزوجل کی تعریف کریں اور دونوں اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں تو ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5211]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمانوں کی ملاقات ہوتی ہے اور وہ مصافحہ کرتے ہیں، اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس سے بخشش مانگتے ہیں، تو اللہ عز وجل ان دونوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1761)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/293) (حسن لغیرہ)» (اس کے راوی زید لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: مصافحہ صرف ملاقات کے وقت مسنون ہے، سلام کے بعد اور نماز کے بعد، مصافحہ کرنے کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے، یہ بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زيد بن أبي الشعثاء : مجهول (التحرير : 2141) ووثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
إسناده ضعيف
زيد بن أبي الشعثاء : مجهول (التحرير : 2141) ووثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
حدیث نمبر: 5212
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَجْلَحِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ , فَيَتَصَافَحَانِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور دونوں ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہو جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5212]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی دو مسلمان ملاقات کرتے اور پھر مصافحہ کرتے ہیں، تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان دونوں کی مغفرت فرما دی جاتی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «* تخريج: سنن الترمذی/ الاستئذان 31 (2727)، سنن ابن ماجہ/الأدب 15 (3703)، (تحفة الأشراف: 1799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 289، 303) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2727) ابن ماجه (3703)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
و روي الإمام أحمد (3/ 142) : قال نبي اللّٰه ﷺ: ((ما من مسلمين التقيا فأخذ أحدھما بيد صاحبه إلا كان حقًا علي اللّٰه أن يحضر دعاءھما و لا يفرّق بين أيديھما حتي يغفر لھما)) وسنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
إسناده ضعيف
ترمذي (2727) ابن ماجه (3703)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
و روي الإمام أحمد (3/ 142) : قال نبي اللّٰه ﷺ: ((ما من مسلمين التقيا فأخذ أحدھما بيد صاحبه إلا كان حقًا علي اللّٰه أن يحضر دعاءھما و لا يفرّق بين أيديھما حتي يغفر لھما)) وسنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180