سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟
حدیث نمبر: 575
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اپنے سر پہ تین چلو پانی ڈالتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 575]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں غسلِ جنابت کے بارے میں بحث ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اپنے سر پر تین لپ (پانی) ڈالتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 4 (254)، صحیح مسلم/الحیض 11 (327)، سنن ابی داود/الطہارة 98 (239)، سنن النسائی/الطہارة 251 (250)، الغسل 20 (425)، (تحفة الأشراف: 3186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 576
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار (سارے جسم پر پانی بہائیں) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 576]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تین (لپ پانی سر پر ڈالو۔)“ اس شخص نے کہا: ”میرے بال بہت زیادہ ہیں۔“ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے، اور وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تفرد بہ ابن ماجہ) (صحیح)» (اس سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن ابو ہریرہ کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، یہ حدیث تحفة الاشراف میں «فضيل بن مرزوق عن عطية عن أبي سعيد» کے زیر عنوان موجود نہیں ہے، اور نہ ہی ابن حجر نے «النكت الظراف» میں اس پر کوئی استدراک کیا ہے، اور نہ ہی یہ مصباح الزجاجة میں موجود ہے لیکن «غاية المقصد في زوائد المسند (ق 37)» میں موجود ہے، ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ابن ماجہ کے قدیم نسخوں میں یہ حدیث موجود نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف الحفظ مشھور بالتدليس القبيح (انظر ضعيف سنن أبي داود: 452) وفضيل يروي عن عطية الموضوعات قاله ابن حبان في المجروحين (2/ 209)
والحديث الآتي (الأصل: 577) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف الحفظ مشھور بالتدليس القبيح (انظر ضعيف سنن أبي داود: 452) وفضيل يروي عن عطية الموضوعات قاله ابن حبان في المجروحين (2/ 209)
والحديث الآتي (الأصل: 577) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
حدیث نمبر: 577
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَنَا فِي أَرْضٍ بَارِدَةٍ فَكَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَأَحْثُو عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سرد علاقہ میں رہتا ہوں، غسل جنابت کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 577]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سرد علاقے میں رہتا ہوں تو غسلِ جنابت کیسے کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اپنے سر پر تین لپ ڈالتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 11 (329)، (تحفة الأشراف: 2603)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 3 (252)، مسند احمد (3/ 319، 348، 379) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بِنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، سَأَلَهُ رَجُلٌ كَمْ أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي وَأَنَا جُنُبٌ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ"، قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ شَعْرِي طَوِيلٌ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا: جب میں غسل جنابت کروں تو اپنے سر پر کتنا پانی ڈالوں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین پانی چلو ڈالتے تھے، اس پر اس شخص نے کہا: میرے بال لمبے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے، اور زیادہ پاک و صاف رہنے والے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 578]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے سوال کیا: ”جب میں جنبی ہوں تو (غسل کرتے وقت) سر پر کتنا پانی ڈالا کروں؟“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک پر تین لپ (پانی) ڈالا کرتے تھے۔“ اس شخص نے کہا: ”میرے بال لمبے ہیں۔“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تجھ سے زیادہ تھے اور زیادہ پاکیزہ تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13063)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/251) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سر پر ڈالنے کے لیے تین لپ پانی کافی ہوتا تھا، حقیقت یہ ہے کہ تین لپ میں سارا سر بخوبی تر ہو جاتا ہے، اور وہ غسل میں کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
96. بَابٌ في الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ
باب: کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟
حدیث نمبر: 579
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 579]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 79 (107)، سنن النسائی/الطہارة 160 (253)، (تحفة الأشراف: 16019، 16025)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 99 (250)، مسند احمد (6/68، 119، 154، 192، 253، 258) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت سے پہلے وضو کر لیتے تھے، پھر غسل کے بعد آپ نیا وضو نہ فرماتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (250) ترمذي (107)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (250) ترمذي (107)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
97. بَابٌ في الْجُنُبِ يَسْتَدْفِئُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ
باب: غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 580
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُرَيْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 580]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت کرتے تھے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے (لپٹ کر) گرمی حاصل کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 91 (123)، (تحفة الأشراف: 17620) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں راوی «حریث» ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جنابت حکمی نجاست ہے، اور اگر اس پر اور کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جنبی کا بدن پاک ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (123)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
ترمذي (123)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
98. بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً
باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 581
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَغْتَسِلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 581]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کی کیفیت پیش آتی تھی، پھر آپ پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے، حتیٰ کہ بعد میں اٹھ کر غسل فرما لیتے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 87 (118)، (تحفة الأشراف: 16024)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 90 (228)، مسند احمد (6/43) (صحیح)» (اس سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (228) ترمذي (118)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (228) ترمذي (118)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
حدیث نمبر: 582
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 582]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنے اہل سے قربت کی ضرورت محسوس فرماتے تو اپنی یہ حاجت پوری کر لیتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16038) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر لے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
ضعيف
انظر الحديث السابق (581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
حدیث نمبر: 583
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً"، قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ يَوْمًا، فَقَالَ لِي إِسْمَاعِيل: يَا فَتَى يُشَدُّ هَذَا الْحَدِيثُ بِشَيْءٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہیئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 583]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے تھے، تو پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اسی حالت میں سو جاتے تھے۔“ سفیان کہتے ہیں کہ ”ایک دن میں نے اس حدیث کا ذکر کیا تو اسماعیل نے فرمایا: ”لڑکے! اس حدیث کو کسی چیز سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔“” [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 90 (228)، سنن الترمذی/الطہارة 87 (119)، (تحفة الأشراف: 16023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 106) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ اس کے راوی ابواسحاق ہیں، اگرچہ وہ ثقہ ہیں،لیکن اخیر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا، پس حدیث میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے خلاف دوسری صحیح روایتیں وارد ہوں جو آگے مذکور ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديثين السابقين (581،582)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
ضعيف
انظر الحديثين السابقين (581،582)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
99. بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ
باب: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 584
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، نَبَّأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے، اور جنبی ہوتے تو نماز جیسا وضو کرتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 584]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نہانے کی حاجت ہوتی اور آپ (نہائے بغیر) سونا چاہتے تو نماز والا وضو کر لیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطہارة 89 (222، 223)، سنن النسائی/الطہارة 164 (257)، 165 (258)، 166 (259)، (تحفة الأشراف: 17769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 25 (286)، مسند احمد (6/85)، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 591، 593) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم