🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
99. بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ
باب: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 585
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَر ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وضو کر لے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 585]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: جب ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں ہو تو کیا وہ سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وضو کر لے (تو سو جائے)۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8019)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 27 (288)، صحیح مسلم/الحیض 6 (306)، سنن ابی داود/الطہارة 88 (222)، سنن الترمذی/الطہارة 88 (120)، سنن النسائی/الطہارة 166 (260)، موطا امام مالک/الطہارة 19 (76)، مسند احمد (2/17)، سنن الدارمی/الطہارة 73 (783) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 586
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ بِاللَّيْلِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں رات میں جنابت لاحق ہوتی اور سونا چاہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے کہ وہ وضو کر کے سوئیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 586]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رات کو جنبی ہو جاتے تھے، پھر سونا چاہتے تھے، تو (مسئلہ پوچھنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وضو کر لیں، پھر سو جائیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4101، ومصباح الزجاجة: 232)، مسند احمد (2/75، 3/55) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
100. . بَابٌ في الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ
باب: جنبی اگر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے تو وضو کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے، تو وضو کر لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 587]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے، پھر دوبارہ جانا چاہے تو وضو کر لے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 6 (308)، سنن ابی داود/الطہارة 86 (220)، سنن الترمذی/الطہارة 107 (141)، سنن النسائی/الطہارة 169 (263)، (تحفة الأشراف: 4250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/7، 21، 28) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس میں نفاست، نظافت، صفائی اور لذت سب کچھ ہے، علماء نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے یا پینے یا جماع یا سونے کا ارادہ کرے، تو اپنا عضو تناسل دھو ڈالے، اور نماز کا سا وضو کر لے، اور بعضوں نے کہا کہ جنبی جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرے تو صرف ہاتھ دھو لینا کافی ہے، اور وضو سے یہی مراد ہے، اور جمہور کا یہی قول ہے «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
101. . بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ يَغْتَسِلُ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ غُسْلاً وَاحِدًا
باب: ساری بیویوں سے ہمبستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری بیویوں کے پاس ہو آنے کے بعد آخر میں ایک غسل کر لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 588]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام بیویوں کے پاس جانے کے بعد ایک ہی غسل کر لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 106 (140)، سنن النسائی/الطہارة 170 (265)، (تحفة الأشراف: 1336)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 12 (268)، 17 (275)، النکاح 4 (5068)، 102 (5215)، صحیح مسلم/الحیض 6 (309)، سنن ابی داود/الطہارة 85 (218)، مسند احمد (3/ 161، 185، 225)، سنن الدارمی/الطہارة 71 (780) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا،" فَاغْتَسَلَ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے رات میں اپنی ساری بیویوں سے صحبت کے بعد (ایک ہی) غسل کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 589]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، تو آپ نے ایک ہی رات میں تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے مقاربت کے بعد (ایک ہی بار) غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1504) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں صالح بن أبی الأخضر ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ باری کے خلاف نہیں ہے کیونکہ باری میں ایک عورت کے پاس رات کو صرف رہنا کافی ہے صحبت کرنا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ جب عورتوں سے صحبت کی تو یہ بھی باری کی طرح ہو گیا، اور بعضوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر باری واجب نہ تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن أبي الأخضر: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. . بَابُ: فِيمَنْ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ غُسْلاً
باب: ہر بیوی سے ہمبستری کے بعد الگ الگ غسل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ:" هُوَ أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ".
ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آئے ۱؎، اور ہر ایک کے پاس غسل کرتے رہے، آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کر لیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور بہترین ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 590]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے پاس گئے۔ آپ ان میں سے ہر ایک کے گھر میں غسل کرتے رہے۔ کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایک ہی غسل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (طریقے) میں صفائی، پاکیزگی اور طہارت زیادہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 86 (219)، (تحفة الأشراف: 12032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/8، 10، 391) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں سلمی غیر معروف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)۔
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نفیس مزاج اور صفائی پسند تھے، اور اسی وجہ سے آپ کو خوشبو بہت پسند تھی، اور بدبو سے بڑی نفرت تھی، آپ کو اپنے لباس، گھر، بدن اور ہر چیز کی طہارت اور پاکیزگی کا بڑا خیال رہتا تھا جیسے دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کے کھانے سے بھی پرہیز کرتے تھے جن کی بو ناگوار ہوتی، جیسے: کچے پیاز یا لہسن وغیرہ۔ ۲؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہو جانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے ایسا کیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. . بَابٌ في الْجُنُبِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ
باب: جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَغُنْدَرٌ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو وضو کر لیتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 591]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غسل کی حاجت ہوتی اور (اسی دوران میں) آپ کچھ تناول فرمانا چاہتے تو (کھانے سے پہلے) وضو کر لیتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطہارة 89 (224)، سنن النسائی/الطہارة 163 (256)، (تحفة الأشراف: 15926)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/126، 134، 191، 192، 235، 260، 273)، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صُبَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُنُبِ هَلْ يَنَامُ، أَوْ يَأْكُلُ، أَوْ يَشْرَبُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ (بحالت جنابت) سو سکتا ہے، یا کھا پی سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وہ نماز جیسا وضو کر لے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 592]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی کے متعلق سوال کیا گیا: کیا وہ سو سکتا ہے یا کھا پی سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وہ وضو کر لے، جس طرح نماز کے لیے وضو ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2280) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں شرحبیل ہیں، جن کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا، لیکن سابقہ حدیث ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شرحبيل بن سعد وثقه ابن حبان وضعفه الجمھور الأئمة،قاله الھيثمي (مجمع الزوائد 5/ 130)
وھو ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. . بَابُ: مَنْ قَالَ يُجْزِئُهُ غَسْلُ يَدَيْهِ
باب: کھانے پینے کے لیے جنبی کا صرف ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ يَدَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھو لیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 593]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں (غسل کرنے سے پہلے) کچھ تناول فرمانا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو لیتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (584)، (تحفة الأشراف: 17769) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس سے پہلے والے باب کی حدیث سے بظاہر متعارض ہے، مگر تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ کبھی بیان جواز کے لئے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے،اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ
باب: بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْتِي الْخَلَاءَ فَيَقْضِي الْحَاجَةَ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَأْكُلُ مَعَنَا الْخُبْزَ، وَاللَّحْمَ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَا يَحْجُبُهُ، وَرُبَّمَا قَالَ: لَا يَحْجُزُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ إِلَّا الْجَنَابَةُ".
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء جاتے اور اپنی حاجت پوری فرماتے، پھر واپس آ کر ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت کھاتے، قرآن پڑھتے، آپ کو قرآن پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز نہ روکتی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 594]
جناب عبداللہ بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے (مسائل بیان کرتے ہوئے) فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں جاتے، قضائے حاجت سے فارغ ہو کر باہر تشریف لاتے تو ہمارے ساتھ روٹی گوشت تناول فرماتے اور قرآن کی تلاوت بھی کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کے سوا کوئی چیز قرآن (کی تلاوت) سے مانع نہیں ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 91 (229)، سنن الترمذی/الطہارة 111 (146)، سنن النسائی/الطہارة 171 (266)، (تحفة الأشراف: 10186)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/84، 124) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف ہیں، امام بخاری نے ان کے بارے میں کہا: «لا يتابع على حديثه» ان حدیث کی متابعت نہیں ہوگی)
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صرف جنابت کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں