🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ:" أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاسْتَوَى حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ".
عباس بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو حمید ساعدی، ابواسید ساعدی، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کے لیے «ألله أكبر» کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے)، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 863]
حضرت عباس بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ابو حمید (ساعدی)، حضرت ابو اسید ساعدی، حضرت سہل بن سعد اور حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم (ایک مجلس میں) جمع ہو گئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابو حمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سب سے زیادہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے واقف ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا۔ پھر جب رکوع کے لیے «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا تو رفع الیدین کیا، پھر کھڑے ہوئے تو رفع الیدین کیا، اور سیدھے کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 117 (733، 734)، التشہد 181 (966، 967)، سنن الترمذی/الصلاة 78 (260)، 86 (270)، (تحفة الأشراف: 11892)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے، اس طرح کل چار جگہیں ہوئیں جس میں آپ رفع یدین کرتے تھے، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت، اور تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 864
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو أَيُّوبَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر»  کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے مقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)، اور جب دو سجدوں (یعنی رکعتوں کے بعد) اٹھتے تو اسی طرح کرتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 864]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر (بلند) ہو جاتے۔ جب رکوع کرنا چاہتے تو اسی طرح کرتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو (پھر) اسی طرح کرتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة المسافرین 26 (771)، سنن الترمذی/الصلاة 82 (266)، الدعوات 32 (3421)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 118 (744)، سنن النسائی/الافتتاح 17 (898)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (17)، مسند احمد (1/93، 102، 119)، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1277) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 865
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 865]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5727، ومصباح الزجاجة: 317) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عمر بن ریاح متروک ہے، لیکن کثرت شواہد کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود: 724)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،فيه عمر بن رياح وقد اتفقوا علي تضعيفه‘‘ عمر بن رياح: متروك وكذّبه بعضھم (تقريب: 4896)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 866]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 723، ومصباح الزجاجة: 318) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اسناد صحیح ہے، لیکن دار قطنی نے موقوف کو صواب کہا ہے، اس لئے عبد الوہاب الثقفی کے علاوہ کسی نے اس حدیث کو مرفوعاَ حمید سے روایت نہیں کی ہے، جب کہ حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ اور ابن حبان نے کی ہے، اور البانی صاحب نے بھی صحیح کہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 724)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ:" َأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَقَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، (چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا، پھر جب رکوع کیا تو (بھی) اسی طرح اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا)، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو (بھی) اسی طرح اٹھایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 867]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے دل میں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (توجہ سے) دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔ (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، قبلہ کی طرف منہ کیا، اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر ہو گئے۔ جب آپ نے رکوع کیا تو پھر انہیں اسی طرح اٹھایا جب رکوع سے سر اٹھایا تو اسی طرح انہیں بلند کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، سنن النسائی/الافتتاح 4 (880)، (تحفة الأشراف: 11781)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/315، 318، 318، 319)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1287) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہما دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لئے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 868
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه كَانَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَرَفَعَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ يَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ".
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے جاتے، یا رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بن طہمان (راوی حدیث) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں تک اٹھا کر بتایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 868]
حضرت ابوزبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے اور فرماتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (ابوزبیر رضی اللہ عنہ کے شاگرد) جناب ابراہیم بن طہمان رحمہ اللہ نے (حدیث بیان کرتے وقت) کانوں تک ہاتھ اٹھائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2650، ومصباح الزجاجة: 319) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں رکوع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 869
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يَشْخَصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے، اور نہ نیچا رکھتے بلکہ ان دونوں کے بیچ سیدھا رکھتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 869]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ اونچا رکھتے، نہ اسے (بہت زیادہ) جھکا دیتے بلکہ (ان دونوں حالتوں کے) درمیان میں رکھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16040، ومصباح الزجاجة: 320)، وقد أخرجہ: (مطولاً) صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، مسند احمد (6/31، 110، 171، 194، 281) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس طرح کہ پیٹھ اور گردن برابر رکھتے، اور اسی طرح سے بالاجماع رکوع کرنا سنت ہے، اور اہل حدیث کے نزدیک یہ تعدیل ارکان میں داخل ہے، اور نماز میں تعدیل ارکان فرض ہے، یہی قول ائمہ ثلاثہ اور ابویوسف کا بھی ہے، لیکن ابوحنیفہ اور محمد رحمہما اللہ نے اس کو واجب کہا ہے، اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے، نماز کے آداب و شروط اور سنن کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ بہت ساری نماز پڑھی جائیں جن میں سنت کا اہتمام نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو نیک عمل کی توفیق دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
ابومسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز درست نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 870]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رکوع اور سجدے میں کمر سیدھی نہیں کرتا اس کی نماز درست نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 148 (855)، سنن الترمذی/الصلاة 81 (265)، سنن النسائی/الافتتاح 88 (1028)، التطبیق 54 (1112)، (تحفة الأشراف: 9995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 78 (1366) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ تعدیل ارکان نماز میں فرض ہے، اور یہی قول ہے اہل حدیث کا اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نفی کمال پر محمول ہے، اور ان کا یہی قاعدہ ہے، وہ اکثر حدیثوں کو جو اس مضمون کی آئی ہیں نفی کمال پر ہی محمول کرتے ہیں، جیسے «لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب» وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ: خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، فَلَمَحَ بِمُؤْخِرِ عَيْنِهِ رَجُلًا لَا يُقِيمُ صَلَاتَهُ، يَعْنِي: صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی قوم کے نمائندہ بن کر آئے تھے، وہ کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے کنکھیوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی نماز نہیں ہو گی جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 871]
حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ جو اپنے قبیلے کے وفد میں شامل تھے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ (اپنے علاقے سے) روانہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کے کنارے سے ایک آدمی کو دیکھا کہ رکوع اور سجدہ صحیح ادا نہیں کر رہا تھا، یعنی کمر سیدھی نہیں کر رہا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو رکوع اور سجدہ میں کمر کو سیدھی نہیں کرتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10020، ومصباح الزجاجة: 321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ سَوَّى ظَهْرَهُ حَتَّى لَوْ صُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ لَاسْتَقَرَّ".
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 872]
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تھے تو کمر اس قدر برابر کرتے تھے کہ اگر کمر پر پانی ڈالا جائے تو ٹھہر جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11739، ومصباح الزجاجة: 322) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں طلحہ بن زید، عثمان بن عطاء، اور ابراہیم بن محمد ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ بتحقیق، د؍ عوض الشہری، و مجمع الزوائد: 2/ 123)
وضاحت: ۱ ؎: سبحان اللہ، مکمل نماز اس کو کہتے ہیں، یہ تو ظاہری آداب ہیں اور دل کے خشوع و خضوع اور اطمینان اس کے علاوہ ہیں، بڑا ادب یہ ہے کہ نماز میں ادھر ادھر کے دنیاوی خیالات نہ آئیں، اور نمازی یہ سمجھے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، اگر یہ کیفیت نہ طاری ہو سکے تو یہی سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کی ہر ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
طلحة بن زيد: متروك،قال أحمد وعلي وأبو داود: كان يضع (تقريب: 3020)
راشد: مجھول
وعبد اللّٰه بن عثمان بن عطاء لين الحديث (تقريب: 1858،3469)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں