سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ
باب: نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 813
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ" يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 813]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے قراءت شروع کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 89 (743)، صحیح مسلم/الصلاة 13 (399)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (782)، سنن الترمذی/الصلاة 68 (246)، سنن النسائی/الافتتاح 20 (903، 904)، (تحفة الأشراف: 1142، 1435)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 6 (30)، مسند احمد (3/101، 111، 114، 183)، سنن الدارمی/الصلاة 34 (1276) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَبَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 814]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کی ابتداء ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15445، ومصباح الزجاجة: 303) (صحیح)» (سند میں أبو عبد اللہ مجہول الحال ہیں، اور بشر بن رافع متکلم فیہ، لیکن اصل حدیث کثرت طرق و شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: وَقَلَّمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا مِنْهُ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقْرَأُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، فَقَالَ:" أَيْ بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ رَجُلًا مِنْهُمْ يَقُولُهُ، فَإِذَا قَرَأْتَ فَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو، انہوں نے مجھے «بسم الله الرحمن الرحيم» (بآواز) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: بیٹے! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم الله الرحمن الرحيم» بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو «الحمد لله رب العالمين» سے کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 815]
حضرت یزید بن عبداللہ بن مغفل رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ) کے بارے میں فرمایا: ”میں نے اسلام میں بدعت سے نفرت کرنے میں ان سے سخت افراد شاذ و نادر ہی دیکھے ہیں۔“ انہوں نے مجھے (نماز میں) ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] پڑھتے سنا، تو فرمایا: ”بیٹا! بدعت سے اجتناب کرو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں بھی نمازیں پڑھی ہیں اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی، میں نے ان میں سے کسی کو ایسے پڑھتے نہیں سنا، اس لیے جب تم قراءت کرو تو کہو: ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 66 (244)، سنن النسائی/الافتتاح 22 (909)، (تحفة الأشراف: 9667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/85، 5/54، 55) (ضعیف)» (سند میں یزید بن عبد اللہ بن مغفل مجہول الحال ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (244)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
إسناده ضعيف
ترمذي (244)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
5. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 816
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10".
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں یہ آیت پڑھتے سنا: ” ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ﴾ [سورة ق: 10] “ ”اور ہم نے کھجور کے بلند و بالا درخت پیدا کیے، جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن الترمذی/الصلاة 112 (306)، سنن النسائی/الافتتاح 43 (951)، (تحفة الأشراف: 11087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/322) سنن الدارمی/الصلاة 66 (1235) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ آیت سورۃ ق (۱۰) میں ہے، مطلب یہ ہے کہ سورۃ (ق) اور اس کے برابر سورتیں فجر میں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَصْبَغَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ:" صَلَّيْنا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فكَأَنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ: فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ فجر میں: «فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس» ۱؎ کی قراءت فرما رہے تھے، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 817]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ فجر کی نماز میں قراءت فرما رہے تھے۔ (مجھے وہ تلاوت اس طرح یاد ہے) گویا میں اب بھی آپ سے یہ آیات سن رہا ہوں: ﴿فَلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَـــوَارِ الْكُنَّسِ﴾ [سورة التكوير: 15، 16] ”میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے، چلنے والے، چھپنے ستاروں کی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 135 (817)، (تحفة الأشراف: 10715)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 35 (456)، سنن النسائی/ الافتتاح 44 (952)، مسند احمد (4/306، 307)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1337) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سورۃ تکویر کی قراءت فرما رہے تھے یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَهُ، أَبُو الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ (۶۰) آیات سے سو (۱۰۰) آیات تک پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 818]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 35 (647)، سنن النسائی/المواقیت 2 (496)، 16 (526)، 20 (531)، الافتتاح 42 (949)، (تحفة الأشراف: 11607)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (599)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (398)، مسند احمد (4/420، 421، 423، 424، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1338) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سورۃ (ق) پڑھی جس میں یہ آیت ہے، یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 819
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا، فَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقْصِرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 819]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو ظہر کی پہلی رکعت میں طویل قراءت کرتے تھے، اور دوسری رکعت میں (اس سے) کم قراءت کرتے تھے۔ صبح کی نماز بھی اسی طرح پڑھاتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12116، 12140)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762)، 107 (776)، 109 (778)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (799)، سنن النسائی/الافتتاح 56 (975)، مسند احمد (4/383، 5/295، 300، 305، 307، 30، 310، 311)، سنن الدارمی/الصلاة 63 (1330) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلی رکعت میں قراءت کو طول دینا بہ نسبت دوسری رکعت کے مستحب ہے، اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو جماعت مل جائے، اور پہلی رکعت نہ چھوٹے، اور بعضوں نے کہا یہ نماز فجر کے لیے خاص ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْمُؤْمِنُونَ فَلَمَّا أَتَى عَلَى ذِكْرِ عِيسَى أَصَابَتْهُ شَرْقَةٌ، فَرَكَعَ"، يَعْنِي: سَعْلَةً.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں «سورۃ مومنون» کی تلاوت فرمائی، جب اس آیت پہ پہنچے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے، تو آپ کو کھانسی آ گئی، اور آپ رکوع میں چلے گئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 820]
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں سورة المؤمنون تلاوت فرمائی، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی تو آپ رکوع میں چلے گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 106 (774 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن ابی داود/الصلاة 89 (649)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، (تحفة الأشراف: 5313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس باب کی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدار قراءت مختلف بتائی گئی ہے، جس سے حسب موقعہ پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے، آخری حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ پوری سورۃ کا پڑھنا ضروری نہیں، پہلی رکعت میں قراءت طویل کرنا، اور دوسری میں ہلکی کرنا بھی سنت رسول ہے، اور ظاہری فائدہ اس کا یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت رکعت فوت ہونے سے بچ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
6. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» (سورۃ سجدۃ)، اور «هل أتى على الإنسان» (سورۃ الدہر) پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 821]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں ﴿الٓمَّ تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1] اور ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 10 (879)، سنن ابی داود/الصلاة 218 (1074، 1075)، سنن الترمذی/الصلاة 258 (520)، سنن النسائی/الافتتاح 47 (957)، الجمعة 38 (1422)، (تحفة الأشراف: 5613)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/226، 307، 328، 334) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کو نماز فجر میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے «كان يقرأ» کے صیغے سے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس کی تخریج طبرانی نے کی ہے، اس پر آپ کی مداومت کی تصریح آئی ہے، اس میں شاید یہ حکمت ہو گی کہ ان دونوں سورتوں میں انسان کی پیدائش، خاتمہ، آدم، جنت اور جہنم کا ذکر ہے، اور قیامت کا حال ہے، اور یہ سب باتیں جمعہ کے دن ہونے والی ہیں، اور کچھ ہو چکی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 822]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1] اور ﴿هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3945، ومصباح الزجاجة: 304) (صحیح)» (سند میں حارث بن نبہان ضعیف ہیں، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث پہلے گزری)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح