🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں  «قل يا أيها الكافرون»  اور  «قل هو الله أحد»  پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 833]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں ﴿قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] تلاوت کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2722)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 192 (417)، سنن النسائی/الافتتاح 68 (993)، مسند احمد (2/94، 95، 99) (شاذ)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث شاذ ہے، اس لئے کہ محفوظ اور ثابت حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ا ن دونوں سورتوں کو ”مغرب کی سنت“ میں پڑھتے تھے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 850)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث شاذ یعنی ضعیف ہے، اوپر گزرا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «والمرسلات» اور سورۃ «والطور» جیسی درمیانی سورتیں پڑھی ہیں، مغرب میں ہمیشہ چھوٹی سورتوں کو ہی پڑھنا درست نہیں، بقول علامہ ابن القیم یہ مروان اور اس کے متبعین کی سنت ہے، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أنه كان يقرأ بهما في سنة المغرب
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال ابن عدي: ’’ أحمد بن بديل يروي عن حفص بن غياث وغيره مناكير … و ھو ممن يكتب حديثه مع ضعفه‘‘
(الكامل 189/1،190)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ" يَقْرَأُ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والتين والزيتون»  پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 834]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ عشاء ادا کی، انہوں نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھتے سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 100 (767)، 102 (769)، تفسیر التین 1 (4956)، التوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن ابی داود/الصلاة 275 (1221)، سنن الترمذی/الصلاة 115 (310)، سنن النسائی/الافتتاح 72 (1001)، (تحفة الأشراف: 1791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 286، 302) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، مِثْلَهُ قَالَ: فَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ صَوْتًا أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ.
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں ہے کہ براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 835]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے مذکورہ بالا ارشاد فرما کر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز یا اچھی قراءت کرنے والا کوئی انسان نہیں سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 102 (769)، التوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن ابی داود/الصلاة 275 (1221)، سنن الترمذی/الصلاة 115 (310)، سنن النسائی/الافتتاح 72 (1001)، (تحفة الأشراف: 1791)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 5 (7)، مسند احمد (4/298، 302) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کمالات اور صفات انسانی اور جمال ظاہری اور باطنی کے مجموعہ تھے، حسن صورت اور حسن سیرت دونوں میں بے نظیر تھے، اور حسن خلق ان سب پر طرہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ب: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ سورتیں پڑھا کرو: «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى»  اور  «اقرأ بسم ربك» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 836]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے مقتدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (ایسی سورتیں) پڑھا کرو: ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1] ، ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن النسائی/الإمامة 39 (832)، 41 (836)، الافتتاح 63 (985)، 70 (998)، (تحفة الأشراف: 2912)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، الأدب 74 (6106)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (600)، 127 (790)، مسند احمد (3/299، 308، 369) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عشاء میں یہ سورتیں اور ان کے ہم مثل سورتیں پڑھنی چاہئے، جیسے سورۃ «بروج» ، سورۃ «انشقاق» ، سورۃ «طارق» ، سورۃ «غاشیہ» ، سورۃ «فجر» اور سورۃ «لم یکن» یہ سورتیں حدیث میں مذکور سورتوں کے قریب قریب ہیں، عشاء میں ایسی ہی سورتیں پڑھنا سنت ہے تاکہ مقتدیوں پر بوجھ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: امام کے پیچھے قرات کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 837]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 95 (756)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (394)، سنن ابی داود/الصلاة 136 (822)، سنن الترمذی/الصلاة 69 (247)، 115 (311)، سنن النسائی/الافتتاح 24 (911)، (تحفة الأشراف: 5110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/314، 322)، سنن الدارمی/الصلاة 36 (1278) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ"، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ:" يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص و ناتمام ہے، ابوالسائب کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا پھر بھی سورۃ فاتحہ پڑھوں) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 838]
حضرت ابو سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن (سورہ فاتحہ) نہ پڑھی تو وہ (نماز) ناقص ہے، نامکمل ہے۔ (حضرت ابو سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ! کبھی میں امام کے پیچھے بھی ہوتا ہوں (تو پھر بھی پڑھوں؟) انہوں نے میرے بازو کو دبایا اور فرمایا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں (آہستہ) پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن ابی داود/الصلاة 135 (821)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة (2953)، سنن النسائی/الافتتاح 23 (910)، (تحفة الأشراف: 14935)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 9 (39)، مسند احمد (2/241، 250، 285، 290، 457، 478، 487) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی بہرحال ہر شخص کو ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا چاہئے، امام ہو یا مقتدی، سری نماز ہو یا جہری، اہل حدیث کا یہی مذہب ہے، اور دلائل کی روشنی میں یہی قوی ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں  «القراءۃ خلف الإمام» نامی ایک رسالہ تحریر فرمایا ہے، اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے، ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مقتدی کسی نماز میں قراءت نہ کرے نہ سری نماز میں نہ جہری نماز میں اور دلیل ان کی یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا» جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو (سورة الأعراف: 204)، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے سورۃ فاتحہ کا نہ پڑھنا ثابت نہیں ہوتا، اس لئے کہ مقتدی کو آہستہ سے سورۃ فاتحہ پڑھنا چاہئے جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اپنے دل میں پڑھ لے، اور یہ مثل خاموش رہنے کے ہے، خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آواز بلند نہ کرو، تاکہ امام کی قراءت میں حرج واقع نہ ہو، اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب تم امام کے پیچھے ہو تو سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھو کیونکہ جو آدمی سورۃ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، تنویر العینین میں ہے کہ جو بھی صورت ہو اور جس طرح بھی ہو بہر حال سورۃ فاتحہ کا پڑھ لینا ہی بہتر ہے، اور یہی مقتدی کے لئے مناسب ہے، اور بیہقی نے یزید بن شریک سے روایت کی کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے پوچھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سورۃ فاتحہ پڑھا کرو، یزید نے کہا: اگرچہ جہری نماز میں ہو؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ جہری نماز میں ہو، احناف کی دوسری دلیل یہ حدیث ہے جس میں آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:  «مالی انازع القرآن» ، اور اس کا جواب یہ ہے کہ منازعت (چھینا جھپٹی) اسی وقت ہو گی جب مقتدی بآواز بلند قراءت کرے، اور آہستہ سے صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لینے میں کسی منازعت کا اندیشہ نہیں، اور اسی حدیث میں یہ وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ فاتحہ کے علاوہ اور کچھ نہ پڑھو، اور ممکن ہے کہ مقتدی امام کے سکتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھے، پس آیت اور حدیث دونوں کی تعمیل ہو گئی، اور کئی ایک حنفی علماء نے اس کو اعدل الاقوال کہا ہے، صحیح اور مختار مذہب یہ ہے کہ مقتدی ہر نماز میں جہری ہو یا سری سورۃ فاتحہ ضرور پڑھے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، خلاصہ کلام یہ کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے، خواہ وہ فرض ہو یا نفل اور خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے، امام ہو یا مقتدی ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی کیونکہ «لا» نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے، اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے لیے اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو، اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ از روئے شرع نماز مخصوص اقوال و افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہذا بعض یا کل کی نفی سے ذات کی نفی ہو جائے گی، اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہو سکتی ہو تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو، اور وہ صحت کی نفی ہے نہ کہ کمال کی، اس لیے کہ صحت اور کمال ان دونوں مجازوں میں سے صحت ذات سے اقرب اور کمال ذات سے ابعد ہے اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلے میں ذات سے ابعد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله»  اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 839]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو فرض اور نفل نماز کی ہر رکعت میں ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ﴾ [سورة الفاتحة: 2] اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت نہیں پڑھتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4359، ومصباح الزجاجة: 306) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو سفیان طریف بن شہاب السعدی ضعیف ہیں، اصل حدیث صحیح مسلم میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابو داود: 777)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو سفيان السعدي طريف بن شهاب: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 840]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد مبارک سنا: ہر وہ نماز جس میں ام الکتاب (سورہ فاتحہ) نہ پڑھی جائے وہ «خِدَاجٌ» (ناقص) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16181، ومصباح الزجاجة: 307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/142، 275) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح اور ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّلْعِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے، ناقص۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 841]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی وہ ناقص ہے، وہ ناقص ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8694، ومصباح الزجاجة: 309) (ط. الجامعة الإسلامیة)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/204، 215) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ایک رکن چھوٹ گیا پس معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَقْرَأُ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ، فَقَالَ:" سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ هَذَا".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا: اب تو قراءت واجب ہو گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 842]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے ایک شخص نے سوال کیا: کیا میں اس وقت بھی قراءت کیا کروں جب امام قراءت کر رہا ہو؟ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یہ تو واجب ہوگئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10944، ومصباح الزجاجة: 308)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 31 (924)، مسند احمد (1/448) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
معاوية بن يحيي الصدفي أبو روح: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں