سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ
باب: مریض کی عیادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1433
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتَّةٌ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں: ۱۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، ۲۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، ۳۔ جب وہ چھینکے اور «الحمد لله» کہے تو جواب میں «يرحمك الله» کہے، ۴۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت (بیمار پرسی) کرے، ۵۔ جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے، ۶۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1433]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دستور کے مطابق مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ جب اس سے ملے تو سلام کہے، جب وہ اسے دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب اسے چھینک آئے تو اسے دعا دے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پرسی کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے اور اس کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 1 (2736)، (تحفة الأشراف: 10044)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/88، 89، 2/372، 412)، سنن الدارمی/الاستئذان 5 (2675) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف هو صحيح دون زيادة وحب وهي ثابتة في حديث آخر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2736)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
إسناده ضعيف
ترمذي (2736)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ: يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ".
ابومسعود (عقبہ بن عمرو) انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب اسے چھینک آئے اور وہ «الحمدلله» کہے تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1434]
حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے ذمے مسلمان کے چار کام ہیں: جب اسے چھینک آئے تو اسے دعا دے، جب وہ اسے دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو (اس کے جنازے میں) حاضر ہو اور جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9979، ومصباح الزجاجة: 505)، مسند احمد (5/272) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1435
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ: رَدُّ التَّحِيَّةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازہ میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا، اور جب چھینکنے والا «الحمد لله» کہے، تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1435]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں مسلمان کے مسلمان پر حق میں شامل ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں حاضر ہونا، بیمار کی عیادت کرنا اور جب چھینکنے والا اللہ کی تعریف کرے ( «الْحَمْدُ لِلّٰہِ» کہے) تو اسے دعا دینا ( «یَرْحَمُکَ اللّٰہُ» کہنا)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15092، ومصباح الزجاجة: 506)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز2 (1240)، صحیح مسلم/السلام 3 (2162)، سنن النسائی/الجنائز 52 (1940)، مسند احمد (2/321، 332، 357، 372، 388) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1436
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاشِيًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنَا فِي بَنِي سَلَمَةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں (مدینہ سے دور) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1436]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے جب کہ میں بنو سلمہ کے محلے میں تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 45 (194)، التفسیر 4 (4577)، المرضی 5 (5651)، الفرائض 1 (6723)، الاعتصام 8 (3015)، صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616)، سنن ابی داود/الجنائز 2 (2886)، سنن الترمذی/الفرائض 7 (2097)، تفسیرالقرآن 5 (3015)، سنن النسائی/الطہارة 103 (138)، (تحفة الأشراف: 3028)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 56 (760) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2728) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1437
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت اس کی بیماری کے تین دن گزر جانے کے بعد فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1437]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین دن کے بعد ہی بیمار کی عیادت فرماتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 718، و مصباح الزجاجة: 507) (موضوع)» (اس میں مسلمہ بن علی متروک اور منکر الحدیث ہے، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 145)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
مسلمة بن علي: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
إسناده ضعيف جدًا
مسلمة بن علي: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
حدیث نمبر: 1438
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1438]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اسے زندگی کی امید دلاؤ، اس سے (تقدیر کا فیصلہ تو) کچھ نہیں ٹلتا لیکن بیمار کا دل خوش ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 35 (087)، (تحفة الأشراف: 4292) (ضعیف)» (موسیٰ بن محمد اس سند میں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 182)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2087)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
إسناده ضعيف
ترمذي (2087)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
حدیث نمبر: 1439
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا، فَقَالَ:" مَا تَشْتَهِي؟، قَالَ: أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا، فَلْيُطْعِمْهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا: ”کیا کھانے کو جی چاہتا ہے؟“ اس نے کہا: گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1439]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو اس سے فرمایا: ”تمہارا کس چیز کو جی چاہتا ہے؟“ اس نے کہا: گندم کی روٹی کو جی چاہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کے پاس گندم کی روٹی ہو، وہ اپنے بھائی کے پاس بھیجے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کا مریض کسی چیز کی خواہش کرے تو وہ اسے کھلا دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6224، ومصباح الزجاجة: 508) (ضعیف)» (اس میں صفوان بن ھبیرہ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث (3440) نمبر پر آ رہی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3440)
صفوان بن هبيرة: لين الحديث (تقريب: 2943)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3440)
صفوان بن هبيرة: لين الحديث (تقريب: 2943)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
حدیث نمبر: 1440
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ:" أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟ أَتَشْتَهِي كَعْكًا؟، قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَبُوا لَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے، تو پوچھا: ”کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے؟ کیا کیک کھانا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو لوگوں نے اس کے لیے کیک منگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1440]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کسی چیز کو جی چاہتا ہے؟ کیا کعک کی خواہش ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں“، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے کعک (ایک خاص قسم کی روٹی) منگوا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1683، ومصباح الزجاجة: 509) (ضعیف)» (اس میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیز 3441 نمبر پر یہ حدیث آ رہی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3441)
يزيد بن أبان: زاهد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3441)
يزيد بن أبان: زاهد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
حدیث نمبر: 1441
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ، فَمُرْهُ أَنْ يَدْعُوَ لَكَ، فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1441]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تو کسی مریض کے پاس جائے تو اسے کہہ کہ تیرے لیے دعا کرے کیوں کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10649، ومصباح الزجاجة: 510) (ضعیف جدًا)» (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ میمون بن مہران نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ميمون بن مهران لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه (تحفة الأشراف: 110/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
إسناده ضعيف
ميمون بن مهران لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه (تحفة الأشراف: 110/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
2. بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ عَادَ مَرِيضًا
باب: مریض کی عیادت کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1442
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَتَى أَخَاهُ الْمُسْلِمَ عَائِدًا، مَشَى فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1442]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس عیادت کے لیے آتا ہے تو وہ مریض کے پاس آ کر بیٹھنے تک جنت کے پھل چنتا آتا ہے۔ جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو اس پر رحمت سایہ فگن ہو جاتی ہے۔ اگر (عیادت) صبح کے وقت ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں اور اگر شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10211، ومصباح الزجاجة: 511)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 7 (3098، 3099)، سنن الترمذی/الجنائز 2 (969)، مسند احمد (1/97، 120) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3099)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3099)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428