سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَفَنِ
باب: کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟
حدیث نمبر: 1473
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین کفن جوڑا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1473]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین کفن جوڑا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 35 (3156)، (تحفة الأشراف: 5117) (ضعیف)» (اس کی سند میں أبونصر اور نسی مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی تہبند اور چادر۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1474]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی اپنے بھائی کے معاملات کا نگران بنے تو اسے اچھا کفن دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 19 (995)، (تحفة الأشراف: 12125) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اچھے کفن سے مراد کپڑے کی صفائی اور سفیدی ہے، قیمتی کپڑا مراد نہیں، اس لئے کہ قیمتی کفن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
13. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّظَرِ إِلَى الْمَيِّتِ إِذَا أُدْرِجَ فِي أَكْفَانِهِ
باب: میت کو کفن میں لپیٹتے وقت دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُدْرِجُوهُ فِي أَكْفَانِهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ وَبَكَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1475]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کے کفن میں (پوری طرح) نہ لپیٹنا، جب تک میں اسے دیکھ نہ لوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آ کر ان پر جھک گئے اور رو پڑے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1708، ومصباح الزجاجة: 525) (ضعیف)» (اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ یوسف بن ابراہیم منکر الحدیث ہیں، بلکہ یہ صاحب عجائب کے نام سے مشہور ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو شيبة يوسف بن إبراهيم: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
إسناده ضعيف
أبو شيبة يوسف بن إبراهيم: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
14. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّعْيِ
باب: موت کی خبر دینے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1476
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا مَاتَ لَهُ الْمَيِّتُ، قَالَ: لَا تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ:" يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ".
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» ۱؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1476]
بلال بن یحییٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے اقارب میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو وہ فرماتے: ”کسی کو اس کی اطلاع نہ کرنا، میں ڈرتا ہوں کہ یہ بھی «النَّعْيُ» ”اعلان“ میں شامل نہ ہو۔ میں نے اپنے دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «النَّعْيِ» ”موت کے اعلان“ سے منع کرتے سنا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 12 (986)، (تحفة الأشراف: 3303)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 406) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: «نعی» : کسی کے مرنے کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، جس «نعی» کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ «نعی» ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے، جب کوئی مر جاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (986)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
إسناده ضعيف
ترمذي (986)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
15. بَابُ: مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ
باب: جنازہ میں شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1477
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، فَإِنْ تَكُنْ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1477]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو جلدی (قبرستان کی طرف) لے جایا کرو، اگر میت نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف لے جا رہے ہو، اگر دوسری صورت ہے تو ایک بری چیز کا بوجھ اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315)، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، سنن ابی داود/الجنائز50 (3181)، سنن الترمذی/الجنائز30 (1015)، سنن النسائی/الجنائز 44 (1911)، (تحفة الأشراف: 13124)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 16 (56)، مسند احمد (2/240) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1478
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ :" مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً، فَلْيَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهَا، فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ فَلْيَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ".
ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو (باری باری) چارپائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لیے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پر اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1478]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو شخص جنازہ اٹھائے (کندھا دے) اسے چاہیے کہ چارپائی چاروں طرف سے (باری باری) اٹھائے، کیونکہ یہ سنت ہے۔ اس کے بعد اگر چاہے تو مزید ثواب حاصل کر لے، چاہے تو رہنے دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9612، ومصباح الزجاجة: 526) (ضعیف)» (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابو عبیدة (عامر) نے اپنے والد سے کوئی حدیث نہیں سنی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ منقطع،فإن أبا عبيدة لم يسمع من أبيه،قاله أبو حاتم و أبو زرعة وغيرھما ‘‘ انظر الحديث السابق (615)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ منقطع،فإن أبا عبيدة لم يسمع من أبيه،قاله أبو حاتم و أبو زرعة وغيرھما ‘‘ انظر الحديث السابق (615)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
حدیث نمبر: 1479
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً يُسْرِعُونَ بِهَا"، قَالَ:" لِتَكُنْ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اطمینان سے چلو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1479]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ دیکھا جسے بڑی تیزی سے لے جا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اطمینان سے چلو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9129، ومصباح الزجاجة: 527)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/403، 406، 412) (منکر)» (اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث کے معارض ہے، اس لئے یہ حدیث منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
إسناده ضعيف
ليث: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
حدیث نمبر: 1480
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا رُكْبَانًا عَلَى دَوَابِّهِمْ فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا تَسْتَحْيُونَ أَنَّ مَلَائِكَةَ اللَّهِ يَمْشُونَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، وَأَنْتُمْ رُكْبَانٌ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: ”تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1480]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے کے ساتھ کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار ہو کر جاتے دیکھا تو فرمایا: ”کیا تم لوگ حیا نہیں کرتے کہ اللہ کے فرشتے تو پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو؟“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 28 (1012)، (تحفة الأشراف: 2081)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز48 (3177) (ضعیف)» (اس کی سند میں ابو بکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، اور بقیہ بن ولید مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1012)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
إسناده ضعيف
ترمذي (1012)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
حدیث نمبر: 1481
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ، وَالْمَاشِي مِنْهَا حَيْثُ شَاءَ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص (آگے پیچھے، دائیں، بائیں) جہاں چاہے چلے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1481]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل جہاں چاہے (آگے، پیچھے، دائیں یا بائیں)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 49 (3180)، سنن الترمذی/الجنائز 42 (1031)، سنن النسائی/الجنائز 55 (1944)، (تحفة الأشراف: 11490)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/247، 248، 249، 252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
16. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ
باب: جنازہ کے آگے چلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1482
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَال:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1482]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 49 (1179)، سنن الترمذی/الجنائز 26 (1007)، سنن النسائی/الجنائز 56 (1946)، (تحفة الأشراف: 6820)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 3 (8)، مسند احمد (2/8، 122) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنازہ کے ساتھ جنازہ سے قریب ہو کر آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرح سے چلنا جائز ہے، البتہ پیچھے چلنا افضل ہے، اور سوار کے لئے آگے چلنا صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح