سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: صَدَقَةِ الْبَقَرِ
باب: گائے بیل کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، أَوْ تَبِيعَةً".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں ایک «مسنة» لوں، اور ۳۰ تیس گائے میں ایک «تبیع» یا «تبیعہ» لوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 4 (1577)، سنن الترمذی/الزکاة5 (623)، سنن النسائی/الزکاة 8 (2452)، (تحفة الأشراف: 11363)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 12 (24)، مسند احمد (5/230، 233، 247)، سنن الدارمی/الزکاة 5 (1663) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مسنة» ایسی گائے جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں داخل ہو گئی ہو۔ اور اس کے سامنے والے دانت گر کر دوبارہ نکل آئے ہوں۔
۲؎: «تبیع» گائے کا وہ بچھڑا جو ایک سال پورا کرکے دوسرے میں داخل ہو گیا ہو۔
۳؎: «تبیعہ» گائے کی وہ بچھڑی جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں داخل ہو گئی ہو۔
۲؎: «تبیع» گائے کا وہ بچھڑا جو ایک سال پورا کرکے دوسرے میں داخل ہو گیا ہو۔
۳؎: «تبیعہ» گائے کی وہ بچھڑی جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں داخل ہو گئی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1578) ترمذي (623) نسائي (2452)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1578) ترمذي (623) نسائي (2452)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
حدیث نمبر: 1804
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ خَصِيفٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ، أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیس گائے میں ایک «تبیع» یا ایک «تبیعہ» اور چالیس میں ایک «مسنة» ہے“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 5 (622)، (تحفة الأشراف: 9606)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/411) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (622)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
إسناده ضعيف
ترمذي (622)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
13. بَابُ: صَدَقَةِ الْغَنَمِ
باب: بکریوں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1805
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدْتُ فِيهِ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ، إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ، وَلَا هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: ”چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ۳۰۰ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: ”متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے“، اور اس میں یہ بھی پایا: ”زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 4 (1568)، سنن الترمذی/الزکاة 4 (621)، (تحفة الأشراف: 6837)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 11 (23)، مسند احمد (2/14، 15)، سنن الدارمی/الزکاة 4 (1666) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1806
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی زکاۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں میں لی جائے گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6734، ومصباح الزجاجة: 645)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/184) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1779)»
وضاحت: ۱؎: ہر ایک اپنے جانوروں کو اپنی بستی میں پانی پلاتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا ان کی بستیوں میں جا کر زکاۃ وصول کرے گا یہ نہ ہو گا کہ وہ اپنی بستیوں کے باہر زکاۃ دینے کے لئے بلائے جائیں، یہ بھی رعایا پر ایک شفقت ہے، پانی کے گھاٹ پر جانوروں کے زکاۃ وصول کرنے کا محصل کو فائدہ یہ بھی ہو گا کہ وہاں تمام ریوڑ اور ہر ریوڑ کے تمام جانور پانی پینے کے لیے جمع ہوتے ہیں، گنتی میں آسانی رہتی ہے، جب کہ چراگاہوں میں جانور بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور وہاں ان کا شمار کرنا مشکل ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1807
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَكُلُّ خَلِيطَيْنِ يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَيْسَ لِلْمُصَدِّقِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَيْسٌ، إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور جو جانور اکٹھے ہوں انہیں زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہ کیا جائے، اور نہ ہی جو الگ الگ ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے، اور اگر مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں اپنے اپنے حصہ کے موافق زکاۃ پوری کریں ۱؎، اور زکاۃ میں عامل زکاۃ کو بوڑھا، عیب دار اور جفتی کا مخصوص بکرا نہ دیا جائے، الا یہ کہ عامل زکاۃ خود ہی لینا چاہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8545) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں، اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں ہیں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں،زکاۃ وصول کرنے والا آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجیے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے، اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں، اور دو سو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالیسے بنتے ہیں جن میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہو گی اور ۲۵ چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر ہو گی، اب اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپئے واپس کرے گا، اور اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے دس بکریاں لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ ادا کرے گا۔
۲؎: یعنی جب کسی مصلحت کی وجہ سے محصل (زکاۃ وصول کرنے والا) کسی عیب دار یا بوڑھے یا نر جانور کو لینا چاہے تو صاحب مال پر کوئی زور نہیں کہ وہ دے ہی دے اور محصل کی مرضی کے بغیر اس قسم کے جانور کو زکاۃ میں دینا منع ہے، مصلحت یہ ہے کہ مثلاً عیب دار جانور قوی اورموٹا ہو، دودھ کی زیادہ توقع ہو، یا زکاۃ کے جانور سب مادہ ہوں، ان میں نر کی ضرورت ہو تو نر قبول کرے یا بوڑھا جانور ہو لیکن عمدہ نسل کا ہو تو اس کو قبول کرے۔ «واللہ اعلم» ۔
۲؎: یعنی جب کسی مصلحت کی وجہ سے محصل (زکاۃ وصول کرنے والا) کسی عیب دار یا بوڑھے یا نر جانور کو لینا چاہے تو صاحب مال پر کوئی زور نہیں کہ وہ دے ہی دے اور محصل کی مرضی کے بغیر اس قسم کے جانور کو زکاۃ میں دینا منع ہے، مصلحت یہ ہے کہ مثلاً عیب دار جانور قوی اورموٹا ہو، دودھ کی زیادہ توقع ہو، یا زکاۃ کے جانور سب مادہ ہوں، ان میں نر کی ضرورت ہو تو نر قبول کرے یا بوڑھا جانور ہو لیکن عمدہ نسل کا ہو تو اس کو قبول کرے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
14. بَابُ: مَا جَاءَ فِي عُمَّالِ الصَّدَقَةِ
باب: زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 4 (1585)، سنن الترمذی/الزکاة 19 (646)، (تحفة الأشراف: 847) (حسن)» (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1413)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1585) ترمذي (642)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1585) ترمذي (642)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
حدیث نمبر: 1809
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”حق و انصاف کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، جب تک کہ لوٹ کر اپنے گھر واپس نہ آ جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج والإمارة 7 (2936)، سنن الترمذی/الزکاة 18 (645)، (تحفة الأشراف: 3583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/143، 465، 4/143) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2604)»
وضاحت: ۱؎: حق و انصاف سے کام لے یعنی شرع کے موافق رحم، شفقت اور رضامندی کے ساتھ زکاۃ کی وصولی کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1810
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ تَذَاكَرَ هُوَ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ :" أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَذْكُرُ غُلُولَ الصَّدَقَةِ، أَنَّهُ مَنْ غَلَّ مِنْهَا بَعِيرًا، أَوْ شَاةً، أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ؟"، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: بَلَى.
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا: ”جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرا لی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا“؟ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں (ہاں، میں نے سنا ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10481، ومصباح الزجاجة: 646)، وقد أخرجہ: مسند احمد3/498) (صحیح)» (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2354)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ ، اسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ، قِيلَ لَهُ، أَيْنَ الْمَالُ؟، قَالَ: وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي، أَخَذْنَاهُ مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعْنَاهُ حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهُ.
عمران رضی اللہ عنہ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 22 (1625)، (تحفة الأشراف: 10834) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کر کے آپ کے پاس لانا ضروری نہ تھا، بلکہ زکاۃ جن لوگوں سے لی جائے انہی کے فقراء و مساکین میں بانٹ دینا بہتر ہے، البتہ اگر دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند اور محتاج ہوں تو ان کو دینا چاہئے، پس میں نے سنت کے موافق جن لوگوں سے زکاۃ لینی چاہی تھی، ان سے لی اور وہیں فقیروں اور محتاجوں کو بانٹ دی، آپ کے پاس کیا لاتا؟ کیا آپ نے مجھ کو مال کے یہاں اپنے پاس لانے پر مقرر کیا تھا؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
15. بَابُ: صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ
باب: گھوڑے اور غلام کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1812
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 45 (1463)، 46 (1464)، صحیح مسلم/الزکاة 2 (982)، سنن ابی داود/الزکاة 11 (1594، 1595)، سنن الترمذی/الزکاة 8 (628)، سنن النسائی/الزکاة 16 (2369)، (تحفة الأشراف: 14153)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 23 (37)، مسند احمد (2/242، 249، 254، 279، 410، 420، 432، 454، 469، 470)، سنن الدارمی/الزکاة 10 (1672) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو غلام، لونڈی اور گھوڑوں میں زکاۃ کو واجب نہیں کہتے، اور بعضوں نے کہا: اس حدیث میں گھوڑوں سے مراد غازی اور مجاہد کا گھوڑا ہے، جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور بعض نے کہا: اگر گھوڑے جنگل میں چرتے ہوں اور ان میں نر اور مادہ دونوں ہوں تو ان کے مالک کو اختیار ہے خواہ ہر گھوڑے کے بدلے ایک دینار زکاۃ دے یا جملہ گھوڑوں کی قیمت لگا کر اس کا چالیسواں حصہ دے، ایسا ہی عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے، لیکن صاحبین اور جمہور علماء اور ائمہ اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ گھوڑے، غلام اور لونڈی میں مطلقاً زکاۃ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم