سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: خُطْبَةِ النِّكَاحِ
باب: خطبہ نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1893
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ میں) فرمایا: «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» ”بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1893]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں۔ اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اور اپنے اعمال کی برائی سے اس کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ ہدایت سے محروم رکھے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اما بعد۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (868)، سنن النسائی/النکاح 39 (3280)، (تحفة الأشراف: 5586) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1894
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ أَقْطَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اہم کام اللہ کی حمد و ثنا سے نہ شروع کیا جائے، وہ برکت سے خالی ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1894]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہمیت والا ہر وہ کام بے برکت ہے جسے اللہ کی تعریف سے شروع نہ کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 21 (4840)، (تحفة الأشراف: 15232)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/359) (ضعیف)» (متصل مرفوع حدیث ضعیف ہے، قرة کی وجہ سے مرسل صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4840)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4840)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
20. بَابُ: إِعْلاَنِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے اعلان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1895
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1895]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نکاح کا اعلان کیا کرو اور اس موقع پر دَف بجایا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17453، ومصباح الزجاجة: 675) (ضعیف)» (اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ» کا جملہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1993، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 982)
قال الشيخ الألباني: ضعيف دون الشطر الأول فهو حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (1089)
خالد بن إياس: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (1089)
خالد بن إياس: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
حدیث نمبر: 1896
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ".
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1896]
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق نکاح کے موقع پر دف اور بلند آواز کا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 6 (1088)، سنن النسائی/النکاح 72 (3371)، (تحفة الأشراف: 11221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/418، 4/259) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ سب لوگوں کو خبر ہو جائے کہ یہاں نکاح ہوا ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ سوائے دف کے اور باجے بھی درست ہیں یا نہیں؟ جیسے طبلے سارنگی وغیرہ بعضوں نے دف کے سوا دوسرے سارے باجوں کو ناجائز رکھا ہے اور بعضوں نے شادی اور عید میں جائز رکھا ہے، اور وقتوں میں جائز نہیں رکھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
21. بَابُ: الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ
باب: (شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1897
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عُرْسِي، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَتَغَنَّيَانِ، وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، وَتَقُولَانِ فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ:" أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ".
ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: «وفينا نبي يعلم ما في غد» ”ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کہو، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1897]
حضرت ابوحسین خالد مدنی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”عاشورا کے دن ہم مدینہ میں تھے۔ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گیت گا رہی تھیں۔ ہم حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں یہ بات بتائی۔“ انہوں نے فرمایا: ”میری شادی کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس دو لڑکیاں گیت گا رہی تھیں، اور (شعروں میں) میرے ان بزرگوں کا ذکر کر رہی تھیں جو جنگ بدر میں شہید ہوئے۔ وہ جو شعر پڑھ رہی تھیں ان میں یہ فقرہ بھی تھا: «وَفِيْنَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ» ”ہمارے اندر ایک نبی ہے جو جانتا ہے کل کیا ہونے والا ہے“۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نہ کہو۔ کل کی باتیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 12 (4001)، النکاح 48 (5147)، سنن ابی داود/الأدب 51 (4922)، سنن الترمذی/النکاح 6 (1090)، (تحفة الأشراف: 15832)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1898
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ فِي يَوْمِ بُعَاثٍ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدِ الْفِطْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں ایسے اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے دن کہے تھے، اور وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کا باجا ہو رہا ہے، اور یہ عید الفطر کا دن تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1898]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں تھیں، وہ شعر ترنم سے پڑھ رہی تھیں جو انصاریوں نے جنگِ بعاث کے موقع پر ایک دوسرے کے خلاف کہے تھے۔ وہ (پیشہ ور) گانے والیاں نہیں تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (یہ حال دیکھ کر) فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی راگ کا کیا کام؟“ یہ عید الفطر کا دن تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور آج ہماری عید ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 2 (949)، 3 (952)، 25 (987)، الجہاد 81 (2907)، المناقب 15 (3520)، مناقب الأنصار 46 (3931)، صحیح مسلم/العیدین 4 (892)، (تحفة الأشراف: 16801)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 32 (1594)، 36 (1598)، مسند احمد (6/33، 84، 99، 127) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1899
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَّ بِبَعْضِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ بِجَوَارٍ يَضْرِبْنَ بِدُفِّهِنَّ وَيَتَغَنَّيْنَ وَيَقُلْنَ: نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَعْلَمُ اللَّهُ إِنِّي لَأُحِبُّكُنَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: «نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار» ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1899]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک حصے (ایک محلے یا گلی) سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ بچیاں دف بجا بجا کر گا رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: «نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَنِي النَّجَّارِ ... يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارِ» ”ہم قبیلہ بنو نجار کی لڑکیاں ہیں (اور ہمیں خوشی ہے کہ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (ہمارے) کتنے اچھے ہمسائے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 511، ومصباح الزجاجة: 676) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1900
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَنْبَأَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّي"، قَالَتْ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ، فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ، أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيَّانَا، وَحَيَّاكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے اپنی ایک قرابت دار خاتون کی شادی کرائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے، اور فرمایا: ”تم لوگوں نے دلہن کو رخصت کر دیا“؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھی بھیجی“؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے لوگ غزل پسند کرتے ہیں، کاش تم لوگ دلہن کے ساتھ کسی کو بھیجتے جو یہ گاتا: «أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكم» ”ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، اللہ تمہیں اور ہمیں سلامت رکھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1900]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک رشتہ دار انصاری لڑکی کی شادی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”تم لوگوں نے لڑکی کو رخصت کر دیا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”کیا تم نے اس کے ساتھ کسی کو بھیجا ہے جو گیت گائے؟“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: ”جی نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار لوگ گیت وغیرہ پسند کرتے ہیں۔ (بہتر ہوتا) اگر تم اس کے ساتھ (کسی کو) بھیجتے جو کہتا: «أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ» ”ہم تمہارے پاس آئے ہیں، ہم تمہارے پاس آئے ہیں، ہمیں بھی مبارک، تمہیں بھی مبارک۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6453، ومصباح الزجاجة: 677) (حسن)» ( «غزل» کا جملہ منکر ہے، تراجع الألبانی: رقم: 465)
وضاحت: ۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چل کر مدینہ پہنچے تو انصار کی لڑکیاں راستوں پر گاتی بجاتی نکلیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کی خوشی میں کہا: «طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مٍنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا للهِ دَاع» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی تم سے محبت رکھتا ہے“ اصل یہ ہے کہ «الأعمال بالنیات» ، ان لڑکیوں کو گانے سے اور کوئی غرض نہ تھی سوا اس کے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں ایسا کرتی تھیں، اور یہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں بلکہ کمسن اور نابالغ تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی خوشی میں معمولی طور سے گانے بجانے لگیں، یہ مباح ہے اس کی اباحت میں کچھ شک نہیں۔ ابن القیم زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ لڑکیوں کے استقبال کا یہ واقع غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن
وأصل الحديث في صحيح البخاري (5162)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن
وأصل الحديث في صحيح البخاري (5162)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
حدیث نمبر: 1901
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ طَبْلٍ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ تَنَحَّى حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1901]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ انہیں ڈھول کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور (راستے سے) ایک طرف ہٹ گئے۔ (تاکہ آواز سے زیادہ دور ہو جائیں۔) انہوں نے تین بار ایسا ہی کیا۔ پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7407، ومصباح الزجاجة: 678) (صحیح)» (یہ «زمارة راع» کے لفظ سے صحیح ہے، اور اس میں «طبل» کا ذکر منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ زمارة راع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
إسناده ضعيف
ليث: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
22. بَابٌ في الْمُخَنَّثِينَ
باب: ہیجڑوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْرِجُوهُ مِنْ بُيُوتِكُمْ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1902]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا (اپنی والدہ) ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو (گھر میں) ایک مخنث کو حضرت عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے سنا: ”اگر اللہ نے کل طائف کی فتح نصیب فرمائی تو میں تجھے ایک عورت دکھاؤں گا جو (اتنی موٹی ہے کہ) آتی ہے تو چار بل پڑتے (نظر آتے) ہیں، جاتی ہے تو آٹھ بل پڑتے (نظر آتے) ہیں۔ (بہت موٹی اور خوب صورت ہے۔)“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے گھروں سے نکال دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 56 (4324)، اللباس 62 (5887)، النکاح 113 (5235)، صحیح مسلم/السلام 13 (2180)، سنن ابی داود/الأدب 61 (4929)، (تحفة الأشراف: 18263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290، 318) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم