سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: كَسْبِ الْحَجَّامِ
باب: حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2165
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ".
ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2165]
حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10011، ومصباح الزجاجة: 767) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2166
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ؟ فَنَهَاهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ الْحَاجَةَ، فَقَالَ:" اعْلِفْهُ نَوَاضِحَكَ".
محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے منع فرمایا، انہوں نے اس کی ضرورت بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو اسے کھلا دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2166]
حضرت حرام بن محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت سعد بن محیصہ بن مسعود انصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا۔ انہوں نے اپنے حاجت مند (اور مفلس) ہونے کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا اپنے اونٹوں کو چارہ کھلا دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 39 (3422)، سنن الترمذی/البیوع 47 (1276، 1277)، (تحفة الأشراف: 11238)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الإستئذان 10 (28)، مسند احمد (5/435، 436) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پچھنا لگانے کی اجرت حرام ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ جب کہ انس اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیثیں صحیحین میں موجود ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کے ہاتھ سے پچھنا لگوایا اور اس کو گیہوں کے دو صاع (پانچ کلو) دیئے، واضح رہے کہ پچھنا لگانے والے کی اجرت کلی طور پر حرام نہیں ہے، بلکہ اس میں ا یک نوع کی کراہت ہے، اور اس کا صرف کرنا اپنے کھانے پینے یا دوسروں کے کھلانے پلانے یا صدقہ میں مناسب نہیں بلکہ جانوروں کی خوراک میں صرف کرنا بہتر ہے جیسا کہ گذشتہ حدیث میں مذکور ہے، یا جو اس کی مثل ہو، جیسے چراغ کی روشنی یا پاخانہ کی مرمت میں، اور اس طریق سے دونوں کی حدیثیں مطابق ہو جاتی ہیں، اور تعارض نہیں رہتا۔ (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
11. بَابُ: مَا لاَ يَحِلُّ بَيْعُهُ
باب: حرام اور ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2167
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ"، فَقِيلَ لَهُ: عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، قَالَ:" لَا هُنَّ حَرَامٌ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ، فَأَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال جب کہ آپ مکہ میں تھے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے، اس وقت آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں ہمیں بتائیے اس کا کیا حکم ہے؟ اس سے کشتیوں اور کھالوں کو چکنا کیا جاتا ہے، اور اس سے لوگ چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (یہ بھی جائز نہیں) یہ سب چیزیں حرام ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے (حیلہ یہ کیا کہ) پگھلا کر اس کی شکل بدل دی، پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2167]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی فروخت حرام کر دی ہے۔“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مردہ (جانوروں) کی چربی کے بارے میں فرمائیے، اس سے کشتیوں کو چکنا کیا جاتا ہے، چمڑوں کو لگایا جاتا ہے (اور اس طرح انہیں قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔) اور لوگ (اسے چراغوں میں جلا کر) اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ سب چیزیں حرام ہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ ڈالا، اور اس کی قیمت کھا گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 112 (2236)، المغازي 51 (4296)، سورة الأنعام 6 (4633)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1581)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3486، 3487)، سنن الترمذی/البیوع 61 (1297)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 7 (4261)، البیوع 91 (4673)، (تحفة الأشراف: 2494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334، 370) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ظاہر میں انہوں نے شرعی حیلہ کیا کہ چربی نہیں کھائی، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ دلوں کی بات کو جانتا ہے، اور اس کے سامنے کوئی حیلہ نہیں چل سکتا، بلکہ کیا عجب ہے کہ حیلہ کرنے والے کو اصل گناہ کرنے والے سے زیادہ عذاب ہو، کیونکہ اصل گناہ کرنے والا نادم اور شرمسار ہوتا ہے، اور اپنے گناہ پر اپنے آپ کو قصوروار سمجھتا ہے، لیکن شرعی حیلے کرنے والے تو خوب غراتے اور گردن کی رگیں پھلاتے ہیں، اور بحث کرنے پر مستعد ہوتے ہیں کہ ہم نے کوئی گناہ کی بات نہیں کی، دوسری حدیث میں ہے کہ شراب کی وجہ سے اللہ تعالی نے دس آدمیوں پر لعنت کی، نچوڑنے والے، نچڑوانے والے پر، پینے والے اور اٹھانے والے پر، جس کے لئے اٹھایا جائے، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، خریدنے والے پر، جس کے لئے خریدا اس پر، بڑے افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں اعلانیہ شراب اور سور کے گوشت کی خریدوفروخت ہوتی ہے، اور اس سے بڑھ کر افسوس اس پر ہے کہ مسلمان خود شراب پیتے اور دوسروں کو پلاتے ہیں، اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں شرماتے، اور یہ نہیں جانتے کہ شراب کا پلانے والا بھی ملعون ہے، جیسے پینے والا، اور شراب کا خریدنے والا بھی ملعون ہے، اور جس دستر خوان یا میز پر شراب پی جائے وہاں پر کھانا حرام ہے گو خود نہ پئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2168
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُغَنِّيَاتِ، وَعَنْ شِرَائِهِنَّ، وَعَنْ كَسْبِهِنَّ، وَعَنْ أَكْلِ أَثْمَانِهِنَّ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغنیہ (گانے والی عورتوں) کی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی قیمت کھانے سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2168]
حضرت ابو امامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گانے والی لونڈیاں بیچنے اور خریدنے سے، ان کی کمائی سے اور ان کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 15 (1282)، (تحفة الأشراف: 4898) (حسن)» (سند میں ابو المہلب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2922)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه علل منھا ضعف عبيد اللّٰه (بن زحر) الإفريقي (ضعيف / د 3293) وھو رواه عن علي بن يزيد ضعيف عند الترمذي (1282)
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (212/8 ح 7749) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
إسناده ضعيف
فيه علل منھا ضعف عبيد اللّٰه (بن زحر) الإفريقي (ضعيف / د 3293) وھو رواه عن علي بن يزيد ضعيف عند الترمذي (1282)
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (212/8 ح 7749) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
12. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلاَمَسَةِ
باب: بیع منابذہ اور ملامسہ کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2169
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیع سے منع کیا ہے: ایک بیع ملامسہ سے، دوسری بیع منابذہ سے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2169]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے: منابذہ سے اور ملامسہ سے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 10 (368)، المواقیت 30 (584)، الصوم 67 (1993)، البیوع 63 (2146)، اللباس 20 (5819)، 21 (5821)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1511)، سنن النسائی/البیوع 24 (4521)، (تحفة الأشراف: 12265)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 69 (1310)، موطا امام مالک/البیوع 35 (76)، مسند احمد (2/279، 319، 419، 464) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: منابذہ: یہ ہے کہ بائع (بیچنے والا) اپنا کپڑا مشتری (خریدنے والے) کی طرف پھینک دے، اور مشتری بائع کی طرف، اور ہر ایک یہ کہے کہ یہ کپڑا اس کپڑے کا بدل ہے، اور بعضوں نے کہا کہ منابذہ یہ ہے کہ کپڑا پھینکنے سے بیع پوری ہو جائے نہ اس چیز کو دیکھیں نہ راضی ہوں۔ ملامسہ: یہ ہے کہ کپڑے کو چھو لیں نہ اس کو کھولیں نہ اندر سے دیکھیں، یا رات کو صرف چھو کر بیچیں، ان دونوں بیعوں سے منع کیا، کیونکہ ان میں دھوکہ ہے اور یہ شرعاً فاسد ہے کہ دیکھنے پر کسی کو بیع کے فسخ کا اختیار نہ ہو گا۔ (الروضہ الندیہ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2170
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ". زَادَ سَهْلٌ، قَالَ سُفْيَانُ: الْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَلْمِسَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ الشَّيْءَ وَلَا يَرَاهُ وَالْمُنَابَذَةُ، أَنْ يَقُولَ: أَلْقِ إِلَيَّ مَا مَعَكَ وَأُلْقِي إِلَيْكَ مَا مَعِي.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ و منابذہ سے منع کیا ہے۔ سہل نے اتنا مزید کہا ہے کہ سفیان نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہاتھ سے چھوئے اور اسے دیکھے نہیں، (اور بیع ہو جائے) اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے کہے کہ جو تیرے پاس ہے میری طرف پھینک دے، اور جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینکتا ہوں (اور بیع ہو جائے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2170]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْمُلَامَسَةِ» (ملامسہ) اور «الْمُنَابَذَةِ» (منابذہ) سے منع فرمایا ہے۔“ (راویِ حدیث) سہل نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ امام سفیان (بن عیینہ) رحمہ اللہ نے فرمایا: ” «الْمُلَامَسَةِ» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی چیز کو (ہاتھ سے) چھوئے اور اسے (آنکھوں سے) نہ دیکھے، اور «الْمُنَابَذَةِ» کا مطلب یہ ہے کہ یوں کہے: تم اپنی چیز میری طرف پھینک دو اور میں اپنی چیز تمہاری طرف پھینک دیتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 62 (2144)، 63 (2147)، اللباس 20 (5820)، الاستئذان 42 (6284)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1512)، سنن ابی داود/البیوع 24 (4519)، سنن النسائی/البیوع 24 (4524)، 25 (4527)، (تحفة الأشراف: 4154)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 59، 66، 67، 71، 95)، سنن الدارمی/البیوع 28 (2604) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
13. بَابُ: لاَ يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَسُومُ عَلَى سَوْمِهِ
باب: نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا لگائے اور نہ اس کے دام پر دام لگائے۔
حدیث نمبر: 2171
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودہ نہ کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2171]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 45 (5142)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، البیوع 8 (1412)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2081)، سنن النسائی/النکاح 20 (3240)، البیوع 18 (4508)، (تحفة الأشراف: 8329)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 57 (1134)، موطا امام مالک/البیوع 45 (95)، مسند احمد (2/ 122، 124، 126، 130، 142، 153)، سنن الدارمی/البیوع 33 (2609) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2172
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودہ نہ کرے، اور نہ اپنے بھائی کے دام پر دام لگائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2172]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، اور اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، الشروط 8 (2723)، النکاح 45 (5142)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2080)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1134)، سنن النسائی/النکاح 20 (3241)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (20/238، 273، 318، 394، 411، 427)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2221) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
14. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّجْشِ
باب: بیع نجش کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2173
قَرَأْتُ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيِّ ، عَنْ مَالِكٍ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو حُذَافَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ النَّجْشِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2173]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بڑھا کر بولی دینے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 69 (2142)، الحیل 6 (6963)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1516)، سنن النسائی/البیوع 19 (4509)، (تحفة الأشراف: 8348)، وقدأخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (97)، مسند احمد (2 /7، 42، 63)، سنن الدارمی/البیوع 33 (2609) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بیع نجش یہ ہے کہ آدمی بیچنے والے سے سازش کر کے مال کی قیمت بڑھا دے اور خریدنا منظور نہ ہو، تاکہ دوسرے خریدار دھوکہ کھائیں اور قیمت بڑھا کر اس مال کو خرید لیں، اس زمانہ میں نیلام میں اکثر لوگ ایسا کیا کرتے ہیں اور اس فعل کو گناہ نہیں سمجھتے، جب کہ یہ کام حرام اور ناجائز ہے، اور ایسی سازش کے نتیجے میں اگر خریدار اس مال کی اتنی قیمت دیدے جتنی حقیقت میں اس مال کی نہیں بنتی تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اس بیع کو فسخ کر دے، اور سامان واپس کر کے اپنا پیسہ لے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَنَاجَشُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں بیع نجش نہ کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2174]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بولی نہ بڑھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث (رقم: 1867، 2172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه