🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ: الْمِيرَاثِ مِنَ الدِّيَةِ
باب: دیت کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى لِحَمَلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ اللِّحْيَانِيِّ بِمِيرَاثِهِ مِنَ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا امْرَأَتُهُ الْأُخْرَى".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2643]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمل بن مالک ہذلی رضی اللہ عنہ کو ان کی اس بیوی کے ترکے سے حصہ دلوایا جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5064، ومصباح الزجاجة: 932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اسحاق بن یحییٰ مجہول ہے، اور عبادہ رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات بھی نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق لم يدرك عبادة رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: دِيَةِ الْكَافِرِ
باب: کافر کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: دونوں اہل کتاب کی دیت مسلمان کی دیت کے مقابلہ میں آدھی ہے، اور دونوں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2644]
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے، اور انہوں نے اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ اہل کتاب کا خون بہا مسلمانوں کے خون بہا سے نصف ہے۔ اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8738، ومصباح الزجاجة: 933)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات 17 (1413)، سنن النسائی/القسامة 31 (4810) (حسن)» ‏‏‏‏ (نیز ملاحظہ ہو: الإ رواء: 2251)
وضاحت: ۱؎: سنن ابی داود میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار تھی اور آٹھ ہزار درہم، اور اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کے نصف تھی، جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے مسلمان کی دیت کو بڑھا دیا اور کافر کی دیت وہی رہنے دی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: الْقَاتِلُ لاَ يَرِثُ
باب: قاتل مقتول کی وراثت کا حقدار نہ ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہیں ہو گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2645]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفرائض 17 (2109)، (تحفة الأشراف: 12286) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2735) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ اس کے جرم کی سزا ہے، اکثر لوگ اپنے مورث کو ترکہ پر قبضہ کرنے کے لیے مار ڈالتے ہیں، تو شریعت نے قاتل کو ترکہ ہی سے محروم کر دیا تاکہ کوئی ایسا جرم نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ قَتَلَ ابْنَهُ، فَأَخَذَ مِنْهُ عُمَرُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، فَقَالَ ابْنُ أَخِي الْمَقْتُولِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ".
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی مدلج کے ابوقتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا جس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دیت کے سو اونٹ لیے: تیس حقے، تیس جذعے، اور چالیس حاملہ اونٹنیاں، پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2646]
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنو مدلج قبیلے کے ایک آدمی ابو قتادہ نے اپنے بیٹے کو قتل کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے سو اونٹنیاں وصول کر لیں: تیس «حِقَّة» (تین سالہ اونٹنیاں)، تیس «جَذَعَة» (چار سالہ اونٹنیاں) اور چالیس حاملہ اونٹنیاں۔ پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا ہے: «لَيْسَ لِلْقَاتِلِ مِيرَاثٌ» قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15654، ومصباح الزجاجة: 934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/49)، موطا امام مالک/العقول 17 (10) (صحیح) (شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «حقہ» : ایسی اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے میں لگ جائے۔ «جذعہ» : ایسی اونٹنی جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں لگ جائے۔
مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ یعنی مقتول کے بھائی کو سارا مال دلا دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنده منقطع،عمرو بن شعيب لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه و روي أبو داود (4564) عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((ليس للقاتل شئ و إن لم يكن له وارث فوارثه أقرب الناس إليه و لا يرث القاتل شيئًا)) وھو حديث حسن و ھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: عَقْلُ الْمَرْأَةِ عَلَى عَصَبَتِهَا وَمِيرَاثُهَا لِوَلَدِهَا
باب: عورت کی دیت اس کے عصبہ (باپ کے رشتہ داروں) پر ہے اور اس کی میراث اس کی اولاد کو ملے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْقِلَ الْمَرْأَةَ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا وَلَا يَرِثُوا مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا فَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پر واجب دیت کو اس کے عصبہ (باپ کے رشتہ دار) ادا کریں گے، لیکن اس عورت کی میراث سے انہیں وہی حصہ ملے گا جو ورثاء سے بچ جائے گا، اگر عورت قتل کر دی جائے، تو اس کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گی، اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2647]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ صادر فرمایا: عورت کی دیت اس کے عصبہ رشتے دار ادا کریں گے، وہ جو بھی ہوں۔ اور انہیں دیت میں سے ترکے کے طور پر کچھ نہیں ملے گا مگر وہی جو اس کے (اصحاب الفروض) وارثوں سے بچ جائے۔ اور اگر عورت قتل ہو جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں کے درمیان (ترکے کے طور پر) تقسیم ہوگی۔ وہی عورت کے قاتل کو قتل کر سکتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 8715،)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 30 (4809) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّيَةَ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ"، فَقَالَتْ: عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِيرَاثُهَا لَنَا، قَالَ:" لَا مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ (باپ کے رشتہ داروں) پر ٹھہرائی تو مقتولہ کے عصبہ نے کہا: اس کی میراث کے حقدار ہم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میراث اس کے شوہر اور اس کے لڑکے کو ملے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2648]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت، قتل کرنے والی عورت کے عصبہ رشتہ داروں کے ذمے ڈالی۔ مقتول عورت کے عصبہ رشتہ داروں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا ترکہ ہمیں ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس کا ترکہ اس کے خاوند اور اس کے بچوں کے لیے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 21 (4575)، (تحفة الأشراف: 2347) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4575)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: الْقِصَاصِ فِي السِّنِّ
باب: دانت میں قصاص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ عَمَّةُ أَنَسٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا فَعَرَضُوا عَلَيْهِمُ الْأَرْشَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ"، قَالَ: فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّةُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے سامنے کا دانت توڑ ڈالا، تو ربیع کے لوگوں نے معافی مانگی، لیکن لڑکی کی جانب کے لوگ معافی پر راضی نہیں ہوئے، پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی، تو انہوں نے دیت لینے سے بھی انکار کر دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا، تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ایسا نہیں ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے، پھر لوگ معافی پر راضی ہو گئے، اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2649]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی حضرت ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا۔ انہوں (ربیع کے گھر والوں) نے معاف کر دینے کی درخواست کی، لیکن انہوں نے (فریقِ ثانی نے معاف کرنے سے) انکار کر دیا۔ وہ لوگ (فریقین) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا (میری بہن) ربیع رضی اللہ عنہا کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا دین دے کر بھیجا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اللہ کا قانون تو قصاص ہی ہے۔ (راوی نے کہا:) پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا کوئی بندہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشرف: 646، 760)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلح 8 (2703)، تفسیر البقرة 23 (4499)، المائدة 6 (4611)، الدیات 19 (6894)، صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، سنن ابی داود/الدیات 32 (4595)، سنن النسائی/القسامة 12 (4759)، مسند احمد (3/128، 167، 284) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ ربیع بنت نضر کے سگے بھائی اور انس بن مالک کے چچا ہیں رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: دِيَةِ الأَسْنَانِ
باب: دانتوں کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ الثَّنِيَّةُ، وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دیت کے معاملہ میں) سب دانت برابر ہیں، سامنے کے دانت اور داڑھ برابر ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2650]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب دانت برابر ہیں، سامنے کا دانت اور ڈاڑھ برابر ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4559)، سنن الترمذی/الدیات 4 (1391)، (تحفة الأشراف: 6193) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ قَضَى فِي السِّنِّ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کی دیت میں پانچ اونٹ کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2651]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کے بارے میں پانچ اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6274، ومصباح الزجاجة: 935)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات 4 (1391) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: دِيَةِ الأَصَابِعِ
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2652
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالْإِبْهَامَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دیت میں) یہ اور یہ یعنی چھنگلیا (سب سے چھوٹی انگلی) اور انگوٹھا سب برابر ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2652]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اور یہ برابر ہیں۔ یعنی «الْخِنْصَرُ» (چھوٹی انگلی)، «الْبِنْصِرُ» (چھوٹی کے ساتھ والی انگلی) اور انگوٹھا (سب برابر ہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 20 (6895)، سنن ابی داود/الدیات 20 (4558)، سنن الترمذی/الدیات 4 (1392)، سنن النسائی/القسامة 38 (4851)، (تحفة الأشراف: 6187)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/339)، سنن الدارمی/الدیات 15 (2415) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں