🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: دِيَةِ الأَصَابِعِ
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2653
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ كُلُّهُنَّ فِيهِنَّ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دیت میں) انگلیاں سب برابر ہیں، ہر ایک میں دس دس اونٹ دینے ہوں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2653]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب (آپس میں) برابر ہیں۔ ان کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8808)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات 20 (4556)، سنن النسائی/القسامة 38 (4847)، مسند احمد (2/207)، سنن الدارمی/الدیات 15 (2414) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2654
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دیت کے معاملہ میں) سب انگلیاں برابر ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2654]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں برابر ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4556، 4557)، سنن النسائی/القسامة 38 (4847)، (تحفة الأشراف: 9030) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: الْمُوضِحَةِ
باب: ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2655
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2655]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن زخموں سے ہڈی ظاہر ہو جائے ان میں پانچ پانچ اونٹ دیت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8807)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات 20 (4566)، سنن الترمذی/الدیات 3 (1390)، سنن النسائی/القسامة 40 (4861)، مسند احمد (2/1779، 189، 207، 212)، سنن الدارمی/الدیات 16 (2417) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: مَنْ عَضَّ رَجُلاً فَنَزَعَ يَدَهُ فَنَدَرَ ثَنَايَاهُ
باب: ایک آدمی نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت کاٹا، اس کے ہاتھ کھینچنے پر کاٹنے والے کے آگے کے دو دانت گر گئے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2656
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى وَسَلَمَةَ ابني أمية، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ آخَرُ وَنَحْنُ بِالطَّرِيقِ، قَالَ: فَعَضَّ الرَّجُلُ يَدَ صَاحِبِهِ فَجَذَبَ صَاحِبُهُ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ عَقْلَ ثَنِيَّتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعِضَاضِ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا عَقْلَ لَهَا" قَالَ: فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی تھا، وہ اور ایک دوسرا شخص دونوں آپس میں لڑ پڑے، جب کہ ہم لوگ راستے میں تھے، ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا اور جب اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے دانت کی دیت مانگنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (عجیب ماجرا ہے) تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتا ہے اور پھر دیت مانگتا ہے، اس کی کوئی دیت نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2656]
حضرت یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے فرمایا: غزوہٴ تبوک میں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ ہمارا ایک دوست تھا۔ راستے میں اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی۔ آدمی نے اپنے ساتھی کے ہاتھ پر دانت سے کاٹ لیا۔ ساتھی نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ اپنے دانت کی دیت لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اپنے بھائی کا ہاتھ اس طرح چباتا ہے جس طرح اونٹ (کسی کا ہاتھ) چبا جاتا ہے۔ پھر دیت مانگنے آ جاتا ہے۔ اس دانت کی کوئی دیت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کو «هَدَرًا» ہدر (دیت کا حق نہ رکھنے والا) قرار دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 15 (4774، 4775، 4776)، (تحفة الأشراف: 11835، 4554)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 19 (1847)، الإجارة 5 (2265)، الجہاد 120 (2973)، المغازي 78 (4417)، الدیات 18 (6893)، صحیح مسلم/القسامة 4 (1673)، سنن ابی داود/الدیات 24 (4584)، مسند احمد (4/222، 223، 224) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ اس کا دانت اسی کے قصور سے گرا نہ وہ کاٹتا نہ دوسرا شخص اپنا ہاتھ کھینچتا، اور جب اس نے کاٹا تو وہ بے چارہ کیا کرتا آخر ہاتھ چھڑانا ضروری تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2657
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ رَجُلًا عَلَى ذِرَاعِهِ فَنَزَعَ يَدَهُ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ:" يَقْضَمُ أَحَدُكُمْ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: تم میں سے ایک (دوسرے کے ہاتھ کو) ایسے چباتا ہے جیسے اونٹ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2657]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے بازو پر دانت سے کاٹ لیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس کے دانت کو دیت کا حق نہ رکھنے والا قرار دے دیا اور فرمایا: تم میں سے کوئی ایسے کاٹتا ہے جیسے اونٹ کاٹ کھاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 18 (6892)، صحیح مسلم/القسامة 4 (1673)، سنن الترمذی/الدیات 20 (1416)، سنن النسائی/القسامة 14 (4763)، (تحفة الأشراف: 10823)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/427، 438، 430، 435)، سنن الدارمی/الدیات 18 (2421) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: لاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ
باب: کافر کے بدلے مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2658
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنَ الْعِلْمِ لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ؟ قَالَ:" لَا، وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا عِنْدَ النَّاسِ، إِلَّا أَنْ يَرْزُقَ اللَّهُ رَجُلًا فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ، أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِيهَا الدِّيَاتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے جو دیگر لوگوں کے پاس نہ ہو؟ وہ بولے: نہیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس وہی ہے جو لوگوں کے پاس ہے، ہاں مگر قرآن کی سمجھ جس کی اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشتا ہے یا وہ جو اس صحیفے میں ہے اس (صحیفے) میں ان دیتوں کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، اور آپ کا یہ فرمان بھی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2658]
حضرت ابو جحیفہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ لوگوں کے پاس کوئی ایسا علم ہے جو (دوسرے) لوگوں کے پاس نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، قسم ہے اللہ کی! ہمارے پاس تو وہی کچھ ہے جو لوگوں کے پاس ہے، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو قرآن کی سمجھ عطا فرما دے، یا جو اس نوشتے میں ہے۔ اس تحریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمائے ہوئے دیت کے مسائل تھے اور یہ (لکھا ہوا تھا) کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 40 (111)، الجہاد 171 (3047)، الدیات 24 (6903)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، (تحفة الأشراف: 10311)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات11 (4530)، سنن النسائی/القسامة 5 (4738)، مسند احمد (1/79، 122)، سنن الدارمی/الدیات 5 (2401) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امام بخاری کی روایت میں ہے کہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی وحی ہے جو قرآن مجید میں نہ ہو؟ یعنی موجودہ قرآن میں جو سب لوگوں کے پاس ہے، اس سے شیعوں کا رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن پورا نہیں ہے اس میں سے چند سورتیں غائب ہیں، اور پورا قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر ہر ایک امام کے پاس آتا رہا یہاں تک کہ امام مہدی کے پاس آیا اور وہ غائب ہیں،جب ظاہر ہوں گے تو دنیا میں پورا قرآن پھیلے گا، معاذ اللہ یہ سب اکاذیب اور خرافات ہیں، حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر بتا دیا کہ ہمارے پاس وہی علم ہے جو اور لوگوں کے پاس ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2659
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2659]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 17 (1413)، (تحفة الأشراف: 8739 ألف) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۱؎، اور نہ وہ (کافر) جس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2660]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے اور نہ عہد والے (ذمی) کو اس کے عہد میں قتل کیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6030، ومصباح الزجاجة: 937) (وستأتي بقیتہ برقم: 2683) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حنش حسین بن قیس ابو علی الرحبی ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہے، اور اہل علم کا اجماع ہے کہ مسلمان کافر حربی کے بدلے نہ مارا جائے گا۔
۲؎: جس غیر مسلم کی حفاظت کا عہد کیا جائے اس کا قتل بھی ناجائز ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں عہدشکنی کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حنش: حسين بن قيس أبو علي الرحبي متروك
و قوله: ((لا يقتل مؤمن بكافر۔)) صحيح بالشواھد و قوله: ’’ و لا ذو عھد في عھده ‘‘ ضعيف وله شواھد ضعيفة عند ابن حبان (الموارد: 1699) و أبي داود (4530) وغيرھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: لا يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِوَلَدِهِ
باب: باپ کو اپنی اولاد کے بدلے قتل نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2661
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُقْتَلُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2661]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹے کے بدلے میں باپ کو قتل نہ کیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 9 (1401)، (تحفة الأشراف: 5740)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات 6 (2402) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2599)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2662
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2662]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: باپ کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 9 (1400)، (تحفة الأشراف: 10582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/22، 49) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاة ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، ا لإ رواء: 2214)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1400)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں