سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: الدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ عَاقِلَةٌ فَفِي بَيْتِ الْمَالِ
باب: دیت عاقلہ (قاتل اور اس کے خاندان والوں) پر ہے ورنہ بیت المال سے دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 2633
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”دیت عاقلہ (قاتل اور اس کے خاندان والوں) کے ذمہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2633]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ ”دیت کی ذمہ دار، عاقلہ (قاتل کی برادری) ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 11 (1682)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4568)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1411)، سنن النسائی/القسامة، 33 (4825)، (تحفة الأشراف: 11510)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدیات 25 (6910)، الاعتصام 13 (7317)، مسند احمد (4/224، 245، 246، 249)، سنن الدارمی/الدیات 20 (2425) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2634
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ الشَّامِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
مقدام شامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، اس کی طرف سے دیت بھی ادا کروں گا اور اس کا ترکہ بھی لوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت بھی ادا کرے گا، اور ترکہ بھی پائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2634]
مقدام (بن معدیکرب) شامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی وارث نہیں، اس کا میں وارث ہوں۔ میں اس کی دیت دوں گا اور اس کی وراثت لوں گا۔ اور جس کا کوئی وارث نہیں، ماموں اس کا وارث ہے۔ وہ اس کی دیت دے گا اور اس کی وراثت لے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 8 (2899، 2900)، (تحفة الأشراف: 11569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
8. بَابُ: مَنْ حَالَ بَيْنَ وَلِيِّ الْمَقْتُولِ وَبَيْنَ الْقَوَدِ أَوِ الدِّيَةِ
باب: قصاص یا دیت لینے میں جو مقتول کے ورثاء کے آڑے آئے اس کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَتَلَ فِي عِمِّيَّةٍ أَوْ عَصَبِيَّةٍ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ أَوْ عَصًا، فَعَلَيْهِ عَقْلُ الْخَطَإِ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اندھا دھند فساد (بلوہ) میں یا تعصب کی وجہ سے پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مار دیا جائے، تو قاتل پر قتل خطا کی دیت لازم ہو گی، اور اگر قصداً مارا جائے، تو اس میں قصاص ہے، جو شخص قصاص یا دیت میں حائل ہو تو اس پر لعنت اللہ کی ہے، اس کے فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی، اس کا نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2635]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اندھا دھند لڑائی میں یا عصبیت کی بنا پر پتھر، کوڑا یا ڈنڈا مار کر قتل کر دیا، اسے قتلِ خطا کی دیت ادا کرنی پڑے گی، اور جس نے جان بوجھ کر قتل کیا، اس سے قصاص لیا جائے گا۔ اور جو کوئی قصاص لینے میں رکاوٹ بنے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کا کوئی فرض یا نفل عمل قبول نہیں ہوگا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 17 (4539مرسلاً)، 28 (4591)، سنن النسائی/القسامة 26 (4793)، (تحفة الأشراف: 5739) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی حکم ہے ہر اس شخص کا جو انصاف اور شرع کی بات سے روکے اور اس میں خلل ڈالے، وہ ملعون ہے، اس کا نماز روزہ سب بے فائدہ ہے، اور اندھا دھند فساد کا مطلب یہ ہے کہ اس کا قاتل معلوم نہ ہو یا قتل کی کوئی وجہ نہ ہو یا کوئی اپنے لوگوں کی طرفداری کرتا ہو تو اس میں مارا جائے، یہ عصبیت ہے، تعصب بھی اسی سے نکلا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہتھیار سے عمداً نہ مارا جائے بلکہ چھوٹے پتھر یا چھڑی یا کوڑے سے مارا جائے تو اس میں دیت ہو گی قصاص نہ ہو گا جیسے اوپر گزرا۔
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
9. بَابُ: مَا لاَ قَوَدَ فِيهِ
باب: جن چیزوں میں قصاص نہیں بلکہ دیت ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرَبَ رَجُلًا عَلَى سَاعِدِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْقِصَاصَ، قَالَ:" خُذْ الدِّيَةَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا" وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ.
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی، لیکن جوڑ پر سے نہیں، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دیت (خون بہا) دینے کا حکم فرمایا، وہ بولا: اللہ کے رسول! میں قصاص لینا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ”۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2636]
نمران بن جاریہ رحمہ اللہ اپنے والد (جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے کی کلائی پر تلوار مار کر جوڑ کے علاوہ دوسری جگہ سے بازو کاٹ دیا۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیت دلوانے کا حکم دے دیا۔ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو قصاص لینا چاہتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لے، اللہ تجھے برکت عطا فرمائے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3180، ومصباح الزجاجة: 930) (ضعیف)» (سند میں دھثم بن قرّان الیمامی متروک ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإ رواء: 2235)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
دهثم: ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
إسناده ضعيف جدًا
دهثم: ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ صُهْبَانَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ وَلَا الْجَائِفَةِ وَلَا الْمُنَقِّلَةِ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے، تو اس میں قصاص نہ ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2637]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دماغ کی جھلی تک پہنچ جانے والے زخم کا قصاص نہیں، نہ جسم کے اندرونی خلا (مثلاً پیٹ) تک پہنچ جانے والے زخم میں اور نہ ہڈی کو اپنی جگہ سے ہٹا دینے والی چوٹ میں قصاص ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5139، ومصباح الزجاجة: 931) (حسن)» (تراجع الألبانی: رقم: (390)
وضاحت: ۱؎: جن زخموں کی دیت میں برابری ہو سکے ان میں قصاص کا حکم دیا جائے گا، مثلاً کوئی عضو جوڑ سے کاٹ ڈالے تو کاٹنے والے کا بھی وہی عضو جوڑ پر سے کاٹا جائے گا، اور جن زخموں میں برابری نہ ہو سکے تو ان میں قصاص کا حکم نہ ہو گا بلکہ دیت دلائی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رشدين بن سعد: ضعيف
وللحديث شاهد ضعيف وأخرج البيهقي (65/8) بإسناد حسن عن طلحة رضي اللّٰه عنه أن النبي ﷺ قال: ((ليس في المأمومة قود))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
إسناده ضعيف
رشدين بن سعد: ضعيف
وللحديث شاهد ضعيف وأخرج البيهقي (65/8) بإسناد حسن عن طلحة رضي اللّٰه عنه أن النبي ﷺ قال: ((ليس في المأمومة قود))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
10. بَابُ: الْجَارِحِ يَفْتَدِي بِالْقَوَدِ
باب: زخمی کرنے والا بدلے میں فدیہ دے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2638
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا" فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا" فَرَضُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا أَرَضِيتُمْ"، قَالُوا: لَا، فَهَمَّ بِهِمْ الْمُهَاجِرُونَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ، فَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَرَضِيتُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ ابْن مَاجَةَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: تَفَرَّدَ بِهَذَا مَعْمَرٌ لَا أَعْلَمُ رَوَاهُ غَيْرُهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مصدق (عامل صدقہ) بنا کر بھیجا، زکاۃ کے سلسلے میں ان کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا، ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا تو اس کا سر پھٹ گیا، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور قصاص کا مطالبہ کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تم اتنا اتنا مال لے لو“، وہ راضی نہیں ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اتنا اتنا مال (اور) لے لو“، تو وہ راضی ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں، اور تم لوگوں کی رضا مندی کی خبر سناؤں؟ کہنے لگے: ٹھیک ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ لیث کے لوگ میرے پاس آئے اور قصاص لینا چاہتے تھے، میں نے ان سے اتنا اتنا مال لینے کی پیشکش کی اور پوچھا: کیا وہ اس پر راضی ہیں“؟ کہنے لگے: نہیں، (ان کے اس رویہ پر) مہاجرین نے ان کو مارنے پیٹنے کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں باز رہنے کو کہا، تو وہ رک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور کچھ اضافہ کر دیا، اور پوچھا: ”کیا اب راضی ہیں“؟ انہوں نے اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا میں خطبہ دوں اور لوگوں کو تمہاری رضا مندی کی اطلاع دے دوں“؟ جواب دیا: ٹھیک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور پھر کہا: ”تم راضی ہو“؟ جواب دیا: جی ہاں ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا کہ معمر اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2638]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ ایک آدمی زکاۃ کے بارے میں ان سے لڑ پڑا۔ ابو جہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا تو اسے (سر یا چہرے پر) زخم آ گیا۔ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قصاص دلوائیے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اتنی اتنی رقم (دیت کے طور پر) ملے گی۔“ وہ نہ مانے، آپ نے (رقم میں اضافہ کر کے) فرمایا: ”تمہیں اتنی اتنی رقم ملے گی۔“ تو وہ مان گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں میں خطبہ دے کر (عام اعلان کر کے) تمہاری رضامندی کی اطلاع دے دوں؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”بنو لیث قبیلے کے یہ حضرات میرے پاس قصاص لینے کے لیے آئے تھے۔ میں نے انہیں اتنی اتنی رقم (دیت) کی پیشکش کی ہے۔ کیا تم لوگ راضی ہو؟“ انہوں نے کہا: ”جی نہیں۔“ مہاجرین نے ان لوگوں کو سرزنش کرنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رک جانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رک گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دوبارہ) طلب فرما کر (دیت کی مقدار میں) اضافہ فرما دیا، اور فرمایا: ”کیا تم راضی ہو؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”میں لوگوں میں خطبہ دے کر تمہاری رضا مندی کی اطلاع دے رہا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا۔ پھر (سب لوگوں کے سامنے ان سے) فرمایا: ”کیا تم راضی ہو؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے محمد بن یحییٰ رحمہ اللہ سے سنا وہ فرما رہے تھے: ”اس روایت کو صرف معمر نے بیان کیا ہے۔ ان کے علاوہ کسی سے یہ روایت مجھے معلوم نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 13 (4534)، سنن النسائی/القسامة 20 (4782)، (تحفة الأشراف: 16636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/232) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں ان کی رضا مندی کی بات اس لئے کہتے تھے تاکہ لوگ گواہ ہو جائیں اور پھر وہ اپنے اقرار سے مکر نہ سکیں چونکہ آپ کو ان کی صداقت پر بھروسہ نہ تھا، اور ایسا ہوا بھی، پہلی بار راضی ہو کر گئے، مگر خطبہ کے وقت کہنے لگے کہ ہم راضی نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4534) نسائي (4782)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4534) نسائي (4782)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
11. بَابُ: دِيَةِ الْجَنِينِ
باب: «جنین» (پیٹ کے بچے) کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2639
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: أَنَعْقِلُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین (پیٹ کے بچے کی دیت) میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ فرمایا، تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ بولا: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا ہو نہ کھایا ہو، نہ چیخا ہو نہ چلایا ہو، ایسے کی دیت کو تو لغو مانا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو شاعروں جیسی بات کرتا ہے؟ پیٹ کے بچہ میں ایک غلام یا لونڈی (دیت) ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2639]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین (پیٹ کے بچے) کے قتل کی صورت میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ دیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، اس نے کہا: ”کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے پیا، نہ کھایا، چیخا نہ چلایا، ایسا تو کالعدم ہوتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو شاعروں والی باتیں کرتا ہے۔ اس کی دیت ایک غلام یا ایک لونڈی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15096)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 46 (5758)، الفرائض 11 (5759)، الدیات 25 (6909)، 26 (6910)، صحیح مسلم/القسامة 11 (1681)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4576)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1410)، الفرائض 19 (2111)، سنن النسائی/القسامة 33 (4822)، موطا امام مالک/العقول 7 (5)، مسند احمد (2/236، 274، 498، 539)، سنن الدارمی/الدیات 20 (2425) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: اسْتَشَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ يَعْنِي سِقْطَهَا، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ :" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ"، فَقَالَ عُمَرُ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَشَهِدَ مَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ .
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پیٹ سے گر جانے والے بچے کے بارے میں مشورہ لیا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی اس بات کے لیے گواہ لاؤ، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ گواہی دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2640]
حضرت مسور بن مخرمہ (بن نوفل) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کا حمل ساقط ہو جانے کے بارے میں لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سے مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری موجودگی میں اس قسم کے مقدمے میں ایک غلام یا ایک لونڈی ادا کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا تھا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کوئی آدمی حاضر کرو جو تمہارے ساتھ گواہی دے۔“ چنانچہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ گواہی دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 2 (1689)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4570)، (تحفة الأشراف: 11233، 11529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253)، سنن الدارمی/المقدمة 54 (668)، الدیات 20 (2426) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عمر رضی اللہ عنہ نے مزید توثیق کے لئے گواہ طلب کیا تھا ورنہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سچے صحابی رسول تھے، اور خبر واحد حجت ہے جب وہ ثقہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2641
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ نَشَدَ النَّاسَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ يَعْنِي فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا:" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جنین (پیٹ کے بچے) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تلاش کیا، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا جس سے وہ اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا دونوں مر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین (پیٹ کے بچہ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا، اور عورت کو عورت کے قصاص میں قتل کا فیصلہ فرمایا ”۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2641]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (لوگوں سے) اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ دریافت فرمایا، یعنی پیٹ کے بچے کے قتل کے معاملے میں۔ حضرت حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کہا: ”میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی ماری، (اس طرح) اسے بھی قتل کر دیا اور اس کے پیٹ کے بچے کو بھی قتل کر دیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے کی دیت ایک غلام دلوائی اور حکم دیا کہ اس عورت کو (قصاص کے طور پر) قتل کر دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 21 (4572)، سنن النسائی/القسامة 33 (4820)، (تحفة الأشراف: 3444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/364، 4/79، سنن الدارمی/الدیات 21 (2427) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جرم دو تھے ایک عورت کا قتل، دوسرا بچہ کا، ہر ایک کی سزا الگ الگ دلائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
12. بَابُ: الْمِيرَاثِ مِنَ الدِّيَةِ
باب: دیت کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2642
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ:" الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى كَتَبَ إِلَيْهِ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا".
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ دیت (خون بہا) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2642]
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”دیت عاقلہ کو ملے گی، اور عورت کو اپنے خاوند کی دیت (خون بہا) سے ترکے والا حصہ نہیں ملے گا“ حتی کہ حضرت ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھ کر بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت سے ترکہ دلوایا تھا۔“ (تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رجوع فرما لیا۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 18 (2927)، سنن الترمذی/الدیات 19 (1415)، الفرائض 18 (2110)، (تحفة الأشراف: 4973)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول 17 (10)، مسند احمد (3/452) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلے عمر رضی اللہ عنہ کی رائے حدیث کے خلاف تھی، جب حدیث پہنچی تو اسی وقت اپنی رائے سے رجوع کر لیا، یہی حال تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور تمام علمائے صالحین کا تھا، لیکن اس زمانہ میں بعض نام کے مسلمان ایسے نکلے ہیں کہ اگر ایک حدیث نہیں دس صحیح حدیثیں بھی ان کو پہنچاؤ تب بھی قیاس اور رائے کی تقلید نہیں چھوڑتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح