🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ: الْجُبَارِ
باب: جن چیزوں میں نہ دیت ہے نہ قصاص ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2673
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عن أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےزبان (جانور) کا زخم بے قیمت اور بیکار ہے، کان اور کنویں میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2673]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چوپائے کا پہنچایا ہوا زخم «جُبَارٌ» (ہدر/رائیگاں) ہے، اور کان (میں گر کر آنے والا زخم) «جُبَارٌ» ہے اور کنواں «جُبَارٌ» ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 66 (1499)، المساقاة 3 (2355)، الدیات 28 (6912)، 29 (6913)، صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، سنن ابی داود/الخراج 40 (3085)، سنن الترمذی/الأحکام 37 (1377)، سنن النسائی/الزکاة 28 (2497)، (تحفة الأشراف: 1514713128)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول 18 (12)، مسند احمد (2/228، 9 22، 254، 274، 285، 319، 382، 386، 406، 411، 414، 454، 456، 467، 475، 482، 492، 495، 499، 501، 507)، سنن الدارمی/الزکاة 30 (1710) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جانور، کان اور کنواں کے مالک سے دیت نہیں لی جائے گی، یہ جب ہے کہ کوئی اپنی زمین میں کنواں کھودے یا مباح زمین میں راستہ میں کنواں کھودے اور کوئی اس میں گر پڑے یا دوسرے کی زمین میں کھودے تو کھودنے والا پکڑا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2674
حَدَّثَنَا أَبو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ".
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان (جانور) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2674]
حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: جانور کا پہنچایا ہوا زخم «هَدَرٌ» ہدر (رائگاں) ہے اور کان «هَدَرٌ» ہدر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 10781، ومصباح الزجاجة: 944) (صحیح)» ‏‏‏‏ (کثیر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہے، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ، وَالْبِئْرَ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءَ جَرْحُهَا جُبَارٌ"، وَالْعَجْمَاءُ: الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا، وَالْجُبَارُ: هُوَ الْهَدْرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: کان بیکار ہے اور کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور «عجماء» چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں، اور «جبار» ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا، کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور بےزبان (جانور) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2675]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ «الْمَعْدِنُ جُبَارٌ» کان ہدر (رائیگاں) ہے، «الْبِئْرُ جُبَارٌ» کنواں ہدر ہے، اور «الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ» چوپائے کا پہنچایا ہوا زخم ہدر ہے۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: «الْعَجْمَاءُ» سے مراد مویشی وغیرہ جانور ہیں۔ اور «جُبَارٌ» یعنی ہدر وہ ہوتا ہے جس کا کوئی تاوان (یا دیت وغیرہ) نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 5063، ومصباح الزجاجة: 945)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/326، 327) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں اسحاق بن یحییٰ اور عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی اس میں تاوان اور جرمانہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّارُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جَبَارٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ بیکار ہے، اور کنواں بیکار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2676]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ «هَدَرٌ» (رائیگاں) ہے اور کنواں «هَدَرٌ» ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 31 (4594)، (تحفة الأ شراف: 14699) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی نقصان کی صورت میں ان کا مالک ذمہ دار نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: الْقَسَامَةِ
باب: قسامہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَأُلْقِيَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ بِخَيْبَرَ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ:" كَبِّرْ، كَبِّرْ" يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ" فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ: وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:" تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟" قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ. فَقَالَ سَهْلٌ: فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی (روزگار کی تلاش میں) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان (عبداللہ بن سہل) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، (کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا) آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2677]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سہل اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہما تنگ دستی کی وجہ سے (روزی کی تلاش میں) خیبر گئے۔ (وہاں) کسی نے آکر حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے خیبر کے ایک کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے پاس جا کر انہیں کہا: قسم ہے اللہ کی! تم ہی نے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ (خیبر سے) اپنے قبیلے والوں کے پاس گئے اور انہیں صورت حال بتائی، پھر حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئے۔ حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات شروع کرنی چاہی کیونکہ (حادثے کے وقت) خیبر میں وہی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «كَبِّرِ الْكُبْرَ» بڑے کا لحاظ کرو۔ یعنی جو عمر میں بڑا ہے (اسے بات کرنے دو)۔ چنانچہ حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی، پھر ان کے بعد حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا وہ تمہارے مقتول کی دیت دیں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں اہل خیبر کے نام لکھا۔ انہوں نے (جواب میں) لکھا: قسم ہے اللہ کی! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حویصہ، حضرت محیصہ اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کیا تم قسمیں کھاتے ہو اور اپنے آدمی (مقتول) کا خون بہا (دیت) لینے کے مستحق بنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی تمہارے لیے قسمیں کھائیں گے (قسمیں کھا کر خود کو بے گناہ ثابت کر دیں گے)۔ انہوں نے کہا: وہ مسلمان نہیں (ان کے لیے جھوٹی قسمیں کھانا معمولی بات ہے)۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت دے دی، اور ان کے پاس سو اونٹنیاں بھیج دیں، اور وہ ان کے گھر پہنچا دی گئیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلح 7 (2702)، الجزیة 12 (3173)، الأدب 89 (6143)، الدیات 22 (6898)، الأحکام 38 (7192)، صحیح مسلم/القسامة 1 (1669)، سنن ابی داود/الدیات 8 (4520)، 9 (4523)، سنن الترمذی/الدیات 23 (1442)، سنن النسائی/القسامة 3 (4714)، (تحفة الأ شراف: 4644)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القسامة 1 (1)، مسند احمد (4/2، 3)، سنن الدارمی/الدیات 2 (2398) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب قاتل کا پتہ نہ لگے تو مقتول کی دیت بیت المال سے دی جائے گی، اور مسلم نے ایک صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کی دیت کو باقی رکھا اسی طریقہ پر جیسے جاہلیت کے زمانہ میں رائج تھی، اور جاہلیت میں یہی طریقہ تھا کہ مقتول کے اولیاء مدعی علیہم میں سے لوگوں کو چنتے، پھر ان کو اختیار دیتے، چاہیں وہ قسم کھا لیں چاہیں دیت ادا کریں، جیسے اس قسامت میں ہوا جو بنی ہاشم میں ہوئی، علماء نے قسامت کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب قاتل ایک معین جماعت میں سے ہو تو اس میں سے مقتول کا ولی قاتل کی جماعت سے لوگوں کو چن کر پچاس قسمیں کھلوائے، اگر وہ حلف اٹھا لیں تو بری ہوں گئے ورنہ ان کو دیت دینی ہوگی۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیہ ۳/۳۸۸)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلَنَا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھاؤ اور (دیت کے) مستحق ہو جاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود (قسم کھا کر) تم سے بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2678]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسعود کے بیٹے حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ اور سہل کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ غلہ لینے خیبر گئے۔ (وہاں) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا۔ یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم قسمیں کھا کر (دیت کے) مستحق بنتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کیسے قسم کھا سکتے ہیں جبکہ ہم نے دیکھا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی (قسمیں کھا کر) تم سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تب تو وہ ہمیں قتل کرنا شروع کر دیں گے۔ (وہ جسے چاہیں گے قتل کر کے پچاس جھوٹی قسمیں کھا لیا کریں گے۔) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس (بیت المال) سے اس کی دیت ادا فرما دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 8678، ومصباح الزجاجة: 949)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 2 (4718) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: مَنْ مَثَّلَ بِعَبْدِهِ فَهُوَ حُرٌّ
باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ خَصَى غُلَامًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُثْلَةِ.
سلمہ بن روح بن زنباع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو مثلہ (ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2679]
حضرت سلمہ بن روح بن زنباع اپنے دادا (زنباع بن روح جذامی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلے کی وجہ سے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 3650، ومصباح الزجاجة: 947) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں اسحاق بن عبد اللہ ضعیف ہے، اور سلمہ بن روح مجہول، لیکن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر اور دوسرے شواہد سے حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2680
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الصَّيْرَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَارِخًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ؟"، قَالَ: سَيِّدِي رَآنِي أُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَجَبَّ مَذَاكِيرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ"، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ"، قَالَ: عَلَى مَنْ نُصْرَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَرَقَّنِي مَوْلَايَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2680]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی چیختا چلاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے آقا نے مجھے اس کی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے دیکھ لیا تو اس نے میرے مردانہ اعضاء کاٹ ڈالے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ۔ اسے تلاش کیا گیا لیکن وہ پکڑا نہ جا سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غلام سے) فرمایا: جا، تو آزاد ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کون کرے گا؟ راوی نے کہا: اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میرے آقا نے مجھے دوبارہ غلام بنا لیا تو مجھے کون چھڑائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مومن یا فرمایا: ہر مسلمان (تیری مدد کرے گا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 7 (4519)، (تحفة الأ شراف: 8716)، و قد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 225) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو سخت ایذا دے مثلاً اس کا کوئی عضو کاٹے یا اس کا بدن جلائے تو حاکم اس کو آزاد کر سکتا ہے، اور اس کے مالک کو جو سزا مناسب سمجھے وہ دے سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ
باب: قاتلوں میں اہل ایمان کے سب سے بہتر ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2681
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَعَفِّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلَ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2681]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کرنے کے انداز میں بھی سب لوگوں سے زیادہ گناہ سے بچنے والے مومن ہی ہوتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9441)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 120 (2666)، مسند احمد (1/393) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ہشیم بن بشیر اور شباک دونوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز سند میں اضطراب ہے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1232)
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ وہ ناحق اور بے جا قتل نہیں کرتے، اور وہ انسان ہی نہیں بلکہ جانور کو بھی بری طرح تکلیف دے کر نہیں مارتے، اور وہ تیز چھری سے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2666)
مغيرة و إبراهيم النخعي عنعنا
وانظر الحديث الآتي (2682)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2682
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2682]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ہی قتل کرنے کے انداز میں بھی سب لوگوں سے زیادہ گناہ سے بچنے والے ہوتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الجہاد 120 (2666)، (تحفة الأ شراف: 9476) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ہنی بن نویرہ مقبول عند المتابعہ ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1232)
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ بے جا قتل نہیں کرتے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2666)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں