سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ: الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ
باب: مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 2683
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُرَدُّ عَلَى أَقْصَاهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے خون برابر ہیں، اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان میں سے ادنی شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اور (لشکر میں) سب سے دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2683]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے خون باہم ہم مرتبہ ہیں۔ وہ دوسروں (غیر مسلم دشمنوں) کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح ہیں۔ ان کا ادنیٰ بھی معاہدے کی ذمے داری اٹھا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو وہ (مجاہد) بھی غنیمت ادا کرے گا جو سب سے دور (اور دشمن سے بالکل قریب) ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 6029، ومصباح الزجاجة: 948) وقد مضی تمامہ برقم: (2660) (صحیح) (سند میں حنش (حسین بن قیس) ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 3475)»
وضاحت: ۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً ایک لشکر لڑائی کے لئے نکلا کچھ آگے کچھ پیچھے اب آگے والوں کو کچھ مال ملا تو پیچھے والے بھی گو ان سے دور ہوں اس میں شریک ہوں گے، اس لئے کہ وہ ان کی مدد کے لئے آ رہے تھے تو گویا انہی کے ساتھ تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2684
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَتَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ".
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان اپنے علاوہ (دوسرے مذہب) والوں کے مقابلہ میں ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے خون برابر ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2684]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان دوسروں کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح ہیں اور ان کے خون باہم برابر ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 11470، ومصباح الزجاجة: 949) (صحیح)» (عبدالسلام بن أبی الجنوب ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2685
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَيُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَقْصَاهُمْ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کا ہاتھ اپنے علاوہ دوسری قوم والوں پر ہے (یعنی ان سب سے لڑیں، آپس میں نہ لڑیں) ان کے خون اور ان کے مال برابر ہیں، مسلمانوں کا ادنی شخص کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور لشکر میں دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2685]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کا ہاتھ غیروں کے خلاف (ایک ہی) ہوتا ہے۔ ان کے خون اور مال (مرتبے اور قابل حفاظت ہونے کے لحاظ سے) برابر ہیں۔ اور مسلمانوں کے خلاف (کسی غیر مسلم کو) سب سے کم درجے کا مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے۔ اور مسلمانوں کو وہ (مجاہد) بھی (غنیمت) ادا کرے گا جو سب سے دور ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 8739، ومصباح الزجاجة: 950)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 159 (2751)، مسند احمد (2/205، 215، 216) (حسن صحیح)» (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، کماتقدم)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
32. بَابُ: مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا
باب: ذمی کافر کو قتل کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2686
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2686]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے اسے جنت کی خوشبو نہیں آئے گی، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے فاصلے سے محسوس ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجزیة 5 (3166)، الدیات 20 (6914)، (تحفة الأشراف: 8917)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 10 (4753)، مسند احمد (2/186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2687
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2687]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، جس کی (حفاظت کی) ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول نے اٹھائی ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کے فاصلے سے محسوس ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 11 (1403)، (تحفة الأ شراف: 14140) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: (451)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
33. بَابُ: مَنْ أَمِنَ رَجُلاً عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ
باب: کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ ، قَالَ: لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
حضرت رفاعہ بن شداد قتبانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اگر میں نے حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو مختار ثقفی کے سر اور دھڑ کے درمیان چلتا (اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیتا)، میں نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے کوئی اپنا خون محفوظ سمجھتا ہو اور وہ اسے قتل کر ڈالے تو قیامت کے دن وہ (قاتل) عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10730، ومصباح الزجاجة: 951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/223، 224، 436، 437) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2689
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ ، عَنْ رِفَاعَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي قَصْرِهِ، فَقَالَ: قَامَ جِبْرَائِيلُ مِنْ عِنْدِيَ السَّاعَةَ فَمَا مَنَعَنِي مِنْ ضَرْبِ عُنُقِهِ إِلَّا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا أَمِنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُ" فَذَاكَ الَّذِي مَنَعَنِي مِنْهُ.
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2689]
حضرت رفاعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، اس نے کہا: ”جبرائیل علیہ السلام ابھی ابھی میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں۔“ میں صرف اس لیے اسے قتل نہ کر سکا کہ میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص تجھ سے اپنے خون کے بارے میں مطمئن ہو (اسے یقین ہو کہ اس کے ہاتھ سے میری جان محفوظ ہے) تو اسے قتل نہ کر۔“ اسی (فرمان) نے مجھے اس (کو قتل کرنے) سے روک دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث رفاعة تقدم تخریجہ بمثل الحدیث السابق (2688)، وحدیث سلیمان بن صرد، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4570 (الف)، ومصباح الزجاجة: 952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/394) (ضعیف)» (سند میں ابولیلیٰ اور أبوعکاشہ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2200)
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ رسالت کا دعوی کر رہا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن ميسرة: ضعيف و قال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 280/8)
و أبو عكاشة الهمداني: مجهول (تقريب: 3652،8260)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن ميسرة: ضعيف و قال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 280/8)
و أبو عكاشة الهمداني: مجهول (تقريب: 3652،8260)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475
34. بَابُ: الْعَفْوِ عَنِ الْقَاتِلِ
باب: قاتل کو معاف کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2690
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَلِيِّ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ"، قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: فَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ، فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آپ کے پاس لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی سے کہا: ”اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے“ تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2690]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک شخص نے قتل کر دیا۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مقتول کے وارث کے سپرد کر دیا۔ قاتل نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میرا اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث سے فرمایا: ”سنو! اگر وہ سچا ہوا، پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے۔“ اس نے اسے آزاد کر دیا۔ راوی نے بیان کیا: اس کے بازو چمڑے کی رسی سے بندھے ہوئے تھے۔ ((اس کے چھوڑ دینے پر) وہ رسی کھینچتا ہوا نکلا (اس لیے) اسے «ذُو النِّسْعَةِ» (تسمے والا) کہا جانے لگا۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4498)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1407)، سنن النسائی/القسامة 3 (4726)، (تحفة الأشراف: 12507) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2691
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ العسقلاني ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ" فَأَبَى، فَقَالَ:" خُذْ أَرْشَكَ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ" قَالَ: فَلُحِقَ بِهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ:" اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ قَالَ: فَرُئِيَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ ذَاهِبًا إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ أَوْثَقَهُ، قَالَ أَبُو عُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولُ:" اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا حَدِيثُ الرَّمْلِيِّينَ لَيْسَ إِلَّا عِنْدَهُمْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو“ اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ“ ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ۱؎۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے «اقتله فإنك مثله» کہنا درست نہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2691]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص اپنے ولی (قریبی رشتے دار) کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاف کر دو۔“ اس نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خون بہا لے لو۔“ اس نے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے قتل کر دو تم بھی اس جیسے ہو۔“ ایک آدمی اس کے پیچھے جا کر اسے ملا اور اسے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسے قتل کر دو، تم بھی اس جیسے ہو۔“ اس نے (فوراً) اسے چھوڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں: دیکھا گیا کہ وہ شخص تسمہ (چمڑے کی رسی) کھینچتا ہوا گھر جا رہا تھا (راوی کے اس لفظ سے) معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھا ہوا تھا۔ عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں: ”اسے قتل کر دے، تو بھی اس جیسا ہے۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث رملہ والوں کی ہے، صرف انہوں نے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 3 (4734)، (تحفة الأشراف: 451) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علماء نے حدیث کے اس ٹکڑے کی توضیح یوں کی ہے کہ قاتل قتل کی وجہ سے خیر سے محروم ہوا، تم بھی اس کو قصاصاً قتل کر کے خیر سے محروم ہو جاؤ گے، کیونکہ اس کو قتل کرنے سے مقتول زندہ نہیں ہو گا، ایسی صورت میں اس پر رحم کرنا ہی بہتر ہے، بعض علماء کہتے ہیں کہ اس نے قتل کی نیت سے اسے نہیں مارا تھا، اس لئے دیانۃ اس پر قصاص لازم نہیں تھا، اگرچہ قضاءاً لازم تھا، اور بعض کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اس آدمی کو عمل کرنا چاہئے، گرچہ آپ کا فرمان بطور سفارش تھا، نہ کہ بطور حکم، اگر وہ آپ کے اس ارشاد کے خلاف کرتا تو اپنے آپ کو محرومی اور بدنصیبی کا مستحق بنا لیتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
35. بَابُ: الْعَفْوِ فِي الْقِصَاصِ
باب: قصاص معاف کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2692
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے (یعنی سفارش کرتے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2692]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی کوئی ایسا مقدمہ پیش کیا گیا جس میں قصاص ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کرنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4497)، سنن النسائی/القسامة 23 (4787، 4788)، (تحفة الأ شراف: 1095)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/213، 252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح