سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعَدَّ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانٌ بِي، وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ"، ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جا سکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2753]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ نے اس کے لیے (یہ اجر و ثواب) تیار کیا (کہ وہ فرماتا ہے) یہ شخص صرف میری راہ میں جہاد کے لیے، مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے رسولوں کو سچا مان کر نکلا ہے، اس لیے میں اسے ضمانت دیتا ہوں کہ یا اسے (شہادت سے سرفراز کر کے) جنت میں داخل کروں گا، یا اسے حاصل ہونے والے ثواب یا غنیمت کے ساتھ، اسے اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا جس سے وہ نکلا تھا۔“ پھر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری وجہ سے مسلمانوں کو مشقت (اور تکلیف) ہوگی، میں کبھی اللہ کی راہ میں نکلنے والے کسی جہادی دستے سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ انہیں سواریاں مہیا کر سکوں، اور ان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ (اپنے خرچ پر) میرے ساتھ (جہاد کے لیے) چلے جائیں، اور نہ مجھ سے پیچھے رہنے پر ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں (اس لیے میں بھی بعض اوقات جہاد کے لیے جانے والے لشکر کے ساتھ نہیں جاتا)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے تو یہ چیز محبوب ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ کر کے شہید ہو جاؤں، پھر جنگ کروں اور شہید ہو جاؤں، پھر جنگ کروں اور شہید ہو جاؤں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 26 (36 مطولاً)، الجہاد 2 2787)، فرض الخمس 8 (3123)، التوحید 28 (7457)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن النسائی/الجہاد 14 (3124)، (تحفة الأشراف: 14901)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 1 (2)، مسند احمد (2/231، 384، 399، 424، 494)، سنن الدارمی/الجہاد 2 (2436) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2754
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَضْمُونٌ عَلَى اللَّهِ إِمَّا أَنْ يَكْفِتَهُ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، وَإِمَّا أَنْ يَرْجِعَهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَمَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ کی طرف سے یہ ضمانت حاصل ہے کہ وہ اسے یا تو (شہادت کی موت دے کر) اپنی بخشش اور رحمت کے دامن میں لے لے گا، یا پھر ثواب اور غنیمت کے ساتھ واپس (گھر) لے آئے گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، واپسی تک اس روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح (ثواب حاصل کرتا) ہے جو (نفلی روزوں اور نفلی نمازوں سے) تھکتا نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4224، ومصباح الزجاجة: 973) (صحیح)» (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ وارد ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 1304 و 1320)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف
و حديث مسلم (1878) و الترمذي (1620) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف
و حديث مسلم (1878) و الترمذي (1620) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
2. بَابُ: فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2755
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2755]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں (گزرنے والی) ایک صبح یا ایک شام دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1649)، (تحفة الأشراف: 13428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2792)، مسند احمد (2/532، 533) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2756
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2756]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سب سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4673)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2794)، 73 (2892)، الرقاق 2 (6415)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1881)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1648)، 26 (1664)، سنن النسائی/الجہاد 11 (3120)، مسند احمد (3/433، 5/335، 337، 339)، سنن الدارمی/الجہاد 9 (2443) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2757
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2757]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام یقیناً دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 726)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2792)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1880)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1651) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
3. بَابُ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا
باب: مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2758
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَسْتَقِلَّ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَرْجِعَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ کے کسی مجاہد کو ساز و سامان سے لیس کر دے یہاں تک کہ اسے مزید کسی چیز کی ضرورت نہ رہ جائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا مجاہد کو، یہاں تک کہ وہ مر جائے یا اپنے گھر لوٹ آئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2758]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے والے کو اتنا سامان دیا کہ اسے (جہاد کے سلسلے میں) کسی چیز کی (مزید) ضرورت نہ رہی، اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو شہادت یا واپسی تک ملے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10605، ومصباح الزجاجة: 974)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/20، 53) (ضعیف)» (سند میں ولید بن أبو ولید ضعیف ہے، اور عثمان بن عبد اللہ کی عمر رضی اللہ عنہ سے رو ایت مرسل و منقطع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2759
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو ساز و سامان سے لیس کر دے، اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2759]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے والے کو سامان مہیا کیا، اسے بھی اس (مجاہد) کے برابر ثواب ملے گا جب کہ مجاہد کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 6 (1629 1630)، (تحفة الأشراف: 3761)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 38 (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن ابی داود/الجہاد 21 (2509)، سنن النسائی/الجہاد 44 (3182)، مسند احمد (4/115، 116، 117، 5/192، 193)، سنن الدارمی/الجہاد 27 (2463) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
4. بَابُ: فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2760
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین دینار جسے آدمی خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے پر خرچ کرتا ہے، نیز وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2760]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا خرچ کیا ہوا سب سے افضل دینار وہ ہے جو وہ اہل و عیال (بیوی بچوں) میں خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار جو وہ اللہ کی راہ (جہاد) میں گھوڑے پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو آدمی اللہ کی راہ میں (جہاد کے دوران) اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 12 (994)، سنن الترمذی/البر والصلة 42 (1966)، (تحفة الأشراف: 2101)، وقد أخرجہ: مسند احمد5/ (279، 284) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2761
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أَرْسَلَ بِنَفَقَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَقَامَ فِي بَيْتِهِ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ فِي وَجْهِ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ سورة البقرة آية 261".
علی بن ابی طالب، ابوالدردا ء، ابوہریرہ، ابوامامہ باہلی، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) خرچ بھیجے، اور اپنے گھر بیٹھا رہے تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم ہیں، اور جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں) بذات خود جہاد کرنے نکلے، اور خرچ کرے، تو اسے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «والله يضاعف لمن يشاء» ”اور اللہ تعالیٰ جیسے چاہے دو گنا کر دے“ (سورۃ البقرہ: ۲۶۱)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2761]
حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابودرداء، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابوامامہ باہلی، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ بھیجتا ہے اور خود گھر میں مقیم رہتا ہے، اسے ایک درہم کے بدلے میں سات سو درہم کا ثواب ملتا ہے، اور جو شخص خود اللہ کی راہ میں جنگ کرتا ہے اور اس سلسلے میں خرچ کرتا ہے، اسے ایک درہم کے بدلے میں سات لاکھ درہم کا ثواب ملتا ہے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [سورة البقرة: 261] ”اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے ثواب دگنا کر دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2227، 8617، 10068، 10794، 10929، 12261، ومصباح الزجاجة: 975) (ضعیف)» (سند میں خلیل بن عبداللہ مجہول راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،الخليل بن عبد اللّٰه: لا يعرف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،الخليل بن عبد اللّٰه: لا يعرف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
5. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجِهَادِ
باب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2762
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نہ غزوہ کرے، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2762]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نہ جہاد کیا، نہ کسی مجاہد کو سامان مہیا کیا اور نہ کسی مجاہد کی غیر حاضری میں اس کے گھر والوں کی اچھی طرح خبر گیری کی تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت سے پہلے ہی کسی آفت میں مبتلا کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 18 (2503)، (تحفة الأشراف: 4897)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد 26 (2462) (حسن)» (تراجع الألبانی: رقم: 380)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن