سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. بَابُ: غَسْلِ الْوَجْهِ
باب: چہرہ دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قال: أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِهِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا،" فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ بِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ هَذَا.
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نماز پڑھ چکے تھے، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا، ہم لوگوں نے (دل میں یا آپس میں) کہا: وہ اسے کیا کریں گے؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، (ایسا کر کے) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے، چنانچہ ایک برتن جس میں پانی تھا، اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ تین بار دھویا، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا، پھر دایاں پیر تین بار دھویا، اور بایاں پیر تین بار دھویا، پھر کہنے لگے: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 92]
حضرت عبد خیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ نے وضو کا پانی منگوایا۔ ہم نے کہا: ”آپ اس سے کیا کریں گے جبکہ آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں؟“ دراصل آپ ہمیں وضو سکھانا چاہتے تھے، چنانچہ آپ کے پاس ایک پانی کا برتن اور ایک تھال لایا گیا۔ آپ نے برتن سے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے تین دفعہ دھویا۔ پھر اسی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا جس سے پانی لیتے تھے، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنا دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور اپنا بایاں بازو تین دفعہ دھویا اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں تین دفعہ دھویا اور بایاں پاؤں بھی تین دفعہ دھویا، پھر فرمایا: ”جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو جاننا پسند کرتا ہے، وہ جان لے کہ وہ ایسا تھا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 92]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
76. بَابُ: عَدَدِ غَسْلِ الْوَجْهِ
باب: چہرہ کتنی بار دھوئے؟
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ" دَعَا بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَأَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأَشَارَ شُعْبَةُ مَرَّةً مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَدْرِي أَرَدَّهُمَا أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طُهُورُهُ. وقَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ لَيْسَ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا، (شعبہ - جو حدیث کے راوی ہیں - نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا، پھر کہا: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو (گدی سے پیشانی تک) واپس لائے یا نہیں؟) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 93]
حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کرسی لائی گئی، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر پانی کا ایک تھال منگوایا، آپ نے اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، یہ تین بار کیا، اور اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور اپنے بازو تین تین دفعہ دھوئے، پھر کچھ پانی لیا اور سر کا مسح کیا، شعبہ نے ایک بار پیشانی سے لے کر سر کے مؤخر تک اشارہ کیا، پھر کہا: ”مجھے معلوم نہیں کہ پھر (ہاتھوں کو) لوٹایا تھا یا نہیں۔“ اور تین تین دفعہ اپنے پاؤں دھوئے، پھر فرمایا: ”جو شخص پسند کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو وہ جان لے کہ یہ آپ کا وضو ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ (نسائی) لکھتے ہیں: ”(سند میں) یہ غلطی ہے، صحیح نام خالد بن علقمہ ہے نہ کہ مالک بن عرفطہ۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 93]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 91، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
77. بَابُ: غَسْلِ الْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھوں کے دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قال: شَهِدْتُ عَلِيًّا دَعَا بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ" دَعَا بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا وُضُوءُهُ.
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کرسی منگائی، پھر وہ اس پر بیٹھے، پھر ایک برتن میں پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو کر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہی آپ کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 94]
حضرت عبد خیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے کرسی منگوائی، اس پر بیٹھے، پھر ایک تھال میں پانی منگوایا اور اپنے ہاتھ تین دفعہ دھوئے، پھر ایک ہی ہاتھ سے تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنا چہرہ اور بازو تین تین دفعہ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈبویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے پاؤں تین تین دفعہ دھوئے، پھر فرمایا: ”جو شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا پسند کرے، تو وہ جان لے کہ یہ آپ کا وضو ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 94]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 91، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
78. بَابُ: صِفَةِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 95
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي شَيْبَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي عَلِيٌّ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قال: دَعَانِي أَبِي عَلِيٌّ بِوَضُوءٍ، فَقَرَّبْتُهُ لَهُ فَبَدَأَ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: نَاوِلْنِي، فَنَاوَلْتُهُ الْإِنَاءَ الَّذِي فِيهِ فَضْلُ وَضُوئِهِ، فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا". فَعَجِبْتُ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: لَا تَعْجَبْ، فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ، يَقُولُ: لِوُضُوئِهِ هَذَا وَشُرْبِ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا.
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا، تو میں نے اسے (وضو کے پانی کو) انہیں لا کر دیا، آپ نے وضو کرنا شروع کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور تین بار (پانی لے کر) ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ (بھی) اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر (دھویا)، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: مجھے (برتن) دو، چنانچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا، تو مجھے تعجب ہوا، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے: تعجب نہ کرو، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 95]
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی منگوایا، میں نے پانی آپ کے قریب کیا، آپ نے پہلے اپنی ہتھیلیاں تین دفعہ دھوئیں، پہلے اس سے کہ انھیں پانی میں داخل کریں، پھر آپ نے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک صاف کیا۔ پھر چہرہ تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین دفعہ دھویا، پھر بائیں کو اسی طرح دھویا، پھر آپ نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھویا، پھر اسی طرح بایاں دھویا، پھر سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”مجھے برتن پکڑاؤ۔“ میں نے آپ کو برتن پکڑایا جس میں آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی تھا۔ آپ نے وہ کھڑے کھڑے پیا۔ مجھے تعجب ہوا۔ جب آپ نے مجھے دیکھا، تو فرمایا: ”تعجب نہ کر، کیونکہ میں نے تیرے نانا نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح کرتے تھے جس طرح تو نے مجھے کرتے دیکھا ہے۔“ آپ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کا اشارہ وضو اور کھڑے ہو کر وضو کا پانی پینے کی طرف تھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 95]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10075)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (عقیب 117) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
79. بَابُ: عَدَدِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھ کو کتنی بار دھوئے؟
حدیث نمبر: 96
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ وَهُوَ ابْنُ قَيْسٍ قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ". ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ طُهُورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں (خوب) صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے، اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پی لیا، پھر کہنے لگے کہ میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کو دکھلاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 96]
حضرت ابوحیہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کا آغاز کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو دھویا حتیٰ کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا، پھر تین دفعہ کلی کی اور پھر تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور تین تین دفعہ اپنے بازو دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں سمیت اپنے پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو سے بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پیا، پھر فرمایا: ”میں نے اچھا سمجھا کہ تمہیں دکھاؤں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 96]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 50 (116) مختصرًا، سنن الترمذی/فیہ 37 (48)، (تحفة الأشراف: 10321)، مسند احمد 1/120، 125، 127، 142، 148، وعبداللہ بن أحمد 1/127، 156، 157، 158، 160، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
80. بَابُ: حَدِّ الْغَسْلِ
باب: اعضائے وضو دھونے کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 97
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا- وہ ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور (عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے پانی منگایا، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا، انہیں دو دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 97]
حضرت عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور عمرو بن یحییٰ کے نانا تھے، سے گزارش کی: ”کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسے فرمایا کرتے تھے؟“ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں۔“ پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے ہاتھ پر ڈالا اور دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے، پھر تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دو دو مرتبہ کہنیوں سمیت دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا کہ دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے لائے، مسح کی ابتدا سر کے اگلے حصے سے کی، پھر ہاتھوں کو اپنی گدی کی طرف لے گئے، پھر واپس لائے حتیٰ کہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے مسح کی ابتدا کی تھی، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 97]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، 39 (186)، 41 (191)، 42 (192)، 45 (197)، 46 (199)، صحیح مسلم/الطہارة 7 (235)، سنن ابی داود/فیہ 47 (100)، 50 (118، 119)، سنن الترمذی/فیہ 22 (28)، 24 (32)، 36 (47)، سنن ابن ماجہ/فیہ 43 (405)، 61 (471)، 51 (434)، (تحفة الأشراف: 5308)، موطا امام مالک/فیہ 1 (1)، مسند احمد 4/38، 39، 40، 42، سنن الدارمی/الطہارة 27 (700)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 98، 99 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ”وہ“ کی ضمیر عبداللہ بن زید بن عاصم کی طرف لوٹ رہی ہے، لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہے کیونکہ عمرو بن یحییٰ کے دادا کا نام عمارہ ہے جیسا کہ دوسری روایات سے ظاہر ہے، اس لیے صحیح یہ ہے کہ ضمیر سائل (عمارہ یا عمرو) کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ مسئول کی طرف، صحیح بخاری میں اس کی صراحت موجود ہے کہ سائل یحییٰ نہیں بلکہ عمارہ یا عمرو ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
81. بَابُ: صِفَةِ مَسْحِ الرَّأْسِ
باب: سر کے مسح کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 98
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ هُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ان کے باپ عمارہ نے) عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا - (وہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! چنانچہ انہوں نے پانی منگایا، اور اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیل کر اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لے آئے یہاں تک کہ اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 98]
یحییٰ مازنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے گزارش کی، اور آپ عمرو بن یحییٰ رحمہ اللہ کے نانا تھے: ”کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسے کرتے تھے؟“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں۔“ پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دائیں ہاتھ پر ڈالا اور دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے، پھر تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دو دو مرتبہ کہنیوں سمیت دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا اس طرح کہ دونوں ہاتھ آگے پیچھے لائے، مسح کی ابتدا سر کے اگلے حصے سے کی، پھر ہاتھوں کو اپنی گدی کی طرف لے گئے، پھر واپس لائے حتیٰ کہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے مسح کی ابتدا کی تھی، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 98]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5308) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
82. بَابُ: عَدَدِ مَسْحِ الرَّأْسِ
باب: سر کا مسح کتنی بار کیا جائے؟
حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ۱؎) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ۲؎ اپنے سر کا مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 99]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی، سے منقول ہے، کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور دو بازو دو دفعہ دھوئے، پاؤں کو بھی دو مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح دو دفعہ کیا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 99]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 97، (تحفة الأشراف: 5308) (شاذ)»
وضاحت: ۱؎: «الذي أرى الندائ» یہ راوی کی غلطی ہے، اس لیے کہ وضو والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں، اور اذان والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ ہیں، اس لیے اس سند میں زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ ۲؎: دو بار سے مراد پیچھے سے آگے لانا، اور آگے سے پیچھے لے جانا ہے، یہ فی الواقع ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر «مرتین» (دو بار) سے کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، لشذوذه سفيان بن عيينة صرح بالسماع ولكنه شك فى هذا اللفظ ’’مسح برأسه مرتين‘‘ وهو شاذ. وللحديث شاهد ضعيف، فى سنن أبى داود (126) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
83. بَابُ: مَسْحِ الْمَرْأَةِ رَأْسَهَا
باب: عورت اپنے سر کا مسح کیسے کرے۔
حدیث نمبر: 100
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُنَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَالِمٌ سَبَلَانُ، قال: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَعْجِبُ بِأَمَانَتِهِ وَتَسْتَأْجِرُهُ، فَأَرَتْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ" فَتَمَضْمَضَتْ وَاسْتَنْثَرَتْ ثَلَاثًا، وَغَسَلَتْ وَجْهَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَتْ يَدَهَا الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَوَضَعَتْ يَدَهَا فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهَا ثُمَّ مَسَحَتْ رَأْسَهَا مَسْحَةً وَاحِدَةً إِلَى مُؤَخِّرِهِ، ثُمَّ أَمَرَّتْ يَديْهَا بِأُذُنَيْهَا، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْخَدَّيْنِ". قَالَ سَالِمٌ: كُنْتُ آتِيهَا مُكَاتَبًا مَا تَخْتَفِي مِنِّي فَتَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيَّ وَتَتَحَدَّثُ مَعِي حَتَّى جِئْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ، فَقُلْتُ: ادْعِي لِي بِالْبَرَكَةِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: أَعْتَقَنِي اللَّهُ، قَالَتْ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَأَرْخَتِ الْحِجَابَ دُونِي فَلَمْ أَرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب (غلام) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 100]
حضرت ابو عبداللہ سالم سبلان رحمہ اللہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت داری سے بہت خوش تھیں اور ان سے اجرت پر کام کروایا کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ ”مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دکھلایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑا اور اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا، پھر اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ (بازو) تین تین دفعہ دھویا، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہاتھ سر کے اگلے حصہ پر رکھا اور پیچھے تک پورے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے کانوں پر پھیرے، پھر رخساروں پر پھیرے۔“ سالم رحمہ اللہ نے کہا: ”میں جب مکاتب تھا تو آپ کے پاس آیا کرتا تھا، وہ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں بلکہ میرے سامنے بیٹھ کر مجھ سے باتیں کیا کرتی تھیں حتیٰ کہ میں ایک دن ان کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے ام المومنین! میرے لیے برکت کی دعا فرمائیے۔ وہ کہنے لگیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آزاد فرما دیا ہے۔ وہ کہنے لگیں: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے برکت فرمائے۔ اس کے بعد پردہ لٹکا لیا اور اس دن کے بعد میں نے انہیں نہیں دیکھا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16093) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
84. بَابُ: مَسْحِ الأُذُنَيْنِ
باب: کان کے مسح کا بیان۔
حدیث نمبر: 101
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً". قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنُ عَجْلَانَ، يَقُولُ فِي ذَلِكَ: وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎، اور اپنا چہرہ دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 101]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ دھوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ایک بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں بازو ایک ایک دفعہ دھوئے اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا ایک دفعہ مسح کیا۔“ (راویِ حدیث) عبدالعزیز کہتے ہیں: ”مجھے ابن عجلان سے سننے والے نے خبر دی کہ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔“” [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 7 (140)، سنن ابی داود/الطہارة 52 (137) مطولاً، سنن الترمذی/الطہارة 28 (36) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطہارة 43 (403) مختصرًا، 52 (439) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 5978)، مسند احمد 1/268، 365، 703، سنن الدارمی/الطہارة 29 (723، 724) مختصرًا (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 102) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن