سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ: بِأَىِّ الرِّجْلَيْنِ يَبْدَأُ بِالْغَسْلِ
باب: کس پاؤں کو پہلے دھوئے؟
حدیث نمبر: 112
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي الأَشْعَثُ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَذَكَرَتْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَتَرَجُّلِهِ". قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَمِعْتُ الْأَشْعَثَ بِوَاسِطٍ، يَقُولُ: يَحِبُّ التَّيَامُنَ، فَذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ. ثُمَّ سَمِعْتُهُ بِالْكُوفَةِ، يَقُولُ: يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو کرنے میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھی کرنے میں طاقت بھر داہنی جانب کو پسند کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: پھر میں نے اشعث سے مقام واسط میں سنا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام امور کو داہنے سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، پھر میں نے کوفہ میں انہیں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حتیٰ المقدور داہنے سے شروع کرنے کو پسند کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 112]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ممکن ہوتا وضو فرمانے، جوتا پہننے اور کنگھی کرنے میں دائیں طرف سے ابتدا کرنا پسند فرماتے۔“ شعبہ کہتے ہیں: ”میں نے اشعث کو واسط میں کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور میں دائیں طرف پسند کرتے تھے۔ پھر میں نے انہیں کوفہ میں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حسب استطاعت دائیں جانب پسند کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 31 (168)، الصلاة 47 (426)، الأطعمة 5 (5380)، اللباس 38 (5854)، و 77 (5926)، صحیح مسلم/الطہارة 19 (268)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4140)، سنن الترمذی/الصلاة316 (608)، 10 (80)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 42 (401)، (تحفة الأشراف: 17657)، مسند احمد 6/94، 130، 147، 187، 188، 202، 210، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 421، 5062، 5242 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شعبہ کے اس قول کا ماحصل یہ ہے کہ میں نے اس روایت کو اشعث سے درج ذیل تینوں طرح سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
91. بَابُ: غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِالْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھ سے دونوں پیر دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 113
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ يَعْنِي عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ" فَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَقَالَ: عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِيَمِينِهِ كِلْتَيْهِمَا".
عمارہ کہتے ہیں: مجھ سے قیسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۱؎ اور انہیں ایک بار دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 113]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابو قراد قیسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن سے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں ایک دفعہ دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کو ایک ایک دفعہ دھویا اور اپنے دونوں پاؤں اپنے دونوں ہاتھوں سے دھوئے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15648) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ‘’عمارہ بن عثمان بن حنیف“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «فقال على يديه» وارد ہے عرب قول کو مختلف افعال و اعمال کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلاً «قال بيده» سے ”لیا“ «قال برجله» سے ”چلا“ اور «قالت له العينان» سے ”اشارہ کیا“ مراد لیتے ہیں، اسی طرح «قال على يديه من الإنائ» سے ”برتن سے پانی دونوں ہاتھوں پر انڈیلا“ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
92. بَابُ: الأَمْرِ بِتَخْلِيلِ الأَصَابِعِ
باب: انگلیوں میں خلال کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 114
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 114]
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو اچھی طرح وضو کر اور انگلیوں کے درمیان خلال کر۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشراف: 11172) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 87)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
93. بَابُ: عَدَدِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ
باب: کتنی بار پاؤں دھویا جائے؟
حدیث نمبر: 115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحیہ وادعی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچوں کو تین بار دھویا، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار اپنا چہرہ اور تین تین بار اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور تین تین بار اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 115]
حضرت ابوحیہ وادعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا کہ آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، اپنا چہرہ تین مرتبہ اور اپنے بازو بھی تین تین مرتبہ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پیروں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر فرمایا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 96)، (تحفة الأشراف: 10321) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
94. بَابُ: حَدِّ الْغَسْلِ
باب: دھونے کی حد یعنی ہاتھ اور پاؤں کہاں تک دھوئے؟
حدیث نمبر: 116
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا. ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی مانگا، اور وضو کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 116]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت حمران رحمہ اللہ سے منقول ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، اپنی ہتھیلیاں تین دفعہ دھوئیں۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر چہرہ تین دفعہ دھویا، پھر دایاں بازو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر بایاں بازو بھی اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر بایاں پاؤں اسی طرح دھویا، پھر کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا“، پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ ان کی ادائیگی کے دوران میں اپنے دل سے کوئی بات نہ کرے تو اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 84، 85)، (تحفة الأشراف: 9794) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہاتھ کہنی تک اور پیر ٹخنے تک دھویا جائے، اور سر کے مسح کے علاوہ سارے اعضاء تین تین بار دھوئے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
95. بَابُ: الْوُضُوءِ فِي النَّعْلِ
باب: جوتا پہنے ہوئے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَمَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَتَوَضَّأُ فِيهَا، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا".
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
حضرت عبید بن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں دیکھتا ہوں کہ آپ صاف چمڑے کے جوتے پہنتے ہیں اور ان میں وضو کرتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پہنتے اور ان میں وضو کرتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 30 (166) مطولاً، اللباس 37 (5851) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن ابی داود/الحج 21 (1772) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، موطا امام مالک/الحج 9 (31)، مسند احمد 2/17، 66، 110، 138 (تحفة الأشراف: 7316) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 2761، 2953، 5245)»
وضاحت: ۱؎: یہاں وضو سے مراد پاؤں دھونا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
96. بَابُ: الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 118
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"، فَقِيلَ لَهُ: أَتَمْسَحُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ، وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ قَوْلُ جَرِيرٍ، وَكَانَ إِسْلَامُ جَرِيرٍ قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 118]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ انہیں کہا گیا کہ ”کیا آپ موزوں پر مسح کرتے ہیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بہت پسند آتی تھی کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے اسلام لائے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (272)، سنن الترمذی/فیہ 70 (93)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (543)، (تحفة الأشراف: 3235)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ 59 (154)، مسند احمد 4/358، 361، 364، ویأتي عند المؤلف برقم: 775 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 119
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 119]
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 48 (204، 205)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 89 (562)، (تحفة الأشراف: 10701)، مسند احمد 4/139، 179، و 5/287، 288، سنن الدارمی/الطہارة 38 (737)، بزیادة ’’العمامة‘‘ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 120
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ نَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ الْأَسْوَاقَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا: مَا صَنَعَ؟ فَقَالَ بِلَالٌ:" ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ صَلَّى".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ اسواف ۱؎ میں داخل ہوئے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نکلے، اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، چنانچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 120]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسواف میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر باہر نکلے تو اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے بلال سے پوچھا کہ آپ نے کیا کیا؟“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر وضو فرمایا، اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، اپنے سر کا مسح فرمایا اور موزوں پر مسح فرمایا، پھر نماز پڑھی۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2030) (حسن صحیح) (صحیح موارد الظمآن 151)»
وضاحت: ۱؎: اسواف حرم مدینہ کو کہتے ہیں۔ اور مدینہ میں ایک مقام کا نام بھی اسواف ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 121
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 121]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ”موزوں پر مسح فرمایا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 48 (202)، (تحفة الأشراف: 3899)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة 84 (546)، مسند احمد 1/15 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري