🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. بَابُ: مَسْحِ الأُذُنَيْنِ مَعَ الرَّأْسِ وَمَا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّهُمَا مِنَ الرَّأْسِ
باب: سر کے ساتھ کان کے مسح کا بیان اور کان کے سر کا حصہ ہونے کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بِإِبْهَامَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا، اور کلی کی، اور ناک میں ڈالا، پھر دوسرا چلو لیا، اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے، اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 102]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، چنانچہ ایک چلو پانی لیا، اس سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا۔ کانوں کے اندرونی جانب کا مسح شہادت کی انگلیوں سے اور بیرونی جانب کا انگوٹھوں سے کیا۔ پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے بایاں پاؤں دھویا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 101، (تحفة الأشراف: 5978) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجْتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ". قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ.
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے۔ قتیبہ کی روایت میں «عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال» کے بجائے «عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال» ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 103]
حضرت عبد اللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن بندہ وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کی غلطیاں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ ناک جھاڑتا ہے تو ناک کی غلطیاں ناک سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ منہ دھوتا ہے تو چہرے کی غلطیاں چہرے سے حتیٰ کہ آنکھوں کی پلکوں سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں کی غلطیاں اس کے ہاتھوں سے حتیٰ کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی غلطیاں سر سے حتیٰ کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کی غلطیاں پاؤں سے حتیٰ کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور اس کی نماز (ان دو کاموں کا ثواب) اس کے لیے زائد ہوتے ہیں۔ قتیبہ نے یوں بیان کیا: «عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ» یعنی صنابحی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 6 (282)، موطا امام مالک/فیہ 6 (30)، (تحفة الأشراف: 9677)، مسند احمد 4/348، 349 (صحیح)»
وضاحت: گناہ نکل جاتے ہیں اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں نہ کہ کبائر (گناہ کبیرہ) اس لیے کہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ مصنف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ دونوں کان سر ہی کا حصہ ہیں کیونکہ سر پر مسح کرنے سے دونوں کانوں سے خطاؤں کا نکلنا اسی صورت میں صحیح ہو گا جب وہ سر ہی کا حصہ ہوں، اس باب میں مصنف کو «الأذنان من الرأس» والی مشہور روایت ذکر کرنی چاہیئے تھی لیکن مصنف نے اس سے صرف نظر کیا کیونکہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ حماد کو اس روایت کے سلسلہ میں شک ہے کہ یہ مرفوع ہے یا موقوف، نیز اس کی سند بھی قوی نہیں ہے، گرچہ متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے حسن درجہ کو پہنچ گئی ہے، مصنف کا اس روایت سے اعراض کر کے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کرنا ان کی دقت نظری کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ: الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ
باب: پگڑی (عمامہ) پر مسح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ح وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 104]
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 23 (275)، سنن الترمذی/فیہ 75 (101)، سنن ابن ماجہ/فیہ 89 (561)، (تحفة الأشراف: 2047)، مسند احمد 6/12، 13، 14، 15 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں لفظ «خمار» آیا ہے اس سے مراد پگڑی ہی ہے، اس لیے کہ «خمار» کے معنی ہیں جس سے سر ڈھانپا جائے اور مرد اپنا سر پگڑی ہی سے ڈھانپتا ہے لہٰذا یہاں پگڑی ہی مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
وأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، عَنْ طَلْقِ بْنِ غَنَّامٍ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 105]
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، مسند احمد 6/15، (تحفة الأشراف: 2032) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پگڑی اور چمڑے کے دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 106]
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پگڑی اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2043)، مسند احمد 6/13، 14، 15 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. بَابُ: الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ مَعَ النَّاصِيَةِ
باب: پیشانی کے ساتھ پگڑی پر مسح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ وَعِمَامَتَهُ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ"، قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی، پگڑی اور چمڑے کے موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 107]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح فرمایا۔ (راویٔ حدیث) بکر نے کہا: تحقیق میں نے یہ حدیث براہ راست حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے بھی سنی ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن ابی داود/فیہ 59 (150، 151)، سنن الترمذی/فیہ 75 (100)، (تحفة الأشراف: 11494)، مسند احمد 4/255 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ، قَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی سفر میں) لشکر سے پیچھے ہو گئے، تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گیا، تو جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں اور اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازؤوں کو کھولنے لگے تو جبہ کی آستین تنگ ہو گئی، تو آپ نے (ہاتھ کو اندر سے نکالنے کے بعد) اسے (آستین کو) اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 108]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک سفر میں) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں سے) پیچھے رہ گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تیرے پاس پانی ہے؟ چنانچہ میں آپ کے پاس لوٹا لایا تو آپ نے اپنی ہتھیلیاں دھوئیں اور چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹانے لگے مگر جبے کی آستین تنگ تھی تو آپ نے جبے کو کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے بازو دھوئے اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح فرمایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 143 (1236)، (تحفة الأشراف: 11495)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (42)، مسند احمد 4/248، 251، سنن الدارمی/الصلاة 81 (1375) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. بَابُ: كَيْفَ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ
باب: پگڑی (عمامہ) پر مسح کے طریقے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ:" خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ: وَصَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، (پہلی چیز یہ ہے کہ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، (دوسری چیز) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہ گئے، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 109]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو باتیں ایسی ہیں جن کی بابت میں کبھی کسی سے نہیں پوچھوں گا، جب کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ ہم آپ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر واپس تشریف لا کر وضو کیا اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں اطراف کا مسح فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ انھوں نے کہا: (دوسری بات) امام کا اپنی رعیت میں سے کسی آدمی کے پیچھے (اس کی اقتدا میں) نماز پڑھنا۔ تو میں نے اس کا بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشاہدہ کیا۔ آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (قضائے حاجت سے واپسی میں) دیر ہو گئی۔ صحابہ نے جماعت کھڑی کر لی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر لیا۔ انھوں نے نماز پڑھائی۔ (اس دوران میں) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور آپ نے ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور بقیہ نماز ادا کی۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11521) بھذا الإسناد، وأما بغیر ھذا الإسناد، ومطولا ومختصرا فقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوضوء 35 (182)، و 48 (203)، الصلاة 7 (363)، الجہاد 90 (2918)، المغازي 81 (4421)، اللباس 10 (5798)، 11 (5799)، صحیح مسلم/الطہارة 22، (274)، سنن ابی داود/فیہ 59 (149)، سنن الترمذی/فیہ 72 (97)، 75 (100)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (545)، موطا امام مالک/فیہ 8 (41)، مسند احمد 4/244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، 253، 255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740)، وتقدم عند المؤلف (بأرقام: 79، 82، 107، 108)، ویأتي عندہ (برقم: 125) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، يونس بن عبيد مدلس وعنعن. وحديث مسلم (274/81) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. بَابُ: إِيجَابِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ
باب: وضو میں دونوں پاؤں کا دھونا واجب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قال أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وضو میں) ایڑی دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 110]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ایڑی کے لیے (جو خشک رہ جائے) «وَيْلٌ» یعنی آگ ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 29 (165)، صحیح مسلم/الطہارة 9 (242)، قد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 31 (41)، سنن ابن ماجہ/فیہ 55 (453)، (تحفة الأشراف: 14381)، مسند احمد 2/231، 282، 284، 389، 406، 409، 430، 471، 482، 497، 498، سنن الدارمی/الطہارة 35 (734) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو پاؤں کے مسح کو کافی سمجھتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَرَأَى أَعْقَابَهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا، تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں (خشک ہونے کی وجہ سے) چمک رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے، وضو کامل طریقہ سے کرو۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 111]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا، آپ نے دیکھا کہ ان کی ایڑیاں خشک ہیں تو آپ نے فرمایا: ان ایڑیوں کے لیے آگ کی تباہی ہے، وضو اچھی طرح کیا کرو۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 9 (241)، سنن ابی داود/فیہ 46 (97)، سنن ابن ماجہ/فیہ 55 (450)، (تحفة الأشراف: 8936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 3 (60)، و30 (96)، الوضوء 27 (163)، مسند احمد 2/164، 193، 201، 205، 211، 226، سنن الدارمی/الطہارة 35 (733)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 142 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں