🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. بَابُ: الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ ذَكَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِإِنَاءٍ صَغِيرٍ فَتَوَضَّأَ. قُلْتُ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ مَا لَمْ نُحْدِثْ، قَالَ: وَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے (اس سے) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎! اس پر (عمرو بن عامر) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 131]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (پانی کا) ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا اور آپ نے وضو فرمایا۔ شاگرد نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے نیا وضو فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ شاگرد نے کہا: اور آپ لوگ، یعنی صحابہ بھی؟ انہوں نے فرمایا: ہم تو جب تک بے وضو نہیں ہوتے تھے، نمازیں پڑھتے رہتے تھے اور ایک وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطہارہ 54 (214) مختصراً، سنن ابی داود/الطہارة 66 (171) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 44 (60) مختصراً، سنن ابن ماجہ/فیہ 72 (509) مختصراً، (تحفة الأشراف: 1110)، مسند احمد 3/132، 133، 154، 194، 260، سنن الدارمی/الطہارة 46 (747) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، اگرچہ کبھی کبھی ایک وضو سے دو اور اس سے زیادہ نمازیں بھی آپ نے پڑھی ہیں، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنی معلومات کے مطابق جواب دیا ہو، شاید انہیں اس کا علم نہ رہا ہو کہ آپ نے ایک وضو سے کئی نمازیں بھی پڑھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيَّوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 132]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لائے اور آپ کو کھانا پیش کیا گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ہم آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت ہے جب میں نماز کے لیے اٹھوں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 11 (3760)، سنن الترمذی/فیہ 40 (1847)، (تحفة الأشراف: 5793)، مسند احمد 1/282، 359 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: عمر! میں نے اسے عمداً (جان بوجھ کر) کیا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 133]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے۔ جب فتح مکہ کا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی نمازیں ایک وضو سے پڑھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ اس سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 25 (277) مختصراً، سنن ابی داود/فیہ 66 (172) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 45 (61)، سنن ابن ماجہ/فیہ 72 (510)، (تحفة الأشراف: 1928)، مسند احمد 5/350، 351، 358، سنن الدارمی/الطہارة 3 (285) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور سے ایسا نہیں کرتے تھے ورنہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔ ۲؎: تاکہ میری امت کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. بَابُ: النَّضْحِ
باب: پانی چھڑکنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ بِهَا هَكَذَا، وَوَصَفَ شُعْبَةُ نَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ"، فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَعْجَبَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ السُّنِّيِّ الْحَكَمُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، (خالد بن حارث کہتے ہیں) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 134]
حضرت سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو پانی کا ایک چلو لیتے اور اسے ایسے کرتے۔ شعبہ رحمہ اللہ نے اس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہا: یعنی اپنی شرمگاہ پر چھڑک لیتے۔ میں نے یہ بات ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کو بتائی تو انہوں نے اسے بہت سراہا۔ امام ابن سنی رحمہ اللہ نے کہا: (سند میں مذکور) حکم سے مراد حکم بن سفیان ثقفی ہیں۔ (حکم بن سفیان کو بعض راویوں نے سفیان بن حکم بھی کہا ہے۔ یہ صحابی ہیں اور ان سے صرف یہی ایک حدیث منقول ہے۔) [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 64 (166، 167، 168)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 58 (461)، (تحفة الأشراف: 3420)، مسند احمد 3/410، 4/69، 179، 212، 5/380، 408، 409 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ"، قَالَ أَحْمَدُ: فَنَضَحَ فَرْجَهُ.
حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں «و نضح فرجه» کی جگہ «فنضح فرجه» ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 135]
حضرت حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مارے۔ استاد احمد بن حرب نے «وَنَضَحَ فَرْجَهُ» کے بجائے «فَنَضَحَ فَرْجَهُ» کہا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حکم بن سفیان ان کے نام میں اضطراب ہے، حکم بن سفیان، سفیان بن حکم، ابن ابی سفیان یا أبو الحکم کئی طرح سے آیا ہے، نیز کسی کی روایت میں «عن أبيه» ہے اور کسی کی روایت میں نہیں ہے، اس لیے ان کی یہ روایت اضطراب کے سبب ضعیف ہے، (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۰) لیکن ابن ماجہ میں مروی زید اور جابر رضی اللہ عنہم کی روایتوں سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِفَضْلِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے بچے ہوئے پانی کو کام میں لانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ"، وَقَالَ: صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَنَعْتُ.
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا (تو اپنے اعضاء) تین تین بار (دھوئے) پھر وہ کھڑے ہوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 136]
حضرت ابوحیہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے اعضائے وضو کو تین تین دفعہ دھویا، پھر کھڑے ہوکر وضو سے بچا ہوا پانی پیا اور فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا جیسے میں نے کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 34 (44) مختصرًا، وانظر حدیث رقم: 96، 115 (تحفة الأشراف: 10322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَونِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَأَخْرَجَ بِلَالٌ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَنِلْتُ مِنْهُ شَيْئًا، وَرَكَزْتُ لَهُ الْعَنَزَةَ" فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَالْحُمُرُ وَالْكِلَابُ وَالْمَرْأَةُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا پانی (جو برتن میں بچا تھا) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 137]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ کے مقام) بطحاء میں دیکھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی لے کر (خیمے سے) نکلے۔ لوگ تیزی سے ان کی طرف بھاگے۔ مجھے بھی اس میں سے کچھ پانی مل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک نیزہ گاڑ دیا گیا اور آپ نے (اسے سامنے رکھ کر) لوگوں کو نماز پڑھائی۔ گدھے، کتے اور عورتیں آپ کے (سترے کے) آگے سے گزرتی تھیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3566)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، (تحفة الأشراف: 11818)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 40 (187)، الصلاة 17 (376)، 93 (499)، 94 (501)، المناقب 23 (3553)، اللباس 3 (5786)، 42 (5859)، مسند احمد 4/307، 308، 309، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1449)، وأعادہ المؤلف برقم: 773 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 138
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يَعُودَانِي فَوَجَدَانِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ" فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ وَضُوءَهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے آئے، دونوں نے مجھے بیہوش پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 138]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میری بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے تو مجھے بے ہوش پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المرضی 5 (5651) مطولاً، الفرائض 1 (6723) مطولاً، الاعتصام 8 (7309)، صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ 2 (2886) مطولاً، سنن الترمذی/الفرائض 7 (2097)، التفسیر 5 (3015)، سنن ابن ماجہ/الفرائض، الجنائز 1 (1436)، 5 (2728)، (تحفة الأشراف: 3028)، مسند احمد 3/307، سنن الدارمی/الطہارة 56 (760) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جو پانی وضو سے بچ رہا تھا اسے میرے اوپر ڈالا، یہ تفسیر باب کے مناسب ہے، یا جو پانی وضو میں استعمال ہوا تھا اس کو اکٹھا کر کے ڈالا، ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ جب ماء مستعمل سے نفع اٹھانا جائز ہے تو بچے ہوئے پانی سے نفع اٹھانا بطریق اولیٰ جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. بَابُ: فَرْضِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".
ابوالملیح کے والد (اسامہ بن عمیر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 139]
حضرت ابوملیح رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر طہارت (وضو) کے قبول نہیں فرماتا اور نہ حرام مال سے صدقہ قبول فرماتا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 31 (59)، سنن ابن ماجہ/فیہ 2 (271)، (تحفة الأشراف 132)، مسند احمد 5/74، 75، سنن الدارمی/الطہارة 21 (713)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 2525، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 2 (224)، عن ابن عمر، مسند احمد 2/20، 39، 51، 57 وغیرہما (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مال غنیمت میں سے چرا کر اگر کوئی صدقہ دے تو وہ صدقہ مقبول نہ ہو گا، یہی حکم ہر مال حرام کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. بَابُ: الاِعْتَدَاءِ فِي الْوُضُوءِ
باب: وضو میں حد سے بڑھنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ" فَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا: اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 140]
عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کا طریقہ پوچھتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین دفعہ اعضائے وضو دھو کر دکھائے، پھر فرمایا: وضو اس طرح ہے، جس نے اس سے زیادہ کیا، اس نے برا کیا، حد سے بڑھا اور ظلم کا ارتکاب کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 51 (135) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 48 (422)، (تحفة الأشراف: 8809)، مسند احمد 2/180 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع بہتر ہے، اور اپنی عقل سے اس میں کمی بیشی کرنا مذموم ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں