سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. بَابُ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلاَةِ عِنْدَ الإِقَامَةِ
باب: اقامت کے بعد نفل یا سنت پڑھنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 868
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قال: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَقَالَ:" أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا".
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک ازدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز فجر کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم فجر کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 868]
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صبح کی نماز کی اقامت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جب کہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تو صبح کی نماز چار رکعت پڑھے گا؟“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 38 (663)، صحیح مسلم/المسافرین 9 (711)، سنن ابن ماجہ/إقامة 103 (1153)، (تحفة الأشراف: 9155)، مسند احمد 5/345، 346، سنن الدارمی/الصلاة 149 (1490) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
61. بَابُ: فِيمَنْ يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ وَالإِمَامُ فِي الصَّلاَةِ
باب: امام (فرض) نماز میں ہو تو سنتیں پڑھنے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 869
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قال: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ:" يَا فُلَانُ أَيُّهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ".
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں تھے، اس نے دو رکعت سنت پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: ”اے فلاں! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟ یا جو خود سے پڑھی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 869]
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک آدمی آیا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر نماز میں شامل ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تیری کون سی نماز معتبر ہے؟ وہ جو تو نے ہمارے ساتھ پڑھی یا وہ جو تو نے اکیلے پڑھی؟“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 9 (712)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1265)، سنن ابن ماجہ/إقامة 103 (1152)، (تحفة الأشراف: 5319)، مسند احمد 5/82 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مقصود اس کی اس حرکت پر زجر و ملامت کرنا تھا کہ جس نماز کی خاطر اس نے مسجد آنے کی زحمت اٹھائی تھی اسے پا کر دوسری نماز میں لگنا عقلمندی نہیں ہے، سنت کے لیے گھر ہی بہتر جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
62. بَابُ: الْمُنْفَرِدِ خَلْفَ الصَّفِّ
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 870
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 870]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، میں نے اور ہمارے ایک یتیم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور (ہماری والدہ) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، 164 (871)، (تحفة الأشراف: 172)، مسند احمد 3/110 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے مصنف نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے واضح ہوتا ہے لیکن جو لوگ عدم جواز کے قائل ہیں وہ اسے عورتوں کے لیے مخصوص مانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 871
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ: فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» (الحجر: ۲۴) ”ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”ایک بہت خوب صورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی۔ کچھ (نیک) لوگ قصداً پہلی صف میں کھڑے ہوتے تھے تاکہ وہ نظر نہ آئے۔ اور کچھ (منافق قسم کے) لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہتے تھے حتیٰ کہ آخری صف میں کھڑے ہوتے (تاکہ اسے دیکھیں۔) پھر جب رکوع کرتے تو بغل کے نیچے سے اسے دیکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ﴾ [سورة الحجر: 24] ”ہم خوب جانتے ہیں تم میں سے آگے رہنے والوں کو اور خوب جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو۔““ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجر 15 (3122)، سنن ابن ماجہ/إقامة 68 (1046)، (تحفة الأشراف: 5364)، مسند احمد 1/305 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اسے پیچھے تنہا پڑھنے پر محمول کیا ہے لیکن حدیث صراحۃً اس پردلالت نہیں کرتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3122) ابن ماجه (1046) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
63. بَابُ: الرُّكُوعِ دُونَ الصَّفِّ
باب: صف میں ملے بغیر رکوع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 872
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 872]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (ایک دفعہ) مسجد میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے، چنانچہ انہوں نے صف سے پیچھے ہی رکوع کر لیا (اور رکوع ہی کی حالت میں چل کر صف میں پہنچے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز کے بعد) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری (نیکی کی) حرص میں اضافہ فرمائے لیکن دوبارہ ایسے نہ کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاذان 114 (783)، سنن ابی داود/الصلاة 101 (683، 684)، (تحفة الأشراف: 11659)، مسند احمد 5/39، 42، 45، 46، 50 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ خیر کی حرص گو محبوب و مطلوب ہے لیکن اسی صورت میں جب یہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور اس طرح صف میں شامل ہونا شرعی طریقے کے خلاف ہے، اس لیے اس سے بچنا اولیٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 873
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ:" يَا فُلَانُ أَلَا تُحَسِّنُ صَلَاتَكَ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي كَيْفَ يُصَلِّي لِنَفْسِهِ إِنِّي أُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ بَيْنَ يَدَيَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے، (سن لو) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 873]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، سلام پھیر کر مڑے تو فرمایا: ”اے فلاں! تو اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھتا۔ کیا نمازی خود غور نہیں کرتا کہ وہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے؟ میں تمہیں پیچھے بھی ایسے دیکھتا ہوں جیسے میں آگے دیکھتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 24 (423)، (تحفة الأشراف: 4334)، مسند احمد 2/449 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
64. بَابُ: الصَّلاَةِ بَعْدَ الظُّهْرِ
باب: ظہر کے بعد سنت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 874
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمْعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور اس کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے تھے، اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے، اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے، اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہیں پڑھتے یہاں تک کہ جب گھر لوٹ آتے تو دو رکعت پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 874]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت اور بعد میں دو رکعت پڑھتے تھے۔ اور مغرب کے بعد گھر میں دو رکعت اور عشاء کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ اور جمعے کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے حتیٰ کہ گھر جا کر دو رکعت پڑھتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، التھجد 25 (1165)، 29 (1172)، 34 (1180)، الجمعة 18 (882)، سنن ابی داود/الصلاة 29 (1252)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/السفر 23 (69)، (تحفة الأشراف: 8343)، مسند احمد 2/63، 87، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1477)، 207 (1614)، ویأتی عند المؤلف في الجمعة 43 برقم: 1428) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
65. بَابُ: الصَّلاَةِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي ذَلِكَ
باب: عصر کے پہلے سنت پڑھنے کا بیان اور اس سلسلے میں ابواسحاق سبیعی سے رواۃ حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 875
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قال: سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّكُمْ يُطِيقُ ذَلِكَ قُلْنَا إِنْ لَمْ نُطِقْهُ سَمِعْنَا، قَالَ:" كَانَ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا كَانَتْ مِنْ هَا هُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا ثِنْتَيْنِ وَيُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِتَسْلِيمٍ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: گرچہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے مگر سن تو لیں، تو انہوں نے کہا: جب سورج یہاں ہوتا ۱؎ جس طرح عصر کے وقت یہاں ہوتا ہے ۲؎ تو آپ دو رکعت (سنت) پڑھتے ۳؎، اور جب سورج یہاں ہوتا جس طرح ظہر کے وقت ہوتا ہے تو آپ چار رکعت (سنت) پڑھتے ۴؎، اور ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ۵؎، اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور عصر سے پہلے چار رکعت (سنت) پڑھتے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور نبیوں پر اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام کے ذریعہ ۶؎ فصل کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 875]
حضرت عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ ہم نے کہا: ”اگر ہم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم سن تو لیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب سورج اس (مشرق کی) طرف اتنا اونچا ہوتا جتنا کہ وہ اس (مغرب کی) طرف میں عصر کے وقت ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے۔ اور جب سورج اس (مشرق کی) طرف اتنا ہوتا جتنا وہ اس (مغرب کی) طرف ظہر کے وقت ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے۔ اور ظہر سے پہلے چار رکعت اور بعد میں دو رکعت پڑھتے۔ اور عصر سے پہلے اس طرح چار رکعت پڑھتے کہ ہر دو رکعت کے بعد (تشہد میں) مقرب فرشتوں، انبیاء اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں پر سلام پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 301 (598)، سنن ابن ماجہ/إقامة 109 (1161)، (تحفة الأشراف: 10137)، مسند احمد 1/85، 111، 143، 147، 160 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مشرق میں۔ ۲؎: یعنی مغرب میں۔ ۳؎: یعنی چاشت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے۔ ۴؎: اس سے مراد صلاۃ الاوابین ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال سے پہلے پڑھتے تھے۔ ۵؎: ظہر سے پہلے چار رکعت اور دو رکعت دونوں کی روایتیں آئی ہیں، اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ دونوں جائز ہے، کبھی ایسا کر لے اور کبھی ایسا، لیکن چار والی روایت کو اختیار کرنا اولیٰ ہے، کیونکہ یہ قولی حدیث سے ثابت ہے۔ ۶؎: یعنی تشہد کے ذریعہ فصل کرتے، تشہد کو تسلیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں «السلام علينا وعلى عباده الله الصالحين» کا ٹکڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 876
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قال: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهَارِ قَبْلَ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ: مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخْبَرَنَا قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْعَلُ التَّسْلِيمَ فِي آخِرِهِ".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں پوچھا جسے آپ دن میں فرض سے پہلے پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر انہوں نے ہمیں بتایا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سورج ڈھل جاتا دو رکعت پڑھتے، اور نصف النہار ہونے سے پہلے چار رکعت پڑھتے، اور اس کے آخر میں سلام پھیرتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 876]
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے دن میں فرض نماز سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ پھر ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے تھے جب سورج کچھ اونچا آ جاتا تھا، اور نصف النہار سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، سلام آخر میں پھیرتے (دو رکعت کے بعد سلام نہ پھیرتے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن فى هذا اللفظ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327