🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. بَابُ: الذِّكْرِ بَعْدَ الاِسْتِغْفَارِ
باب: استغفار کے بعد کے ذکر الٰہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ , عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا سَلَّمَ , قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ , تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «‏اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام‏» ”اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھی سے تمام کی سلامتی ہے، اے عزت و بزرگی والے تیری ذات بڑی بابرکت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1339]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو یوں فرماتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو سلام ہے اور تجھی سے سلامتی ملتی ہے۔ اے احترام و عزت والے! تو بابرکت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (592)، سنن ابی داود/الصلاة 360 (1512)، سنن الترمذی/الصلاة 109 (298)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 23 (924)، (تحفة الأشراف: 16187)، مسند احمد 6/62، 184، 235، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1387) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. بَابُ: التَّهْلِيلِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد تہلیل «لا إلٰہ إلا اللہ» کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1340
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ , يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ , أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ".
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1340]
حضرت ابوزبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس منبر (منبر کعبہ) پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو یوں فرماتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے کل حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے، گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں، ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، اسی کے لیے نعمت، فضل اور اچھی تعریف ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم خالص اسی کی اطاعت کرتے ہیں، چاہے کافر برا ہی سمجھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (594)، سنن ابی داود/الصلاة 360 (1506)، مسند احمد 4/4، 5 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. بَابُ: عَدَدِ التَّهْلِيلِ وَالذِّكْرِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد تہلیل «لا إلٰه إلا الله» کہنے اور ذکر الٰہی کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1341
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ , لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ".
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نماز کے بعد تہلیل کرتے اور کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا إله إلا اللہ ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، جو تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے سب پر، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، نعمت، فضل اور بہترین ثنا اسی کے لیے ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے“ پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہم کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد انہیں کلمات کے ذریعہ تہلیل کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1341]
حضرت ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (فرض) نماز کے بعد اس طرح تہلیل پڑھتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے حکومت اور بادشاہی ہے اور اسی کے لیے ہر تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ اسی کی ہیں سب نعمتیں اور اسی کے ہیں سب احسان و فضل اور اسی کے لیے ہیں اچھی تعریفیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ ہم خالص اسی کی اطاعت کرتے ہیں، خواہ کافر برا ہی سمجھیں۔“ پھر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ تہلیل پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الْقَوْلِ عِنْدَ انْقِضَاءِ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے اختتام پر ایک دوسری تہلیل و ذکر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1342
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ , وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرِ , كِلَاهُمَا سَمِعَهُ مِنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ , وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتی“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1342]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب حضرت وراد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کسی ایسی چیز کی خبر دیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز مکمل فرما لیتے تو یوں پڑھتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی کے لیے ہے بادشاہت اور تمام تعریفیں، اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! نہیں کوئی روکنے والا اس چیز کو جو تو دے اور نہ کوئی اس چیز کو عطا کرنے والا ہے جو تو نہ دے اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں مفید نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 155 (844)، الدعوات 18 (6330)، الرقاق 22 (6473)، القدر 12 (6615)، الاعتصام 3 (7292)، صحیح مسلم/المساجد 26 (593)، سنن ابی داود/الصلاة 360 (1505)، (تحفة الأشراف: 11535)، مسند احمد 4/245، 247، 250، 251، 254، 255، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1389)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1343، 1344 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1343
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقُولُ دُبُرَ الصَّلَاةِ إِذَا سَلَّمَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ , وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ , وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
وراد کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے سلطنت و حکومت ہے، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور نہ مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا سکے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1343]
حضرت وراد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیر کر یوں پڑھتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے ہے بادشاہی اور اسی کے لیے ہے سب تعریف اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! کوئی اس چیز کو روکنے والا نہیں جو تو دے اور نہ کوئی وہ چیز دینے والا ہے جو تو روک دے اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں مفید نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ: كَمْ مَرَّةً يَقُولُ ذَلِكَ
باب: کتنی بار یہ دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1344
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ وَذَكَرَ آخَرَ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْمُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِب الْمُغِيرَةِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ , أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ , إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی حدیث لکھ بھیجو جسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیر کر پلٹتے وقت «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“ تین بار کہتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1344]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے ایک ایسی حدیث لکھ دیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: تحقیق میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے فارغ ہونے کے وقت یہ پڑھتے سنا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔“ آپ یہ ذکر تین دفعہ پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1342 (شاذ) (اس دعا میں ”تین بار“ کا تذکرہ شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة الثلاث
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، مغيرة بن مقسم مدلس وعنعن. وأصل الحديث متفق عليه (صحيح بخاري: 844،6473،صحيح مسلم: 593) بدون: ’’ثلاث مرات‘‘. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد ایک اور دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1345
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَكَانَ مِنَ الْخَائِفِينَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ , فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ , فَقَالَ:" إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ , سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے، وہ یہ ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» ”تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1345]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز سے فارغ ہوتے تو کچھ کلمات پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے (اس مجلس میں) اچھی باتیں کی ہوں گی تو یہ کلمات قیامت تک کے لیے ان باتوں کے لیے مہر بن جائیں گے اور اگر اس نے اور قسم کی (غلط یا فضول) باتیں کی ہوں گی تو یہ اس کے لیے کفارہ (گناہ مٹانے والے) بن جائیں گے۔ (اور وہ کلمات یہ ہیں): «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک ہے اور تمام تعریفوں اور خوبیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔“ (یعنی ہر قسم کی غلطی سے توبہ کرتا ہوں۔)“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16335)، وقد أخرجہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة 137 (400)، مسند احمد 6/77 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن مسند احمد (6/ 77) وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد کی ایک اور دعا و ذکر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1346
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ، عَنْ جَسْرَةَ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ , فَقَالَتْ: إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ , فَقُلْتُ: كَذَبْتِ , فَقَالَتْ: بَلَى , إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الْجِلْدَ وَالثَّوْبَ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا , فَقَالَ:" مَا هَذَا" , فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ , فَقَالَ:" صَدَقَتْ , فَمَا صَلَّى بَعْدَ يَوْمِئِذٍ صَلَاةً إِلَّا قَالَ: فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی: پیشاب سے نہ بچنے پر قبر میں عذاب ہوتا ہے تو میں نے کہا: تو جھوٹی ہے، تو اس نے کہا: سچ ہے ایسا ہی ہے، ہم کھال یا کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر کاٹ ڈالتے ہیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لائے، ہماری آواز بلند ہو گئی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیا ماجرا ہے؟“ میں نے آپ کو جو اس نے کہا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سچ کہہ رہی ہے“، چنانچہ اس دن کے بعد سے آپ جو بھی نماز پڑھتے تو نماز کے بعد یہ کلمات ضرور کہتے: «رب جبريل وميكائيل وإسرافيل أعذني من حر النار وعذاب القبر» ”اے جبرائیل وم یکائیل اور اسرافیل کے رب! مجھے جہنم کی آگ کی تپش، اور قبر کے عذاب سے بچا“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1346]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ پیشاب کے چھینٹے پڑنے سے قبر میں عذاب ہوتا ہے، میں نے کہا کہ تو غلط کہتی ہے، اس نے کہا کہ نہیں، بلکہ سچ ہے، ہم پیشاب کے چھینٹے پڑنے سے چمڑا اور کپڑا کاٹتے تھے، (اسی دوران میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے تو ہم اونچی اونچی بول رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صحیح کہتی ہے“، اس دن کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی نماز پڑھی تو نماز کے بعد یہ دعا ضرور پڑھی: «رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! مجھے آگ کی تپش اور قبر کے عذاب سے بچا۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17829)، وأخرجہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة 54 (138)، مسند احمد 6/16 (صحیح) (’’جسرة بنت دجاجہ‘‘ اور قدامہ کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، یہ لین الحدیث ہیں، لیکن صحیحین میں اس روایت کی اصل سند سے موجود ہے، دیکھئے: صحیح البخاری/الکسوف 7 (1372)، الجنائز 86 (1372)، الدعوات 237 (6366)، صحیح مسلم/المساجد 24 (584) نیز اس کو رقم (5522) کی حدیث ابوہریرہ سے بھی تقویت مل رہی ہے، بنابریں یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے۔»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر ایک اور دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1347
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ، أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ , قَالَ: اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً , وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ , لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ , وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" قَالَ: وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ , أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلَاتِهِ.
ابومروان روایت کرتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی۔ ابومروان کہتے ہیں: اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1347]
حضرت ابو مروان سے روایت ہے کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حلفاً کہا: قسم اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمندر کو پھاڑ کر راستے بنائے! ہم تو رات میں یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِيَ الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما جسے تو نے میرے لیے (دنیا و آخرت میں رسوائی سے) بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور میرے لیے میری دنیا کو درست فرما جسے تو نے میرے لیے زندگی گزارنے کا سبب بنایا ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضی سے بچنے کے لیے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیرے غضب سے بچنے کے لیے تیری (رحمت کی) پناہ چاہتا ہوں۔ جو چیز تو دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی مال والے کو تیرے ہاں مال فائدہ نہیں دیتا (بلکہ عمل فائدہ دیتا ہے)۔“ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز سے فراغت کے وقت یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4971)، وقد أخرجہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة 53 (137) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. بَابُ: التَّعَوُّذِ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے بعد معوذات پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ:" كَانَ أَبِي يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , فَكُنْتُ أَقُولُهُنَّ , فَقَالَ أَبِي: أَيْ بُنَيَّ , عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا , قُلْتُ: عَنْكَ , قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُهُنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» ”اے اللہ میں کفر سے، محتاجی سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ تو میں بھی انہیں کہا کرتا تھا، تو میرے والد نے کہا: میرے بیٹے! تم نے یہ کس سے یاد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ سے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1348]
حضرت مسلم بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میرے والد محترم ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ تو میں بھی یہ کلمات کہنے لگا۔ والد محترم پوچھنے لگے: بیٹا! یہ کلمات کس سے سیکھے ہیں؟ میں نے کہا: آپ سے۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11706)، مسند احمد 5/36، 39، 44 ویأتی عند المؤلف فی الاستعاذة برقم5467 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں