🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. بَابُ: تَخْيِيرِ الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجنے کے بعد من پسند دعاؤں کے کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ , قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ , السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ , وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ , عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدُ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ يَدْعُو بِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو کہتے: سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے، سلام ہو فلاں پر اور فلاں پر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام على اللہ» نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود ہی سلام ہے، ہاں جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين» تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو کیونکہ جب تم اس طرح کہو گے تو زمین و آسمان میں رہنے والے ہر نیک بندے کو یہ شامل ہو گا، (پھر کہے): «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس کے بعد اپنی پسندیدہ دعا جو بھی چاہے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1299]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (تشہد میں) بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے: اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، فلاں پر سلام اور فلاں پر سلام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے بلکہ جب تم میں سے کوئی شخص (قعدے میں) بیٹھے تو وہ کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام آداب (قولی عبادات) اور تمام دعائیں (فعلی عبادات) اور تمام اچھے کلمات (مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکات ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ جب تم یہ الفاظ کہو گے تو یہ سلام اور دعا آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر اس کے بعد (درود پڑھ کر) جو (منقول) دعا اسے زیادہ پسند ہو، منتخب کرے اور پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1171، 1278 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ: الذِّكْرِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے بعد کی دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِي قَالَ:" سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا , وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا , وَكَبِّرِيهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِيهِ حَاجَتَكِ يَقُلْ نَعَمْ نَعَمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جن کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کیا کروں، تو آپ نے فرمایا: دس بار «سبحان اللہ»، دس بار «الحمد لله»، دس بار «اللہ أكبر» کہو، اس کے بعد تم اللہ سے اپنی حاجت مانگو، وہ ہاں، ہاں کہے گا، (یعنی جو تم مانگو گی وہ تمہیں دے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1300]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجیے جن کے ساتھ میں نماز میں دعا کیا کروں۔ آپ نے فرمایا: دس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ پڑھا کر اور دس دفعہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمد للہ پڑھا کر اور دس دفعہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر پڑھا کر۔ پھر اللہ سے اپنی حاجت طلب کر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں! ہاں! (میں نے تیری حاجت قبول کی)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 233 (481)، مسند احمد 3/120، (تحفة الأشراف: 185) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. بَابُ: الدُّعَاءِ بَعْدَ الذِّكْرِ
باب: ذکر الٰہی کے بعد کی دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1301
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ أَخِي أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا يَعْنِي وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي , فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ وَتَشَهَّدَ دَعَا , فَقَالَ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" تَدْرُونَ بِمَا دَعَا" , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ , وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مسجد میں) بیٹھا ہوا تھا، اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا، اور تشہد سے فارغ ہو گیا، تو اس نے دعا کی، اور اپنی دعا میں اس نے کہا: «اللہم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم إني أسألك» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے، ہمیشہ زندہ و باقی رہنے والے!، میں تجھی سے مانگتا ہوں۔ یہ سنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے تو اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے جس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ مانگا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1301]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا تھا اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا اور تشہد بھی پڑھ لیا تو اس نے دعا کی اور اپنی دعا میں کہا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، إِنِّي أَسْأَلُكَ» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بنا پر کہ تیرے لیے ہی تعریف ہے۔ تیرے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ تو بہت احسان کرنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کو بلا مادہ پیدا کرنے والا ہے۔ اے بزرگی و عزت والے! اے زندہ و جاوید! اے سب کو قائم رکھنے والے! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بخوبی جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کے ساتھ اللہ کو پکارا جائے تو وہ ضرور جواب دیتا ہے اور جب اس کے ساتھ کچھ مانگا جائے تو ضرور عطا فرماتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1495)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 551)، مسند احمد 3/120، 158، 245 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1302
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ أَبُو بُرَيْدٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ , أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , إِذَا رَجُلٌ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ , الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ , أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ غُفِرَ لَهُ ثَلَاثًا".
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں گئے، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر چکا ہے، اور تشہد میں ہے اور کہہ رہا ہے: «اللہم إني أسألك يا اللہ بأنك الواحد الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ تجھی سے، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بے نیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس کے گناہ بخش دیے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1302]
حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جبکہ ایک آدمی اپنی نماز مکمل کر چکا تھا اور تشہد کی حالت میں تھا، اس نے کہا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ! اس بنا پر کہ تو واحد، یکتا اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، کہ تو میرے گناہ معاف فرما دے، بلاشبہ تو ہی بہت زیادہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: تحقیق اسے معاف کر دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 184 (985)، مسند احمد 4/338، (تحفة الأشراف: 11218) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1303
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي , قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا , وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ , فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ , وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا مانگا کروں، تو آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! بیشک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے، اور سوائے تیرے گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا، لہٰذا تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر، یقیناً تو غفور و رحیم یعنی بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1303]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجیے جو میں اپنی نماز میں کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا، لہٰذا میرے لیے اپنی طرف سے بخشش فرما اور مجھ پر رحم فرما۔ بلاشبہ تو ہی بہت زیادہ معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 149 (834)، الدعوات 17 (6326)، التوحید 9 (7388)، صحیح مسلم/الدعاء 13 (2705)، سنن الترمذی/الدعوات 97 (3531)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3835)، مسند احمد 1/3، 7، (تحفة الأشراف: 6606) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَيْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنِّي لَأُحِبُّكَ يَا مُعَاذُ" , فَقُلْتُ: وَأَنَا أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي كُلِّ صَلَاةٍ: رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے، اور فرمایا: اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، تو میں نے عرض کیا: اور میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم ہر نماز میں یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑو «رب أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» اے میرے رب! اپنے ذکر اور شکر پر، اور اپنی حسن عبادت پر میری مدد فرما۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1304]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو کسی نماز میں یہ دعا کرنا نہ چھوڑ: «رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» اے میرے رب! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں اور تیرا شکر کروں اور تیری عبادت اچھی طرح بنا سنوار کر کروں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 361 (1522)، فی عمل الیوم واللیلة 46 (190) مسند احمد 5/244، 247، (تحفة الأشراف: 11333) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1305
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ , وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ , وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا , وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ , وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں کہتے تھے: «اللہم إني أسألك الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألك من خير ما تعلم وأعوذ بك من شر ما تعلم وأستغفرك لما تعلم» اے اللہ! میں معاملہ میں تجھ سے ثابت قدمی کا، اور راست روی میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری نعمتوں کے شکر اور تیری حسن عبادت کی توفیق مانگتا ہوں، اور تجھ سے تمام برائیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف دل، اور سچ کہنے والی زبان کا طلب گار ہوں، اور تجھ سے ان چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور ان چیزوں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور میں تجھ سے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1305]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں دین کے معاملے میں ثابت قدم رہوں اور ہدایت کے حصول میں پرعزم رہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں اور تیری عبادت اچھے طریقے سے کروں اور میں تجھ سے قلب سلیم اور سچی زبان مانگتا ہوں۔ اور تجھ سے میں ہر اس چیز کی خیر مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو تو جانتا ہے اور تجھ سے ہر اس گناہ کی معافی مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4829)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 23 (3407)، مسند احمد 4/125 (حسن) (اس کی سند میں ’’ابو العلاء یزید بن عبداللہ العامري‘‘ اور ’’شداد رضی اللہ عنہ‘‘ کے درمیان انقطاع ہے، ترمذی اور احمد کی سند میں یہاں پر کوئی ’’رجل من بنی حنظلہ‘‘ ہے جو مجہول ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بنا پر حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 3228، وصحیح موارد الظمآن 2047، 2049، وتراجع الالبانی 568)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن وللحديث شواهد عند الطبراني فى الكبير (7/ 279 ح 135) وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1306
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا , فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَقَدْ خَفَّفْتَ أَوْ أَوْجَزْتَ الصَّلَاةَ , فَقَالَ: أَمَّا عَلَى ذَلِكَ , فَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ هُوَ أُبَيٌّ غَيْرَ أَنَّهُ كَنَى عَنْ نَفْسِهِ فَسَأَلَهُ عَنِ الدُّعَاءِ، ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِهِ الْقَوْمَ:" اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي , اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ , وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ , وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى , وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ , وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ , وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ , وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ , وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ , اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ".
سائب کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں اختصار سے کام لیا، قوم میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے نماز ہلکی کر دی ہے، راوی کو شک ہے «خففت» کہا یا «أوجزت» (ہلکی کر دی یا مختصر کر دی) تو انہوں نے کہا: اس کے باوجود میں نے اس میں ایسی دعائیں پڑھی ہیں جن کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو جب وہ جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو قوم میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے ہو لیا (وہ کوئی اور نہیں میرے والد تھے مگر انہوں نے اپنا نام چھپایا ہے) ۱؎ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں سوال کیا، پھر آ کر لوگوں کو اس کی خبر دی، وہ دعا یہ تھی: «اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللہم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الحق في الرضا والغضب وأسألك القصد في الفقر والغنى وأسألك نعيما لا ينفد وأسألك قرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بعد القضاء وأسألك برد العيش بعد الموت وأسألك لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری مشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور تنگ دستی و خوشحالی دونوں میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہ نما اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1306]
حضرت سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی اور بڑی مختصر پڑھائی۔ کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے بڑی ہلکی اور مختصر نماز پڑھائی ہے۔ آپ کہنے لگے: اس کے باوجود میں نے نماز میں بہت سی دعائیں پڑھی ہیں جو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں۔ جب وہ اٹھے تو ایک آدمی ان کے پیچھے چلا……… وہ خود حضرت سائب رضی اللہ عنہ ہی تھے، لیکن انہوں نے اپنا نام پوشیدہ رکھا……… اور ان سے وہ دعائیں پوچھیں۔ پھر واپس آ کر اس نے لوگوں کو بتائیں (ایک دعا یہ تھی): «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ» اے اللہ! چونکہ تو علمِ غیب جانتا ہے اور تمام مخلوقات پر قدرت رکھتا ہے، اس لیے (میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہے اور مجھے اس وقت فوت کر دینا جب میرے لیے وفات بہتر سمجھے۔ اور اے اللہ! میں تجھ سے باطناً اور ظاہراً تیرے ڈر کا سوال کرتا ہوں اور رضامندی و ناراضی ہر حال میں سچی اور حکمت بھری بات کہنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور فقیری و امیری میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق مانگتا ہوں اور تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں۔ اور ایسی آنکھ کی ٹھنڈک (خوشی و لذت) مانگتا ہوں جو کبھی منقطع نہ ہو۔ اور راضی برضا و قضا رہنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور موت کے بعد لذیذ زندگی مانگتا ہوں۔ اور تیرے روئے اقدس کے دیدار کے مزے اور تیری ملاقات کے شوق کا طلب گار ہوں، بغیر اس کے کہ کسی نقصان دہ مصیبت میں پھنسوں یا کسی گمراہ کن فتنے میں مبتلا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ (اور گمراہوں کو) راہ دکھلانے والے بنا دے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 4/264، (تحفة الأشراف: 10349) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1307
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: صَلَّى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ بِالْقَوْمِ صَلَاةً أَخَفَّهَا فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهَا , فَقَالَ: أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ؟ , قَالُوا: بَلَى , قَالَ: أَمَا إِنِّي دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ:" اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي , وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ , وَكَلِمَةَ الْإِخْلَاصِ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ , وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ , وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ , وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بِالْقَضَاءِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَفِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ , اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ".
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسے ہلکی پڑھائی، تو گویا کہ لوگوں نے اسے ناپسند کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں نے رکوع اور سجدے پورے پورے نہیں کیے ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور کیا ہے، پھر انہوں نے کہا: سنو! میں نے اس میں ایسی دعا پڑھی ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے: «‏اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وكلمة الإخلاص في الرضا والغضب وأسألك نعيما لا ينفد وقرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بالقضاء وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك وأعوذ بك من ضراء مضرة وفتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری خشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ اخلاص کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طلبگار ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طلبگار ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تیری اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہنما و ہدایت یافتہ بنا دے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1307]
حضرت قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھائی، گویا کہ لوگوں نے اسے عجیب سمجھا، آپ نے فرمایا: کیا میں نے رکوع اور سجدے مکمل نہیں کیے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (وہ تو ٹھیک ہیں)۔ آپ نے فرمایا: میں نے نماز میں وہ دعا پڑھی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ» اے اللہ! چونکہ تو غیب جانتا ہے اور مخلوق پر قدرتِ کاملہ رکھتا ہے، لہٰذا (میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے اتنی دیر تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور اس وقت فوت کر دینا جب تو میرے لیے وفات بہتر سمجھے۔ میں تجھ سے خلوت و جلوت میں تیرا ڈر مانگتا ہوں اور رضامندی و ناراضی میں کلمۂ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں۔ اور تجھ سے وہ نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو اور آنکھ کی وہ ٹھنڈک (لذت و سرور) جو کبھی منقطع نہ ہو اور تقدیر پر راضی رہنے، موت کے بعد پُرسرور زندگی اور تیرے روئے اقدس کی زیارت کی لذت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں اور ہر نقصان دہ مصیبت اور ہر گمراہ کن فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ (اور گمراہوں کے لیے) راہ دکھلانے والا (راہن) بنا دے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، تحفة الأشراف: 10366)، مسند احمد 4/264 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. بَابُ: التَّعَوُّذِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں تعوذ (اللہ کی پناہ) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1308
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِهِ , فَقَالَتْ: نَعَمْ , كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ".
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے ایسی چیز بیان کیجئیے جس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دعا کرتے رہے ہوں، تو وہ کہنے لگیں: ہاں، سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو میں نے کیا ہے، اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1308]
حضرت فروہ بن نوفل بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے کوئی ایسی چیز بیان کیجیے جس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دعا فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: ضرور، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ! إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان برے کاموں کے شر سے جو میں نے کیے اور جو ابھی نہیں کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الدعاء 18 (2716)، سنن ابی داود/الصلاة 367 (1550)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3839)، (تحفة الأشراف: 17430)، مسند احمد 6/31، 100، 139، 213، 257، 278، ویأتی عند المؤلف فی الاستعاذة 58 (بأرقام 5527 - 5530) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں