سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. بَابُ: مَوْضِعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ السَّلاَمِ
باب: سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1319
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ , فَقَالَ:" مَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ أَمَا يَكْفِي أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم سلام پھیرتے وقت «السلام عليكم السلام عليكم» کہتے تھے، (مسعر نے اپنے ہاتھ سے دائیں بائیں دونوں طرف اشارہ کر کے بتایا) تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اپنے ہاتھ اس طرح کرتے ہیں گویا شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں، پھر وہ اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں اپنے بھائی کو سلام کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1319]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ابتدا میں) جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو“ کہتے اور ساتھ ہاتھوں کو بھی دائیں بائیں اٹھاتے تھے۔ (یعنی دائیں طرف سلام کے وقت دائیں طرف اور بائیں طرف سلام کے وقت بائیں طرف ہاتھ اٹھاتے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دیکھا تو) فرمایا: ”انہیں کیا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے (دائیں بائیں) اشارے کرتے ہیں جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ کیا یہ کافی نہیں کہ نمازی اپنے ہاتھ اپنی ران ہی پر رکھے اور زبان سے اپنے دائیں اور بائیں اپنے ساتھیوں کو سلام کہہ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1186 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
70. بَابُ: كَيْفَ السَّلاَمُ عَلَى الْيَمِينِ
باب: داہنی طرف سلام پھیرنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1320
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ , وَعَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ" وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے اٹھنے اور کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی، اور میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1320]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکتے، اٹھتے اور کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے اور اپنے دائیں اور بائیں سلام کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر اللہ تعالیٰ کا سلام اور رحمت ہو۔“ (اور منہ بھی موڑتے تھے) حتیٰ کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی تھی اور میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ایسے کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1084، (تحفة الأشراف: 9174) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1321
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ , أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا وَضَعَ , اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا رَفَعَ، ثُمَّ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَسَارِهِ".
واسع بن حبان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جھکتے تو «اللہ أكبر» کہتے، اور جب اٹھتے تو «اللہ أكبر» کہتے، پھر آپ اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1321]
حضرت واسع بن حبان نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ جب جھکتے تھے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے تھے اور جب سر اٹھاتے تھے، تب بھی «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے تھے۔ پھر (نماز کے اختتام پر) دائیں طرف منہ کرکے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت“ اور بائیں طرف منہ کرکے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8553)، مسند احمد 2/72، 152 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
71. بَابُ: كَيْفَ السَّلاَمُ عَلَى الشِّمَالِ
باب: بائیں طرف سلام پھیرنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1322
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ:" فَذَكَرَ التَّكْبِيرَ قَالَ: يَعْنِي وَذَكَرَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ".
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے تکبیر کہی، اور اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہنے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ۱؎ کہنے کا ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1322]
حضرت واسع بن حبان سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ آپ نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے اور (نماز کے اختتام پر) دائیں طرف «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہتے تھے اور بائیں طرف «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، أنظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ داہنی جانب والوں کی تکریم لیے داہنی طرف سلام پھیرتے وقت «ورحمۃاللہ» کا اضافہ فرماتے تھے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ہی پر اکتفا کرتے تھے، پچھلی روایت میں بائیں طرف بھی «ورحمۃاللہ» کہنے کا ذکر ہے، اور اسی پر عمل ہے، شاید آپ کبھی کبھی اسے چھوڑ دیتے رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1323
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، عَنِ ابْنِ دَاوُدَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيَّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدِّهِ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، گویا میں آپ کے گال کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1323]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی دائیں طرف فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ اور بائیں طرف فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 189 (996)، سنن الترمذی/فیہ 106 (295)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 28 (914)، (تحفة الأشراف: 9504)، مسند احمد 1/390، 406، 408، 409، 414، 444، 448، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1324 مختصراً، 1325، 1326 بنحوہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1324
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ , وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور آپ بائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1324]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف سلام پھیرتے حتیٰ کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی، پھر بائیں طرف حتیٰ کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1325
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا , وَبَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، اور (آپ اپنے سر کو اتنا گھماتے) کہ آپ کے رخسار کی سفیدی ادھر سے، اور ادھر سے دکھائی دیتی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1325]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے (اور کہتے:) «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو، تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ حتیٰ کہ دائیں طرف بھی آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی اور بائیں طرف بھی آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1323 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1326
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ , وَالْأَسْوَدِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ , وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے دائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے بائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1326]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے (اور کہتے): «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“ حتیٰ کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی نظر آتی، پھر بائیں طرف سلام پھیرتے (اور کہتے): «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“ حتیٰ کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1323، (تحفة الأشراف: 9182، 9471) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
72. بَابُ: السَّلاَمِ بِالْيَدَيْنِ
باب: سلام پھیرتے ہوئے دونوں ہاتھ سے اشارہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1327
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلَامُ , عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ , إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «السلام عليكم السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1327]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب ہم سلام پھیرتے تھے تو ہاتھوں کے ساتھ بھی اشارہ کرتے اور کہتے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو“، ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ جب تم میں سے کوئی آدمی (نماز کے آخر میں) سلام کہے تو اپنے ساتھی کی طرف منہ موڑے۔ ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1186 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
73. بَابُ: تَسْلِيمِ الْمَأْمُومِ حِينَ يُسَلِّمُ الإِمَامُ
باب: امام کے سلام پھیرنے کے وقت مقتدی کے سلام پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1328
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: كُنْتُ أُصَلِّي بِقَوْمِي بَنِي سَالِمٍ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي , وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي , فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ" , فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ , فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى , قَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ" , فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ ," فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ".
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ میری آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں، اور برسات میں میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور کسی جگہ میں نماز پڑھ دیتے تو میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ان شاءاللہ عنقریب آؤں گا“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب دن چڑھ آنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے آپ کو اندر تشریف لانے کے لیے کہا، آپ بیٹھے بھی نہیں کہ آپ نے پوچھا: ”تم اپنے گھر کے کس حصہ میں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ تو میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، اور ہم نے بھی سلام پھیرا جس وقت آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1328]
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم بنو سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں تقریباً نابینا ہو چکا ہوں۔ (موسم برسات میں) بارشی اور سیلابی پانی میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا فرمائیں جسے میں (گھریلو) مسجد بنا لوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ میں عنقریب آؤں گا۔“ اگلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ دن کافی اونچا آ چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کی۔ میں نے اجازت دے دی۔ آپ بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا: ”تم کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ نماز پڑھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، (آپ نے نماز ادا کی) پھر آپ نے سلام پھیرا اور آپ کے سلام پھیرتے ہی ہم نے بھی سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 789 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه