🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. بَابُ: عَدَدِ التَّسْبِيحِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد کی تسبیح کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1349
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُمَا يَسِيرٌ , وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ" , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُ عَشْرًا , فَهِيَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَانِ , وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ" وَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ ," وَإِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ أَوْ مَضْجَعِهِ سَبَّحَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , فَهِيَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ" , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهِمَا؟ فَقَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ , فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا , اذْكُرْ كَذَا , وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنِيمُهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسی خصلتیں ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار کر لے تو وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، پانچ نمازیں تم میں سے جو کوئی ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان اللہ» دس بار «الحمد لله» اور دس بار «اللہ أكبر» کہے گا، تو وہ زبان سے کہنے کے لحاظ سے ڈیڑھ سو کلمے ہوئے، مگر میزان میں ان کا شمار ڈیڑھ ہزار کلموں کے برابر ہو گا، (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنے ہاتھوں (انگلیوں) پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے)، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے، اور تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہے، تو وہ زبان پر سو کلمات ہوں گے، مگر میزان (ترازو) میں ایک ہزار شمار ہوں گے، تو تم میں سے کون دن و رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم یہ دونوں تسبیحیں کیوں کر نہیں گن سکتے؟ ۱؎ تو آپ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے، اور وہ نماز میں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو اور اسی طرح اس کے سونے کے وقت اس کے پاس آتا ہے، اور اسے (یہ کلمات کہے بغیر ہی) سلا دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1349]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو کام ایسے ہیں کہ جو مسلمان بندہ بھی ان پر پابندی کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ یہ دونوں کام بہت آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ دو کام یہ ہیں:) پانچ فرض نمازوں میں سے ہر فرض نماز کے بعد دس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ، دس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمدللہ اور دس دفعہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہے۔ اس طرح زبان پر (پڑھنے میں) یہ کل ڈیڑھ سو کلمات ہیں مگر میزان میں (ثواب کے لحاظ سے) ڈیڑھ ہزار ہیں۔ (کیونکہ ہر نیکی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ دس گنا جزا دیتا ہے)۔ میں نے دیکھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو اپنے ہاتھ سے شمار کرتے تھے۔ (دوسرا کام یہ ہے کہ) جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر یا چارپائی پر لیٹے تو تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمدللہ اور چونتیس دفعہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہے۔ یہ زبان پر (پڑھنے کے لحاظ سے) سو کلمات ہیں اور میزان میں (ثواب کے لحاظ سے) ایک ہزار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ایسا شخص ہے جو ہر دن رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے؟ (یعنی جب کہ یہ کلمات اتنے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں)۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کوئی آدمی ان دو کاموں کی پابندی کیسے نہیں کر پاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر کہتا ہے: فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، (اس طرح اس کی توجہ ادھر ادھر ہو جاتی ہے اور وہ نماز کے فوراً بعد اٹھ کر چلا جاتا ہے)۔ اسی طرح سوتے وقت بھی شیطان آکر (ادھر ادھر کے خیالات میں پھنسا دیتا ہے اور) اسے سلا دیتا ہے (جس سے اسے اس ذکر کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 109 (5065)، سنن الترمذی/الدعوات 25 (3410)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 32 (926)، (تحفة الأشراف: 8638)، مسند احمد 2/160، 204، 205 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان تسبیحات کو وقت پر پڑھ لینا کیا مشکل ہے؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ
باب: تسبیح کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1350
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَسْبَاطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ , يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہا جاتا ہے ان کا کہنے والا ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا، یعنی جو ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1350]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض نمازوں کے بعد پڑھے جانے والے کچھ ایسے کلمات ہیں جنھیں پڑھنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ»، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰہِ» اور چونتیس دفعہ «اللّٰہُ اَکْبَرُ» پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (596)، سنن الترمذی/الدعوات 25 (3412)، (تحفة الأشراف: 11115)، والمؤلف فی عمل الیوم واللیلة 59 (155) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ
باب: تسبیح کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: أُمِرُوا أَنْ يُسَبِّحُوا دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , فَأُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي مَنَامِهِ , فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَتَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" اجْعَلُوهَا كَذَلِكَ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہیں، پھر ایک انصاری شخص سے اس کے خواب میں پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو پوچھنے والے نے کہا: تم انہیں پچیس، پچیس بار کر لو، اور باقی پچیس کی جگہ «لا الٰہ إلا اللہ» کہا کرو، تو جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے اسی طرح کر لو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1351]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا (استحاباً) کہ ہر فرض نماز کے بعد تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمد للہ اور چونتیس دفعہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہیں۔ ایک انصاری صحابی کو خواب آیا، اسے کہا گیا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمد للہ اور چونتیس دفعہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ خواب میں نظر آنے والے شخص نے کہا: تم انہیں پچیس دفعہ کرلو اور ان میں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» لا الہ الا اللہ کا اضافہ کرلو۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور پورا خواب بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے کرلو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3736)، مسند احمد 5/184، 190، سنن الدارمی/الصلاة 90 (1394) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1352
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , قِيلَ لَهُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمَرَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نُسَبِّحَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ , قَالَ: سَبِّحُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَاحْمَدُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَكَبِّرُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَهَلِّلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَاحْمَدُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَكَبِّرُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَهَلِّلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِك للنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْعَلُوا كَمَا قَالَ الْأَنْصَارِيُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دیکھا جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اس سے خواب میں پوچھا گیا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہیں، تو یہ کل سو ہیں، تو اس نے کہا: تم پچیس بار «سبحان اللہ» پچیس بار «الحمد لله» پچیس بار «اللہ أكبر» اور پچیس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، یہ بھی سو ہیں، چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسے ہی کر لو جیسے انصاری نے کہا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1352]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے خواب میں دیکھا، ان سے پوچھا گیا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم (فرض نماز کے بعد) تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» سبحان اللہ، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» الحمد للہ اور چونتیس دفعہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہیں۔ یہ ایک سو ہو جائیں گے۔ اس نے کہا: تم پچیس دفعہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» سبحان اللہ، پچیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» الحمد للہ، پچیس دفعہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر اور پچیس دفعہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» لا الہ الا اللہ پڑھ لیا کرو۔ یہ بھی ایک سو ہو جائیں گے۔ جب صبح ہوئی تو اس صحابی نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے یہ انصاری کہتا ہے، اسی طرح کرلو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 7768) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ
باب: تسبیح کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1353
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهَا وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو، ثُمَّ مَرَّ بِهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ , فَقَالَ لَهَا:" مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ" , قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكِ يَعْنِي كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور وہ مسجد میں دعا مانگ رہی تھیں، پھر آپ ان کے پاس سے دوپہر کے قریب گزرے (تو دیکھا وہ اسی جگہ دعا میں مشغول ہیں) تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اب تک اسی حال میں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتاؤں کہ جنہیں تم کہا کرو؟ وہ یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته» اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1353]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے جب کہ وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھی ذکر اذکار کر رہی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے قریب دوبارہ ان کے پاس سے گزرے۔ (وہ اس وقت بھی بیٹھی تھیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اس وقت سے اسی حالت میں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں کچھ کلمات نہ سکھا دوں جنہیں تم پڑھا کرو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ» اللہ کی تسبیح ہے، اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر۔ تین دفعہ، «سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَا نَفْسِهِ» اللہ کی تسبیح ہے اس کی رضا مندی کے مطابق۔ تین دفعہ، «سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ» اللہ کی تسبیح ہے اس کے عرش کے وزن کے مطابق۔ تین دفعہ، «سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» اللہ کی تسبیح ہے اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔ تین دفعہ۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الدعاء 19 (2726)، سنن الترمذی/الدعوات 104 (3555)، سنن ابن ماجہ/الأدب 56 (3808)، (تحفة الأشراف: 15788)، مسند احمد 6/324، 325، 429، والمؤلف فی عمل الیوم واللیلة 26 (161، 162) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1354
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَتَّابٌ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ , وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي , وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ , وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ وَيُنْفِقُونَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ , فَقُولُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرًا , فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِذَلِكَ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ مَنْ بَعْدَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مالدار لوگ (بھی) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، (اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1354]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فقیر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس مال ہے جس سے وہ صدقہ کرتے ہیں اور غلام آزاد کرتے ہیں۔ (ہم ان کے درجے کو کیسے پہنچ سکتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، تینتیس مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، تینتیس مرتبہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے اور دس دفعہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پڑھ لیا کرو۔ تم اس عمل کی بدولت اپنے سے آگے بڑھ جانے والے لوگوں کو جا ملو گے اور ان لوگوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ گے جو تم سے پیچھے ہیں۔ (یا جو یہ عمل نہیں کرتے۔) [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 186 (410)، (تحفة الأشراف: 6068، 6393) (منکر) (دس بار ’’لا إلٰہ إلا اللہ‘‘ کا ذکر منکر ہے، منکر ہونے کا سبب خُصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں، نیز آخر میں ایک بار ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر بتعشير التهليل
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (410) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَبَّحَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ وَهَلَّلَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ , غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1355]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کی نماز کے بعد سو دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے اور سو دفعہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پڑھے، اس کے سب گناہ معاف ہو جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 15452) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الزبير عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. بَابُ: عَقْدِ التَّسْبِيحِ
باب: تسبیح گننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1356
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ , وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1356]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیحات شمار کرتے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 359 (1502)، سنن الترمذی/الدعوات 25 (3411)، (تحفة الأشراف: 8637) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی یہ تسبیحات اپنی انگلیوں کے پوروں پر گنا کرتے تھے کسی اور چیز پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. بَابُ: تَرْكِ مَسْحِ الْجَبْهَةِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد پیشانی نہ پوچھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1357
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّذِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ , فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ يَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ , يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ وَيَرْجِعُ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا , فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ , فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ , وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وَتْرٍ , وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ , فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان کے) مہینہ کے بیچ کے دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے، جب بیسویں رات گزر جاتی اور اکیسویں کا استقبال کرتے تو آپ اپنے گھر واپس آ جاتے، اور وہ لوگ بھی واپس آ جاتے جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے، پھر ایک مہینہ ایسا ہوا کہ آپ جس رات گھر واپس آ جاتے تھے اعتکاف ہی میں ٹھہرے رہے، لوگوں کو خطبہ دیا، اور انہیں حکم دیا جو اللہ نے چاہا، پھر فرمایا: میں اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر میرے جی میں آیا کہ میں ان آخری دس دنوں میں اعتکاف کروں، تو جو شخص میرے ساتھ اعتکاف میں ہے تو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرا رہے، میں نے اس رات (لیلۃ القدر) کو دیکھا، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اکیسویں رات کو بارش ہوئی تو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر ٹپکنے لگی، چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ رہے ہیں، اور آپ کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1357]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان المبارک کے درمیان والے دس دنوں میں اعتکاف بیٹھتے تھے۔ پھر جب بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات آ جاتی تو آپ اور آپ کے ساتھ اعتکاف بیٹھنے والے گھروں کو لوٹ جاتے۔ پھر ایک سال اس رات بھی اعتکاف میں بیٹھے رہے جس رات آپ گھر کو لوٹ جایا کرتے تھے۔ پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو اللہ نے چاہا اس کا انہیں حکم دیا۔ پھر فرمایا: میں درمیان والے دس دنوں کا اعتکاف بیٹھا کرتا تھا۔ اب مجھے خیال آیا ہے کہ میں آخری دس دنوں کا بھی اعتکاف بیٹھوں، اس لیے جو شخص میرے ساتھ اعتکاف بیٹھا ہے، وہ اپنی اعتکاف گاہ میں بیٹھا رہے۔ تحقیق میں نے لیلۃ القدر خواب میں دیکھی تھی مگر مجھے وہ بھلوا دی گئی، لہٰذا اس رات کو آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اکیسویں رات ہی ہم پر بارش برسی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ میں مسجد ٹپکنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف مڑے تو آپ کا چہرہ (یعنی ماتھا اور ناک کا کنارہ) کیچڑ سے تر تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1096 (ہذا الحدیث مطول، والحدیث الذي تقدم مختصر) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. بَابُ: قُعُودِ الإِمَامِ فِي مُصَلاَّهُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام کے بعد امام کا اپنے مصلی پر بیٹھے رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1358
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے فارغ ہو جاتے تو آپ اپنے مصلیٰ ہی پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1358]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ چکتے تو سورج طلوع ہونے تک اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھے رہتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 52 (670)، سنن الترمذی/الصلاة 295 (585)، (تحفة الأشراف: 2168)، مسند احمد 5/91، 97، 100 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں