سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابُ: السُّجُودِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1329
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ , وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ" , وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ مُخْتَصَرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فجر تک کے بیچ میں گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر کرتے ۱؎، اور ایک سجدہ اتنا لمبا کرتے کہ کوئی اس سے پہلے کہ آپ سجدہ سے سر اٹھائیں پچاس آیتیں پڑھ لے۔ اس حدیث کے رواۃ (ابن ابی ذئب، عمرو بن حارث اور یونس بن یزید) ایک دوسرے پر اضافہ بھی کرتے ہیں اور یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر کی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1329]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فجر کے طلوع ہونے تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے اور ان میں سے ایک رکعت الگ (سلام سے) پڑھتے اور اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس (50) آیات پڑھ سکتا تھا۔ (ابن وہب فرماتے ہیں) بعض راوی بعض کی نسبت (کچھ) اضافے کے ساتھ یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 686 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ سجدہ سلام کے بعد ہوتا تھا، حالانکہ یہاں تہجد کے اندر آپ کے سجدے کی طوالت بیان کرنی مقصود ہے، اس روایت میں صحیح بخاری کی عبارت یوں ہے «فیسجد السجدۃ من ذٰلک قدرما یقرأ أحدکم خمسین آیۃ قبل أن یرفع» (کتاب الوتر باب ۱) یعنی: تہجد میں آپ کا ایک سجدہ اتنا طویل ہوتا تھا کہ کوئی دوسرا اتنے میں پچاس آیتیں پڑھ لے، مؤلف رحمہ اللہ سے اس بابت وہم ہوا ہے عفا اللہ عنہ … ایسے کسی سجدہ کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
75. بَابُ: سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْكَلاَمِ
باب: سلام پھیرنے اور گفتگو کر لینے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ , عَنْ حَفْصٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلَّمَ , ثُمَّ تَكَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ نے گفتگو کی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1330]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھول کر) سلام پھیر دیا، پھر کچھ باتیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن الترمذی/الصلاة 173 (393)، مسند احمد 1/456، (تحفة الأشراف: 9426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
76. بَابُ: السَّلاَمِ بَعْدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ
باب: سجدہ سہو کے بعد سلام پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1331
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلَّمَ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ سَلَّمَ" , قَالَ: ذَكَرَهُ فِي حَدِيثِ ذِي الْيَدَيْنِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے، پھر سلام پھیرا، راوی کہتے ہیں: اس کا ذکر ذوالیدین والی حدیث میں بھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1331]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ (امام نسائی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ذوالیدین کی حدیث میں بھی اس کا ذکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 195 (1016)، (تحفة الأشراف: 13514)، مسند احمد 2/423 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1332
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى ثَلَاثًا، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ الْخِرْبَاقُ: إِنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو خرباق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے تین ہی رکعت نماز پڑھی ہے، چنانچہ آپ نے انہیں وہ رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1332]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ حضرت خرباق رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے تین رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بقیہ رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1238 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
77. بَابُ: جَلْسَةِ الإِمَامِ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالاِنْصِرَافِ
باب: سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان امام کی بیٹھک کا بیان۔
حدیث نمبر: 1333
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ ابْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ وَرَكْعَتَهُ وَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرَّكْعَةِ , فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ , قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام ۱؎، آپ کا رکوع، اور رکوع کے بعد آپ کا سیدھا کھڑا ہونا، پھر آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پھر دوسرا سجدہ کرنا، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1333]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں بغور دیکھا تو میں نے آپ کے قیام، رکوع، رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونے، سجدہ، دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے، پھر دوسرا سجدہ کرنے، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف منہ پھیرنے کے درمیان (قبلہ رخ) بیٹھنے کو تقریباً برابر پایا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1066، (تحفة الأشراف: 1781) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں «قیام» کا اضافہ ”ہلال بن أبی حمید“ کی روایت میں ہے، ان کے ساتھی ”حکم بن عتیبہ“ کی روایت میں «قیام» کا ذکر نہیں ہے، اور ”حکم“ ”ہلال“ کے مقابلہ زیادہ ثقہ ہیں، اس لیے ان کی روایت محفوظ ہے، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تو اکثر رکوع، قومہ، جلسہ بین السجدتین وغیرہ سے لمبا ہی ہوا کرتا تھا، بلکہ کبھی کبھی آپ ساٹھ سے سو آیتیں پڑھا کرتے رہے ہیں، اور ظہر کی پہلی رکعت دوسری سے لمبی ہوا کرتی تھی، اس لیے ہلال کی روایت یا تو شاذ ہے، یا کبھی کبھار آپ ایسا کرتے رہے ہوں، اور اسی وقت براء رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهَا:" أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الصَّلَاةِ قُمْنَ , وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ , فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہو جاتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں ہوتے بیٹھے رہتے جب تک اللہ چاہتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1334]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عورتیں نماز سے سلام پھیرتے ہی اٹھ کر چلی جاتی تھیں، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد نمازی، جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا (کافی دیر تک) بیٹھے رہتے، پھر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو مرد بھی اٹھ کر چلے جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 152 (837)، 157 (849)، 163 (866)، 167 (870)، سنن ابی داود/الصلاة 203 (1040)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 33 (932)، (تحفة الأشراف: 18289)، مسند احمد 6/296، 310، 316 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
78. بَابُ: الاِنْحِرَافِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد قبلہ سے پلٹ کر نمازیوں کی طرف رخ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1335
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ:" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا صَلَّى انْحَرَفَ".
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1335]
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ (قبلے سے) موڑ لیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 72 (614)، سنن الترمذی/الصلاة 49 (219) مطولاً، مسند احمد 4/161، (تحفة الأشراف: 11823) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
79. بَابُ: التَّكْبِيرِ بَعْدَ تَسْلِيمِ الإِمَامِ
باب: امام کے سلام پھیرنے کے بعد تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1336
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا كُنْتُ أَعْلَمُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر کے ذریعہ جانتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1336]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام لوگوں کے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنے سے معلوم کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 155 (842)، صحیح مسلم/المساجد 23 (583)، سنن ابی داود/الصلاة 191 (1002)، مسند احمد 1/222، (تحفة الأشراف: 6512) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی اس حدیث اور ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث (رقم: ۱۳۳۸) کا خلاصہ یہ ہے کہ سلام کے بعد ایک بار زور سے «اللہ اکبر» اور تین بار «استغفراللہ» کہتے، اور یہ تکبیر ۳۳، ۳۳ بار تسبیح تحمید اور تکبیر کے علاوہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
80. بَابُ: الأَمْرِ بِقِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَاتِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1337
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ الْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذتین «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھا کروں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1337]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر (فرض) نماز کے بعد «الْمُعَوِّذَاتِ» ”معوذات“ پڑھوں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 361 (1523)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 12 (2903)، (تحفة الأشراف: 9940)، مسند احمد 4/155، 201 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
81. بَابُ: الاِسْتِغْفَارِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد «أستغفراللہ» کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1338
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ , أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا , وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ , تَبَارَكْتُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار «استغفر اللہ» کہتے، پھر کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھ سے ہی تمام کی سلامتی ہے، تیری ذات بڑی بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1338]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ «أَسْتَغْفِرُ اللهَ» ”میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔“ پڑھتے اور یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو سلام ہے۔ تیری ہی طرف سے سلامتی ملتی ہے۔ اے احترام و عزت والے! تو بابرکت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (591)، سنن ابی داود/الصلاة 360 (1513)، سنن الترمذی/الصلاة 109 (300)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 32 (928)، مسند احمد 5/275، 279، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1388)، (تحفة الأشراف: 2099) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم