🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: ایک اور طرح کے تعوذ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1309
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَقَالَ:" نَعَمْ , عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ" , قَالَتْ: عَائِشَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً بَعْدُ:" إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں، قبر کا عذاب برحق ہے، اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ نے قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1309]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، عذابِ قبر برحق ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بھی نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں عذابِ قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 86 (1372)، الدعوات 37 (6366)، صحیح مسلم/المساجد 24 (586)، (تحفة الأشراف: 17660)، مسند احمد 6/174 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1310
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ" , فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ , فَقَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ , وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگتے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللہم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم‏» اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تجھ سے گناہ اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں تو کہنے والے نے آپ سے کہا: آپ قرض سے اتنا زیادہ کیوں پناہ مانگتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1310]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنہ و آزمائش سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے اللہ! میں گناہ اور قرض (یا گناہوں کے بوجھ) سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ کسی کہنے والے نے آپ سے کہا: آپ قرض سے کس قدر زیادہ پناہ طلب کرتے ہیں! آپ نے فرمایا: جب کوئی آدمی مقروض ہو جاتا ہے، پھر بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 149 (832)، الاستقراض 10 (2397) مختصراً، صحیح مسلم/المساجد 25 (589)، سنن ابی داود/الصلاة 153 (880)، مسند احمد 6/89، 244، ویأتی عند المؤلف فی الاستعاذة (برقم: 5456) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1311
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ , عَنِ الْمُعَافَى , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وَأَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , ثُمَّ يَدْعُو لِنَفْسِهِ بِمَا بَدَا لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے، تو وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے، پھر وہ اپنے لیے جو جی چاہے دعا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1311]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نمازی تشہد پڑھ چکے تو ان چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے: جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کی آزمائش اور مسیح دجال کے شر سے، پھر اس کے بعد (منقول دعاؤں میں سے) اپنے لیے اپنی پسندیدہ دعا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن ابی داود/الصلاة 184 (983)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 26 (909)، (تحفة الأشراف: 14587)، مسند احمد 2/237، سنن الدارمی/الصلاة 86 (1383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے بعد ایک اور طرح کے ذکر الٰہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1312
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: أَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ , وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد اپنی نماز میں کہتے تھے: «أحسن الكلام كلام اللہ وأحسن الهدى هدى محمد صلى اللہ عليه وسلم» سب سے عمدہ کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1312]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں تشہد کے بعد یہ الفاظ کہتے تھے: «وَأَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللّٰهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم » سب سے بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور سب سے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2618) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. بَابُ: تَطْفِيفِ الصَّلاَةِ
باب: نماز میں تقصیر و کوتاہی سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1313
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ ," أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فَطَفَّفَ , فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مُنْذُ كَمْ تُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ عَامًا , قَالَ: مَا صَلَّيْتَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَوْ مِتَّ وَأَنْتَ تُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ , لَمِتَّ عَلَى غَيْرِ فِطْرَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ وَيُتِمُّ وَيُحْسِنُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے، اور اچھی طرح نہیں پڑھ رہا ہے، اس میں وہ کمی کر رہا ہے، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: اس طرح سے نماز تم کب سے پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا: چالیس سال سے، تو انہوں نے کہا: تم نے چالیس سال سے کامل نماز نہیں پڑھی، اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مر جاتے تو تمہارا خاتمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ پر ہوتا، پھر انہوں نے کہا: آدمی ہلکی نماز پڑھے لیکن پوری اور اچھی پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1313]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک آدمی کو ناقص نماز پڑھتے دیکھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تو کتنے عرصے سے ایسی نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے کہا: چالیس سال سے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقین کر چالیس سال سے تو نے نماز پڑھی ہی نہیں اور اگر تو اسی قسم کی نماز پڑھتا پڑھتا مر جاتا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر فوت نہ ہوتا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: بلاشبہ انسان ہلکی نماز پڑھنے کے باوجود مکمل اور اچھے طریقے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 119 (791) مختصراً، مسند احمد 5/384، (تحفة الأشراف: 3329) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز میں تطفیف (تقصیر و کوتاہی) یہ ہے کہ رکوع، و سجود اور قیام کو قدر واجب سے کم کرے، اور دونوں سجدوں کے بیچ میں اچھی طرح سے نہ ٹھہرے اسی طرح رکوع کے بعد سیدھا کھڑا نہ ہو، یہ مذموم ہے، اور نماز میں تخفیف یہ ہے کہ رکوع، سجود اور قیام وغیرہ اچھی طرح کرے، لیکن لمبی سورتوں کے بجائے مختصر سورتیں پڑھے، ایسا کرنا درست ہے اس میں کوئی قباحت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ: أَقَلِّ مَا يُجْزِئُ مِنْ عَمَلِ الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کم سے کم کتنا عمل کافی ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1314
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيّ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ , وَنَحْنُ لَا نَشْعُرُ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا" , فَقَالَ لَهُ: الرَّجُلُ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي , فَقَالَ:" إِذَا قُمْتَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ، ثُمَّ افْعَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ".
یحییٰ اپنے چچا بدری صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اور ہم نہیں سمجھ رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے (جواب دینے کے بعد) فرمایا: واپس جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، چنانچہ وہ واپس گیا، اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے (ابھی بھی) نماز نہیں پڑھی ہے، دو یا تین بار ایسا ہوا تو اس آدمی نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے، میں اپنی بھر کوشش کر چکا ہوں لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح سے وضو کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو، پھر قرآن پڑھو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ، پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1314]
ایک بدری صحابی (حضرت رفاعہ بن رافع) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بغور دیکھنے لگے۔ ہمیں اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور دوبارہ نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ دو تین دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آخر وہ آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو عزت بخشی! میں تو (بار بار نماز پڑھ کر) تھک گیا ہوں، لہٰذا مجھے سکھا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے ارادے سے کھڑا ہو تو وضو کر اور اچھی طرح وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر اور «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر اور اطمینان سے رکوع کر، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرے، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرے، پھر سر اٹھا، پھر (ہر رکعت میں) ایسے ہی کر حتیٰ کہ تو اپنی نماز سے فارغ ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 668، 1137 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1315
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ , فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ فِي صَلَاتِهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" حَتَّى كَانَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَقَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ , لَقَدْ جَهِدْتُ وَحَرَصْتُ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا , فَإِنَّمَا تَنْتَقِصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
یحییٰ بن خلاد بن رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، چنانچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کر چکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے (صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہو گی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1315]
ایک بدری صحابی (حضرت رفاعہ بن رافع) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کہا، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز میں دیکھتے رہے تھے۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا، پھر نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ حتیٰ کہ تیسری یا چوتھی دفعہ ہوئی تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب اتاری! میں تو (بار بار نماز پڑھ کر) تھک گیا ہوں، میری خواہش ہے کہ آپ مجھے (نماز پڑھ کر) دکھائیں اور مجھے سکھلا دیں۔ آپ نے فرمایا: جب تو نماز کا ارادہ کرے تو وضو کر اور بہترین وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ، پھر قرآن (کم از کم فاتحہ) پڑھ، پھر رکوع کر حتیٰ کہ تجھے رکوع میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ تجھے سجدے میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے، پھر دوسرا سجدہ کر حتیٰ کہ تجھے سجدے میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا، پھر جب تو اس طریقے سے نماز مکمل کر لے تو تیری نماز مکمل اور صحیح ہو جائے گی۔ اور جو تو ان کاموں میں کمی کرے گا تو یقیناً اپنی نماز ہی میں نقص ڈالے گا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 668 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1316
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ , فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ , فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ , فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے (تہجد کے) لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ جب آپ کو رات میں بیدار کرنا چاہتا بیدار کر دیتا، آپ اٹھ کر مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۱؎، ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، اللہ عزوجل کا ذکر کرتے، اور دعائیں کرتے، پھر اتنی اونچی آواز میں آپ سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1316]
حضرت سعد بن ہشام رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر (رات کی نفل نماز) کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ چاہتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مسواک کرتے، وضو فرماتے اور آٹھ رکعات پڑھتے۔ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے لیے نہیں بیٹھتے تھے مگر آٹھویں رکعت کے بعد۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے اور دعائیں پڑھتے۔ پھر اتنی آواز سے سلام کہتے کہ ہم سن لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1191)، (تحفة الأشراف: 16107)، مسند احمد 6/54، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1721، 1722 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ رواۃ میں سے کسی راوی کا وہم ہے جیسا کہ مؤلف آگے چل کر حدیث رقم ۱۶۰۲ میں اس پر تنبیہ کریں گے، صحیح نو رکعتیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ: السَّلاَمِ
باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1317
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمِسْوَرِ الْمَخْرَمِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1317]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے آخر میں) دائیں بائیں (منہ موڑتے تھے اور) سلام کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 22 (582)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 28 (915)، (تحفة الأشراف: 3866)، مسند احمد 1/172، 180، 181، سنن الدارمی/الصلاة 87 (1385) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1318
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ: هَذَا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن جعفر مخرمی میں کوئی حرج نہیں یعنی قابل قبول راوی ہیں، اور علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح، متروک الحدیث ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1318]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا کہ آپ (نماز کے اختتام پر) دائیں اور بائیں سلام کہتے تھے اور اس قدر منہ موڑتے تھے کہ آپ کے رخسار اطہر کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ (راویٔ حدیث) عبداللہ بن جعفر معتبر راوی ہیں، البتہ علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح متروک ہیں۔ (ان کی حدیث معتبر نہیں ہے۔) [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں