🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
99. بَابُ: قُعُودِ الإِمَامِ فِي مُصَلاَّهُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام کے بعد امام کا اپنے مصلی پر بیٹھے رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1359
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: كُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ , كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , فَيَتَحَدَّثُ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ حَدِيثَ الْجَاهِلِيَّةِ , وَيُنْشِدُونَ الشِّعْرَ , وَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں (پھر انہوں نے بیان کیا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے، اور اشعار پڑھتے، اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1359]
حضرت سماک بن حرب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو سورج طلوع ہونے تک اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھے رہتے، آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے سامنے باتیں کرتے رہتے، کبھی جاہلیت کی باتیں ذکر کرتے، کبھی شعر پڑھتے اور ہنستے، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 52 (670)، الفضائل 17 (2322) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 301 (1294)، (تحفة الأشراف: 2155)، مسند احمد 5/91 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
100. بَابُ: الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے سلام پھیر کر مقتدیوں کی طرف پلٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1360
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي؟ , قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ".
سدی (اسماعیل بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے داہنے اور بائیں سلام پھیر کر کیسے پلٹوں؟ تو انہوں نے کہا: رہا میں تو میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1360]
حضرت سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب میں نماز سے فارغ ہو جاؤں تو کیسے اٹھوں؟ دائیں جانب سے یا بائیں جانب سے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمومی طور پر دائیں جانب مڑ کر اٹھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 7 (708)، (تحفة الأشراف: 227)، مسند احمد 3/133، 179، 217، 280، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1391، 1392) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1361
أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ , لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کوئی خود سے شیطان کا کوئی حصہ نہ کرے کہ غیر ضروری چیز کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اور داہنی طرف ہی سے پلٹنے کو اپنے اوپر لازم کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1361]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ پر شیطان کا حصہ نہ رکھے کہ وہ اپنے آپ پر ضروری قرار دے کہ صرف دائیں جانب ہی سے مڑے گا۔ بلاشبہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں جانب سے مڑتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 159 (852)، صحیح مسلم/المسافرین 7 (707)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1042)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 33 (930)، (تحفة الأشراف: 9177)، مسند احمد 1/383، 429، 464، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1390) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1362
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ , أَنَّ مَكْحُولًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مَسْرُوقَ بْنَ الْأَجْدَعِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا , وَيُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا , وَيَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، اور ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ سلام پھیر نے کے بعد (کبھی) اپنے دائیں طرف پلٹتے، اور (کبھی) اپنے بائیں طرف۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1362]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی پانی پی لیتے تھے اور بیٹھ کر بھی، ننگے پاؤں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور جوتے پہن کر بھی، اور نمازیوں کی طرف دائیں طرف سے بھی مڑ جاتے تھے اور بائیں طرف سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 6/87، (تحفة الأشراف: 17652) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
101. بَابُ: الْوَقْتِ الَّذِي يَنْصَرِفُ فِيهِ النِّسَاءُ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے فراغت کے بعد عورتوں کے گھر لوٹنے کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1363
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ , فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1363]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھتی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو وہ فوراً اٹھ کر چلی جاتیں، انہوں نے بڑی چادریں لپیٹی ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے انہیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16521)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں، تاکہ مردوں کی بھیڑ بھاڑ سے انہیں واسطہ نہ پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ مُبَادَرَةِ الإِمَامِ، بِالاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: امام سے پہلے سلام پھیرنے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ ابْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ:" إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ , فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" , قُلْنَا: مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں تمہارا امام ہوں، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی سلام میں، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں، اور پیچھے سے بھی، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم، اور روتے زیادہ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1364]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدے، اٹھنے اور سلام پھیرنے میں مجھ سے جلدی نہ کیا کرو۔ میں تمہیں ہر حال میں دیکھتا ہوں، تم آگے ہو یا پیچھے- پھر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم وہ چیزیں دیکھ لو جو میں دیکھ چکا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 25 (426)، (تحفة الأشراف: 1577)، مسند احمد 3/102، 126، 154، 217، 240، 245، 290، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ
باب: نماز پڑھنے اور فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہنے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ , فَلَمْ يَقُمْ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ , فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ كَانَتْ سَادِسَةٌ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا , فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ نَفَلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ , قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ" , قَالَ: ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا , فَلَمَّا بَقِيَ ثُلُثٌ مِنَ الشَّهْرِ أَرْسَلَ إِلَى بَنَاتِهِ وَنِسَائِهِ وَحَشَدَ النَّاسَ , فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ دَاوُدُ , قُلْتُ: مَا الْفَلَاحُ , قَالَ: السُّحُورُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے (اور پڑھاتے رہے) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے (اور پڑھاتے رہے) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے (ولید بن عبدالرحمٰن نے) کہا: سحری کھانا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1365]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کو (تراویح کی) نماز پڑھائی حتیٰ کہ رات کا تقریباً تیسرا حصہ گزر گیا۔ پھر چوبیسویں رات ہوئی تو ہمیں نماز نہیں پڑھائی۔ جب پچیسویں رات ہوئی تو پھر ہمیں نماز پڑھائی حتیٰ کہ تقریباً نصف رات گزر گئی۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ساری رات ہمیں نفل نماز پڑھاتے رہتے تو کیا ہی خوب ہوتا۔ آپ نے فرمایا: جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز پڑھے اور امام کے واپس جانے تک ساتھ رہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔ پھر چھبیسویں رات ہوئی تو آپ نے ہمیں نفل نماز نہ پڑھائی۔ جب ماہ مقدس کے تین دن باقی رہ گئے (یعنی ستائیسویں رات کو) تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو بھی بلا بھیجا اور بہت لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے ہمیں نفل نماز پڑھائی حتیٰ کہ ہمیں خطرہ محسوس ہوا کہ «الْفَلَاحُ» فلاح رہ جائے گی۔ پھر اس کے بعد اس ماہ مقدس کی کسی رات کو ہمیں نفل نماز (تراویح) نہیں پڑھائی۔ (راویٔ حدیث) داود (بن ابو ہند) نے کہا: میں نے (اپنے استاد ولید سے) پوچھا: «الْفَلَاحُ» فلاح کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سحری ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 318 (1375)، سنن الترمذی/الصوم 81 (806)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 173 (1327)، (تحفة الأشراف: 11903)، مسند احمد 5/159، 163، سنن الدارمی/الصوم 54 (1818، 1819)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1606 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلإِمَامِ فِي تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ
باب: امام کے لیے لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ سَرِيعًا حَتَّى تَعَجَّبَ النَّاسُ لِسُرْعَتِهِ , فَتَبِعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ , فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَالَ:" إِنِّي ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الْعَصْرِ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ كَانَ عِنْدَنَا , فَكَرِهْتُ أَنْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ".
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں نماز عصر پڑھی، پھر آپ تیزی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گئے یہاں تک کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں پڑ گئے، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے گئے (کہ کیا معاملہ ہے) آپ اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور فرمایا: میں نماز عصر میں تھا کہ مجھے سونے کا وہ ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تھا، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رات بھر وہ ہمارے پاس پڑا رہے، لہٰذا جا کر میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1366]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ایک دفعہ مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گھر چلے گئے حتیٰ کہ لوگوں نے آپ کی جلدی پر تعجب کیا۔ کچھ صحابہ آپ کے پیچھے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے گھر داخل ہوئے، پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے عصر کی نماز کے دوران میں یاد آیا کہ کچھ سونا ہمارے گھر پڑا ہے۔ میں نے پسند نہ کیا کہ وہ رات کو ہمارے گھر رہے، اس لیے میں نے وہ تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 158 (851)، العمل فی ال صلاة 18 (1221)، الزکاة 20 (1430)، الاستئذان 36 (6275)، مسند احمد 4/7، 8، 384، (تحفة الأشراف: 9906) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. بَابُ: إِذَا قِيلَ لِلرَّجُلِ هَلْ صَلَّيْتَ هَلْ يَقُولُ لاَ
باب: جب کسی آدمی سے پوچھا جائے ”تم نے نماز پڑھی؟“ تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ ”نہیں؟“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1367
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ , جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ , وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَوَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا" , فَنَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا , فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود (پہلے) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1367]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو بڑی مشکل سے عین غروب شمس کے قریب نماز عصر پڑھ سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تو ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحان میں گئے۔ آپ نے بھی وضو کیا اور ہم نے بھی۔ پھر غروب شمس کے بعد پہلے عصر کی نماز پڑھی، پھر مغرب کی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 36 (596)، 38 (598)، الأذان 26 (641)، الخوف 4 (945)، المغازي 29 (4112)، صحیح مسلم/المساجد 36 (631)، سنن الترمذی/الصلاة 18 (180)، (تحفة الأشراف: 3150) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں