سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: إِتْمَامِ الْمُصَلِّي عَلَى مَا ذَكَرَ إِذَا شَكَّ
باب: جب نمازی کو (نماز میں) شک ہو جائے تو جو یقینی طور پر یاد ہو اس پر بنا کرے۔
حدیث نمبر: 1239
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ , فَإِذَا اسْتَيْقَنَ بِالتَّمَامِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ , فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ , وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو وہ شک کو چھوڑ دے، اور یقین پر بنا کرے، جب اسے نماز کے پورا ہونے کا یقین ہو جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، (اب) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھیں ہوں گی تو (یہ) دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو (یہ) دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کے موجب ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1239]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو وہ شک دور کرے اور یقین پر بنیاد رکھے (یعنی یقین کے مطابق نماز جاری رکھے۔) جب اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہو جائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اگر اس نے پانچ (رکعات) پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار (رکعات) پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے شیطان کو ذلیل کرنے کا سبب بنیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ المساجد 19 (571)، سنن ابی داود/الصلاة 197 (1024)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 132 (1210)، موطا امام مالک/الصلاة 16 (62) مرسلاً، حم3/72، 83، 84، 87، سنن الدارمی/الصلاة 174 (1536)، (تحفة الأشراف: 4163)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1240 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، ثُمَّ يَسْجُدْ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ , وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (نماز پڑھتے وقت) نہ جان پائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اسے ایک رکعت اور پڑھ لینی چاہیئے، پھر وہ ان سب کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، (اب) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی، تو یہ دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کا اور اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرنے کا سبب بنیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1240]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو پتا نہ چلے کہ اس نے تین (رکعات) پڑھی ہیں یا چار؟ تو وہ ایک رکعت مزید پڑھ کر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اگر اس نے پانچ (رکعات) پڑھی ہوں گی تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے اور اگر چار پڑھی ہیں تو یہ شیطان کی ذلت کا سبب ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
25. بَابُ: التَّحَرِّي
باب: (نماز شک ہونے کی صورت میں) تحری (صحیح بات جاننے کی کوشش) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1241
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ , فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ فَيُتِمَّهُ، ثُمَّ يَعْنِي يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَلَمْ أَفْهَمْ بَعْضَ حُرُوفِهِ كَمَا أَرَدْتُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ (غور و فکر کے بعد) اس چیز کا قصد کرے جسے اس نے درست سمجھا ہو، اور اسی پر اتمام کرے، پھر اس کے بعد یعنی دو سجدے کرے“، راوی کہتے ہیں: آپ کے بعض حروف کو میں اس طرح سمجھ نہیں سکا جیسے میں چاہ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1241]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو اسے صحیح صورت حال جاننے کی کوشش کرنی چاہیے، پھر وہ اپنی نماز مکمل کرے، پھر دو سجدے کرے۔“ (امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میں اس روایت کے بعض الفاظ (اپنے استاد گرامی سے) اس طرح نہیں سمجھ سکا جس طرح میری خواہش تھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 31 (401) مطولاً، 32 (404)، السھو 2 (1226)، الأیمان 15 (6671) مطولاً، أخبار الآحاد 1 (7249)، صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن ابی داود/الصلاة 196 (1020)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 133 (1211، 1212)، (تحفة الأشراف: 9451)، مسند احمد 1/379، 429، 438، 455، سنن الدارمی/الصلاة 175 (1539)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1242، 1243، 1244، 1245 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1242
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ , فَلْيَتَحَرَّ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يَفْرُغُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ غور و فکر کرے، (اور ظن غالب کو تلاش کرے) اور نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد دو سجدے کر لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1242]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ صحیح بات جاننے کی کوشش کرے اور فارغ ہونے کے بعد دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے کہ آدمی اسے سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے، یہی قول اکثر فقہائے مدینہ مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ اور شافعی وغیرہ کا ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے، اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہ قول مالک بن انس کا ہے، اور امام احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑے ہو جائے تو ابن بحینہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے، اور جب ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر و عصر کی نماز میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اس طرح جس صورت میں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے اس پر اسی طرح عمل کرے، اور جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1243
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَزَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ , قَالَ:" لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ , فَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ نے کچھ بڑھایا گھٹا دیا، جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اگر نماز کے سلسلہ میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اسے بتاتا، البتہ میں بھی انسان ہی ہوں، جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، مجھ سے بھی بھول ہو سکتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کچھ شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس چیز کو دیکھے جو صحت و درستی کے زیادہ لائق ہے، اور اسی پر اتمام کرے، پھر سلام پھیرے، اور دو سجدے کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1243]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادتی یا کمی ہو گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا۔ لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جس آدمی کو بھی اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو وہ دیکھے کون سی بات صحت کے زیادہ قریب ہے۔ پھر اس کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے۔ پھر سلام پھیرے اور (سہو کے) دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1241 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1244
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَزَادَ فِيهَا أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ , قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ , قَالَ:" وَمَا ذَاكَ" , فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي فَعَلَ , فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ:" لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ شَيْئًا , فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ صَوَابٌ، ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے اس میں کچھ بڑھا، یا گھٹا دیا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے، اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا“، پھر فرمایا: ”میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہو جائے تو غور و فکر کرے، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو، پھر وہ سلام پھیرے، پھر سہو کے دو سجدے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1244]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی، اس میں آپ سے زیادتی یا کمی ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ ہم نے آپ سے پوری بات ذکر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور قبلے کی طرف منہ کیا اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آ جاتا تو میں تمہیں بتلا دیتا۔“ پھر فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں، بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو، لہٰذا جس آدمی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے، وہ صحیح صورت حال جاننے کی کوشش کرے، پھر سلام پھیر دے، پھر سہو کے دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1241 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1245
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ , وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ رَجُلًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ , فَقَالُوا: أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ حَدَثٌ , قَالَ:" وَمَا ذَاكَ" , فَأَخْبَرُوهُ بِصَنِيعِهِ , فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ , فَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ , أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي , وَقَالَ: لَوْ كَانَ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ حَدَثٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ , وَقَالَ: إِذَا أَوْهَمَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ مِنَ الصَّوَابِ، ثُمَّ لِيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا نماز کے متعلق کوئی نئی چیز واقع ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا؟“ تو لوگوں نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی حالت میں) اپنا پاؤں موڑا، اور آپ قبلہ رخ ہوئے، اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ (دوبارہ) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ”میں انسان ہی تو ہوں اسی طرح بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، تو جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلا دو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی چیز ہوئی ہوتی تو میں تمہیں اسے بتاتا“، نیز آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں وہم ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ سوچے، اور اس چیز کا قصد کرے جو درستی سے زیادہ قریب ہو، پھر اسی پر اتمام کرے، پھر دو سجدے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1245]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی (آپ سے ایک رکعت زائد پڑھی گئی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ لوگوں کی طرف پھیرا تو لوگوں نے کہا: کیا نماز میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلے کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں۔ بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ اگر نماز کے بارے میں کوئی تبدیلی ہوئی ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا۔“ نیز فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں وہم پڑ جائے تو وہ بہت زیادہ درست بات معلوم کرے اور اس کے حساب سے نماز مکمل کرے، پھر دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1241 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1246
أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن شعبة عن الحكم قال سمعت أبا وائل يقول قال عبد الله: من أوهم في صلاته فليتحر الصواب ثم يسجد سجدتين بعد ما يفرغ وهو جالس .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جسے اپنی نماز میں وہم ہو جائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر فارغ ہونے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1246]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جسے نماز میں وہم ہو جائے تو وہ درست بات تلاش کرے، پھر نماز مکمل کرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 9241)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1247 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1247
أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن مسعر عن الحكم عن أبي وائل عن عبد الله قال: من شك أو أوهم فليتحر الصواب ثم ليسجد سجدتين .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جسے کچھ شک یا وہم ہو جائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1247]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”جسے (نماز میں) شک یا وہم پڑ جائے تو وہ درست بات تلاش کرے، پھر دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1248
أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن بن عون عن إبراهيم قال: كانوا يقولون إذا أوهم يتحرى الصواب ثم يسجد سجدتين .
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے کہ جب کسی آدمی کو وہم ہو جائے تو اسے صحیح و صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1248]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ (صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم) کہتے تھے: جب نمازی کو وہم ہو جائے تو وہ درست بات تلاش کرے، پھر دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح