🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. بَابُ: الْقِسْطِ فِي الأَصْدِقَةِ
باب: مہر کی ادائیگی میں عدل و انصاف سے کام لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3348
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 , قَالَتْ:" يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، فَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 , إِلَى قَوْلِهِ: وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي فِيهَا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 , رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے (ام المؤمنین) عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» ”اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے، تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو (النساء: ۳) کے بارے میں سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ ساجھی ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو، اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کیے نکاح کرنا چاہتا ہو یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو، چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا۔ اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم بچیوں کے متعلق مسئلہ پوچھا تو اللہ نے آیت «ويستفتونك في النساء قل اللہ يفتيكم فيهن» سے لے کر «وترغبون أن تنكحوهن» ”آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے، اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے، اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو (النساء: ۱۲۷) تک نازل فرمائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے «وما يتلى عليك في الكتاب» جو فرمایا ہے اس سے پہلی آیت: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» مراد ہے۔ اور دوسری آیت میں فرمایا: «وترغبون أن تنكحوهن» تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو یتیم لڑکی تمہاری نگہداشت و پرورش میں ہوتی ہے اور کم مال والی اور کم خوبصورتی والی ہوتی ہے اسے تو تم نہیں چاہتے تو اس کی بنا پر تمہیں ان یتیم لڑکیوں سے بھی شادی کرنے سے روک دیا گیا ہے جن کا مال پانے کی خاطر تم ان سے شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3348]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 3] ”اور اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تم یتیموں کی بابت انصاف نہیں کر سکو گے تو تم (دوسری) عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں“ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھانجے! اس (آیت میں یتیموں) سے وہ یتیم بچی مراد ہے جو اپنے کسی سرپرست کے ہاں پرورش پا رہی ہو اور اس کے ساتھ اس کے مال میں شریک ہو۔ سرپرست کو اس کے مال و جمال سے دلچسپی ہو، اس لیے اس سرپرست کا ارادہ ہو کہ اس (یتیم بچی) سے نکاح کرے (تاکہ اس کے مال پر قبضہ کرے) مگر مہر مقرر کرنے میں انصاف سے کام نہ لے، یعنی اسے اتنا مہر نہ دے جو کوئی دوسرا اسے دے سکتا ہے۔ تو ایسے سرپرستوں کو روک دیا گیا کہ ان سے نکاح کریں الا یہ کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کریں اور انہیں ان کے مرتبے کے مطابق زیادہ مہر دیں ورنہ ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کریں جو انہیں پسند ہوں۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر اس کے بعد لوگوں نے ان یتیم بچیوں کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے، وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تم پر ان کے احکام کتاب اللہ میں پڑھے جاتے ہیں، اس سے مراد وہی پہلی آیت ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى﴾ [سورة النساء: 3] ہے، اس سے مراد وہ یتیم بچی ہے جو اپنے سرپرست کے ہاں پرورش پا رہی ہو جب کہ وہ مال و جمال کے لحاظ سے کم ہو۔ (ان کے طرز عمل کی وجہ سے) انہیں اس یتیم بچی کے ساتھ نکاح کرنے سے بھی روک دیا گیا جس کے مال و جمال میں ان کی دلچسپی تھی، مگر انصاف کے ساتھ کیونکہ وہ (مال و جمال کم ہونے کی صورت میں) ان سے کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشرکة 7 (2494)، والوصایا 21 (2763)، وتفسیر سورة النساء 1 (4576)، والنکاح1 (5064)، 16 (5092)، 19 (5098)، 36 (5128)، 37 (5131)، 43 (5140)، والحیل 8 (6965)، صحیح مسلم/التفسیر 1 (3018)، سنن ابی داود/النکاح 13 (2068) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3349
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ:" فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٍّ وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس (یعنی مہر) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ اوقیہ اور ایک نش ۱؎ کا مہر باندھا جس کے پانچ سو درہم ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3349]
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے بارہ اوقیے پر نکاح کیے اور پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 13 (1426)، سنن ابی داود/النکاح 29 (2105)، سنن ابن ماجہ/النکاح 17 (1886)، (تحفة الأشراف: 17739)، مسند احمد (6/93، 94)، سنن الدارمی/النکاح 18 (2245) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک نش بیس درہم کا ہوتا ہے، یا اس سے ہر چیز کا نصف مراد ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3350
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ الصَّدَاقُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوَاقٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں باحیات تھے اس وقت مہر دس اوقیہ ۱؎ ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3350]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں تشریف فرما تھے، مہر دس اوقیے ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14630)، مسند احمد (2/367) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3351
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِخِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَابْنِ عَوْنٍ، وسلمة بن علقمة، وهشام بن حسان، دخل حديث بعضهم في بعض، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَلَمَةُ: عَنْ ابْنِ سِيرِينَ نُبِّئْتُ , عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ، وَقَالَ الْآخَرُونَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" أَلَا لَا تَغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مَكْرُمَةً وَفِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُغْلِي بِصَدُقَةِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَحَتَّى يَقُولَ: كُلِّفْتُ لَكُمْ عِلْقَ الْقِرْبَةِ وَكُنْتُ غُلَامًا عَرَبِيًّا مُوَلَّدًا، فَلَمْ أَدْرِ مَا عِلْقُ الْقِرْبَةِ، قَالَ: وَأُخْرَى يَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ أَوْ مَاتَ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا أَوْ مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَطْلُبُ التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ".
ابوالعجفاء کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو سن لو عورتوں کے مہروں میں غلو نہ کرو کیونکہ اگر یہ زیادتی دنیا میں عزت کا باعث اور اللہ کے نزدیک پرہیزگاری کا سبب ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حقدار تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اپنی کسی بیوی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ رکھا اور نہ ہی آپ کی کسی بیٹی کا اس سے زیادہ رکھا گیا، آدمی اپنی بیوی کا مہر زیادہ ادا کرتا ہے جس سے اس کے دل میں نفرت و عداوت پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ کہنے لگتا ہے کہ میں تو تمہاری وجہ سے مصیبت میں پھنس گیا۔ ابوالعجفاء کہتے ہیں میں خالص عربی النسل لڑکا نہ تھا اس لیے میں «عرق القربہ» کا محاورہ سمجھ نہ سکا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دوسری بات یہ بتائی کہ جب کوئی شخص تمہاری لڑائیوں میں مارا جاتا ہے یا مر جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں: وہ شہید کی حیثیت سے قتل ہوا یا شہادت کی موت مرا، جب کہ اس کا امکان موجود ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پیچھے یا پہلو میں سونا چاندی لاد رکھا ہے اور مجاہدین کے ساتھ نکلنے سے اس کا مقصود تجارت ہو۔ تو تم ایسا نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے: جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے یا مر جائے تو وہ جنت میں جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3351]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خبردار! عورتوں کے مہر کے مسئلے میں حد سے نہ بڑھو۔ اگر کثیر مہر دنیا میں عزت یا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقویٰ کا سبب ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ لائق تھے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کو بارہ اوقیے سے زیادہ مہر نہیں دیا اور نہ آپ کی کسی بیٹی کو اس سے زیادہ مہر دیا گیا۔ بسا اوقات کوئی شخص مہر زیادہ مقرر کر لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل میں اپنی بیوی سے دشمنی ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ میں نے تمہارے لیے مشکیزے کی رسی کی تکلیف برداشت کی (بڑی مصیبت اٹھائی)۔ ایک راویِ حدیث (ابو العجفاء) نے کہا: میں عربوں میں صرف پیدا ہوا ہوں، خالص عربی نہیں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور ایک (نامناسب) بات تم یہ کہتے ہو کہ جو شخص تمہاری ان جنگوں میں مارا جاتا ہے یا مر جاتا ہے، تم کہتے ہو، فلاں آدمی شہید ہوا یا شہادت کی موت مرا۔ ہو سکتا ہے اس شخص نے اپنے جانور کی پشت یا اس کے پالان اور کاٹھی کو سونے یا چاندی سے لادا ہو اور اس کی نیت تجارت کی ہو، اس لیے تم ایسے نہ کہو بلکہ تم اس طرح کہو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جائے یا فوت ہو جائے، وہ جنت میں جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 29 (2106) مختصرا، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114) مختصراً، سنن ابن ماجہ/النکاح 17 (1887) مختصراً، مسند احمد (1/40، 41، 48، سنن الدارمی/النکاح 18 (2246) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3352
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، زَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ، وَأَمْهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَجَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ، وَبَعَثَ بِهَا مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ وَلَمْ يَبْعَثْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مَهْرُ نِسَائِهِ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس وقت نکاح کیا جب وہ سر زمین حبشہ میں تھیں، ان کی شادی نجاشی بادشاہ نے کرائی اور ان کا مہر چار ہزار (درہم) مقرر کیا۔ اور اپنے پاس سے تیار کر کے انہیں شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس (حبشہ میں) کوئی چیز نہ بھیجی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسری) بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3352]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جبکہ وہ حبشہ میں تھیں۔ ان کا نکاح نجاشی نے کیا تھا اور انہوں نے اپنے پاس سے چار ہزار درہم مہر دیا تھا اور انہیں رخصتی کا سامان (ضرورت) بھی اپنے پاس سے دیا اور انہیں حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (حبشہ میں) کوئی چیز نہیں بھیجی تھی۔ آپ کی دوسری عورتوں کا مہر چار سو درہم تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح20 (2086)، 29 (2107)، (تحفة الأشراف: 15854)، مسند احمد (6/427) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2086) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 346

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ: التَّزْوِيجِ عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ
باب: کھجور کی گٹھلی برابر سونے کے عوض شادی کرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3353
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ الصُّفْرَةِ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا؟" قَالَ: زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان پر زردی کا اثر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے اسے؟ انہوں نے کہا: ایک «نواۃ» (کھجور کی گٹھلی) برابر سونا ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ ۲؎ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3353]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو ان پر «صُفْرَة» (زرد رنگ) کے نشانات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے کیا مہر دیا؟“ انہوں نے کہا: سونے کا ایک «نَوَاة» (گٹھلی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 1 (2049)، ومناقب الأنصار 3 (3781)، 50 والنکاح 7 (5072)، 49 (5138)، 54 (5153)، 56 (5155)، 68 (5167)، الأدب 67 (6082)، الدعوات 53 (6386)، (تحفة الأشراف: 736)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 13 (1427)، سنن ابی داود/النکاح 30 (2190)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1907)، مسند احمد (3/165، 190، 190، 205، 271)، سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2108)، النکاح 22 (2250) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اہل حساب کی اصطلاح میں «نواۃ» پانچ درہم کے وزن کو کہتے ہیں۔ ۲؎: یہ بات آپ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی الله عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3354
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا , يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ:" كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟" قَالَ: زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اس وقت میرے چہرے سے شادی کی بشاشت و خوشی ظاہر تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: اسے تم نے کتنا مہر دیا ہے؟ میں نے کہا «نواۃ» (کھجور کی گٹھلی) کے وزن برابر سونا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3354]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھ پر شادی کی خوشی کے آثار تھے۔ (آپ نے پوچھا تو) میں نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہر کتنا دیا؟“ میں نے کہا: سونے کی «نَوَاةٍ» ”گٹھلی“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 13 (1427)، (تحفة الأشراف: 9716) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ، أَوْ حِبَاءٍ، أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطَاهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ" , اللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت سے نکاح مہر پر کیا گیا ہو یا (مہر کے علاوہ) اسے عطیہ دیا گیا ہو یا نکاح سے پہلے عورت کو کسی چیز کے دینے کا وعدہ کیا گیا ہو تو یہ سب چیزیں عورت کا حق ہوں گی (اور وہ پائے گی)۔ اور جو چیزیں نکاح منعقد ہو جانے کے بعد ہوں گی تو وہ جسے دے گا چیز اس کی ہو گی۔ اور آدمی اپنی بیٹی اور بہن کے سبب عزت و اکرام کا مستحق ہے“، (حدیث کے) الفاظ (راوی حدیث) عبداللہ بن محمد بن تمیم کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3355]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کے ساتھ جس مہر پر نکاح کیا جائے یا جو عطیہ یا وعدہ نکاح سے پہلے دیا جائے، وہ سب کچھ عورت کا ہے۔ البتہ عقد نکاح کے بعد ملنے والا تحفہ اسی کا ہو گا جسے دیا جائے گا۔ اور وہ (بہترین) چیز جس کی وجہ سے کسی کی عزت کی جائے، اس کی بیٹی یا بہن ہے (جو وہ کسی کے نکاح میں دے)۔“ یہ الفاظ عبداللہ کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 36 (2129)، سنن ابن ماجہ/النکاح 41 (1955)، (تحفة الأشراف: 8745)، مسند احمد (2/182) حسن) (البانی نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، حالاں کہ نسائی کی ایک سند میں ابن جریج کی ’’تحدیث‘‘ موجود ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ: إِبَاحَةِ التَّزَوُّجِ بِغَيْرِ صَدَاقٍ
باب: بغیر مہر کے نکاح کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ , قَالَا: أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، فَتُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا أَثَرًا , قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَا نَجِدُ فِيهَا، يَعْنِي أَثَرًا، قَالَ: أَقُولُ بِرَأْيِي , فَإِنْ كَانَ صَوَابًا، فَمِنَ اللَّهِ: لَهَا كَمَهْرِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَقَامَ رَجُلٌ مَنْ أَشْجَعَ، فَقَالَ: فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ تَزَوَّجَتْ رَجُلًا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا،" فَقَضَى لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ صَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ"، فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ يَدَيْهِ، وَكَبَّرَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْأَسْوَدُ غَيْرَ زَائِدَةَ.
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: عبداللہ! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اسے مہر مثل دیا جائے گا ۱؎، نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث میں اس کا حق و حصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ (یہ سن کر) اشجع (قبیلے کا) ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا، اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس (خلوت میں) جانے سے پہلے مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاندان کی عورتوں کی مہر کے مطابق اس کی مہر کا فیصلہ کیا اور (بتایا کہ) اسے میراث بھی ملے گی اور عدت بھی گزارے گی۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے (اور خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ صحیح ہوا) اور اللہ اکبر کہا (یعنی اللہ کی بڑائی بیان کی)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اسود کا ذکر زائدہ کے سوا کسی نے نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3356]
حضرت علقمہ اور اسود رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا مگر مہر مقرر نہ کیا، نیز وہ بیوی کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں سے پوچھو کیا اس بارے میں کوئی فرمانِ رسول موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! ہم اس بارے میں کوئی فرمان نہیں پاتے۔ انہوں نے فرمایا: (اب) میں اپنی رائے سے بات کرتا ہوں، اگر میری بات درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہو گی، (میری رائے یہ ہے کہ) اس عورت کو اس جیسی دوسری عورتوں کے مطابق مہر ملے گا (یعنی مہر مثل) نہ کم نہ زیادہ، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے عدتِ وفات بھی گزارنی ہو گی۔ اتنے میں اشجع قبیلے کا آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: ہمارے قبیلے کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا، اس عورت نے ایک آدمی سے نکاح کیا تھا اور وہ اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: ”عورت کو اس جیسی دوسری عورتوں کے مطابق مہر ملے گا، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (بطور تشکر و خوشی) اپنے ہاتھ اٹھائے اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ زائدہ کے علاوہ کسی اور راوی نے اس حدیث میں اسود کا ذکر کیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 32 (2114، 2115) مختصراً، سنن الترمذی/النکاح 43 (1145)، سنن ابن ماجہ/النکاح 18 (1891)، (تحفة الأشراف: 11461)، مسند احمد (3/480، 4/280، 479)، سنن الدارمی/النکاح 47 (2292)، ویأتی عند المؤلف فیما بعد: 3357-3360 و فی الطلاق57 (برقم3554) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے کنبے اور قبیلے کی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے اسی اعتبار سے اس کا مہر بھی مقرر کر کے دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3357
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ قَرِيبًا مِنْ شَهْرٍ لَا يُفْتِيهِمْ، ثُمَّ قَالَ: أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَشَهِدَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ".
علقمہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک ایسی عورت کا معاملہ پیش کیا گیا جس سے ایک شخص نے شادی کی اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا، اور اس کی مہر بھی متعین نہ کی تھی (تو اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہو گا؟) لوگ ان کے پاس اس مسئلہ کو پوچھنے کے لیے تقریباً مہینہ بھر سے آتے جاتے رہے، مگر وہ انہیں فتویٰ نہ دیتے۔ پھر ایک دن فرمایا: میری سمجھ میں آتا ہے کہ اس عورت کا مہر اسی کے گھر و خاندان کی عورتوں جیسا ہو گا، نہ کم ہو گا، اور نہ ہی زیادہ، اسے میراث بھی ملے گی اور اسے عدت میں بھی بیٹھنا ہو گا، (یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3357]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس سے آدمی نے نکاح کیا اور وہ مر گیا، ابھی تک نہ تو اس نے مہر مقرر کیا تھا اور نہ اس سے جماع ہی کیا تھا۔ وہ لوگ تقریباً ایک ماہ تک آتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہیں کوئی فتویٰ نہیں دے رہے تھے۔ آخر کار فرمایا: میرا خیال ہے کہ اسے اس جیسی عورتوں کے مطابق مہر ملے گا، نہ کم نہ زیادہ، اسے (خاوند سے) وراثت بھی ملے گی اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ تو حضرت معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں آپ کے فیصلے جیسا فیصلہ فرمایا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انطر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں