سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. بَابُ: الشِّغَارِ
باب: نکاحِ شغار (یعنی بیٹی یا بہن کے مہر کے بدلے دوسرے کی بہن یا بیٹی سے شادی کرنے کی ممانعت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3338
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , عَنْ الْفَزَارِيِّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ فَاحِشٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ بِشْرٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ہے، اور نہ «شغار» ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی فرماتے ہیں: اس روایت میں صریح غلطی موجود ہے اور بشر کی روایت صحیح ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3338]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں جلب، جنب اور شغار نہیں ہے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ شدید غلطی ہے، صحیح روایت بشر کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5660)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح 16 (1885)، مسند احمد (3/165) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں حمید راوی انس رضی الله عنہ سے روایت کرتے، اس اعتبار سے حمید تابعی بن جاتے ہیں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے، بشر کی روایت میں یہی حمید اپنے استاد حسن (بصریٰ) سے روایت کرتے ہیں اور وہ (حسن بصری) عمران بن حصین صحابی سے۔ اس اعتبار سے حمید تبع تابعی ٹھہرتے ہیں۔ امام نسائی کہتے ہیں: یہی صحیح ہے کیونکہ حمید تابعی نہیں بلکہ تبع تابعی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
61. بَابُ: تَفْسِيرِ الشِّغَارِ
باب: شغار کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3339
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ مَالِكٌ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الشِّغَارِ"، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے، اور شغار یہ ہے کہ آدمی دوسرے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس شخص کے ساتھ کرے۔ اور دونوں ہی بیٹیوں کا کوئی مہر مقرر نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3339]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «نِكَاحُ الشِّغَارِ» ”نکاحِ شغار“ سے منع فرمایا ہے اور نکاحِ شغار یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دے اس شرط پر کہ وہ بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان دونوں نکاحوں میں کوئی مہر نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 28 (5112)، صحیح مسلم/النکاح 7 (1415)، سنن ابی داود/النکاح 15 (2074)، سنن الترمذی/النکاح 30 (1124)، (تحفة الأشراف: 83230)، موطا امام مالک/النکاح 11 (24)، مسند احمد (2/7، 62)، سنن الدارمی/النکاح 9 (2226) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3340
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ" , قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَالشِّغَارُ كَانَ الرَّجُلُ يُزَوِّجُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ أُخْتَهُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے عبیداللہ (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں: شغار یہ تھا کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرتا تھا کہ دوسرا اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کر دے (بغیر کسی مہر کے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3340]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الشِّغَارِ» ”شغار“ سے منع فرمایا۔ راوی عبیداللہ نے کہا: شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح دے اس شرط پر کہ دوسرا اسے اپنی بہن کا نکاح دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 7 (1416)، سنن ابن ماجہ/النکاح 16 (1884)، (تحفة الأشراف: 13796)، مسند احمد (2/286، 439، 496) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
62. بَابُ: التَّزْوِيجِ عَلَى سُوَرٍ مِنَ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کی کچھ سورتیں سکھا دینے کے عوض شادی کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3341
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لِأَهَبَ نَفْسِي لَكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا، جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا قَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ"؟ فَقَالَ: لَا، وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، فَقَالَ:" انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" فَذَهَبَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي , قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ؟ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ" فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ، ثُمَّ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ، فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ:" مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ،" قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا فَقَالَ:" هَلْ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آئی ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دوں، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور نیچے سے اوپر تک دھیان سے دیکھا۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکا لیا (غور فرمانے لگے کہ کیا کریں)، عورت نے جب دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق (بروقت) کچھ نہیں فیصلہ فرمایا تو وہ (انتظار میں) بیٹھ گئی، اتنے میں آپ کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اپنے لیے اس عورت کی ضرورت نہیں پاتے تو آپ اس عورت سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس (بطور مہر دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا نہیں، قسم اللہ کی! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دیکھو (تلاش کرو) لوہے کی انگوٹھی ۱؎ ہی مل جائے تو لے کر آؤ“، تو وہ آدمی (تلاش میں) نکلا، پھر لوٹ کر آیا اور کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! کوئی چیز نہیں ملی حتیٰ کہ لوہے کہ انگوٹھی بھی نہیں ملی، میرے پاس بس میرا یہی تہبند ہے، میں آدھی تہبند اس کو دے سکتا ہوں، سہل (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: اس کے پاس چادر نہیں تھی)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے تہبند سے کیا کر سکتے ہو؟ تم پہنو گے تو وہ نہیں پہن سکتی اور وہ پہنے گی تو تم نہیں پہن سکتے“، وہ آدمی بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا، پھر (مایوس ہو کر) اٹھ کر چلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دے کر بلا لیا، جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں فلاں سورت، اس نے گن کر بتایا۔ آپ نے کہا: ”کیا تم اسے زبانی (روانی سے) پڑھ سکتے ہو“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”(جاؤ) جو تمہیں قرآن یاد ہے اسے یاد کرا دو اس کے عوض میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا“ (یعنی میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3341]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے نکاح کی پیش کش لے کر آئی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، نظر کو اونچا نیچا کیا اور پھر سر جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کی بابت کوئی فیصلہ نہیں سنایا تو وہ بیٹھ گئی۔ آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس (خاتون) کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس (مہر دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا تلاش کر، اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے، البتہ میرے پاس یہ تہبند ہے، اس کا نصف اسے بطور مہر دیتا ہوں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے پاس اوپر والی چادر بھی نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عورت پر اس (تہبند) سے کچھ بھی نہ ہوگا اور اگر وہ پہنے گی تو تجھ پر کچھ نہ ہوگا۔“ تب وہ آدمی بیٹھ گیا، حتیٰ کہ کافی دیر تک بیٹھا رہا، پھر وہ اٹھ کر چل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاتا ہوا دیکھ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت حکم دیا اور اسے واپس بلایا گیا۔ جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے، اس نے کئی سورتیں شمار کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ان سورتوں کو زبانی (بغیر دیکھے) پڑھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے قرآن یاد ہے، میں نے اس کے عوض اس عورت کو تیرے قبضے میں (نکاح) میں دے دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 22 (5030)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1425)، (تحفة الأشراف: 4778) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
63. بَابُ: التَّزْوِيجِ عَلَى الإِسْلاَمِ
باب: اسلام قبول کر لینے کی شرط پر شادی کر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3342
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَكَانَ صِدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامَ أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ، فَخَطَبَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فَإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ، فَأَسْلَمَ فَكَانَ صِدَاقَ مَا بَيْنَهُمَا".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، تو ان کے درمیان مہر (ابوطلحہ کا) اسلام قبول کر لینا طے پایا تھا، ام سلیم ابوطلحہ سے پہلے ایمان لائیں، ابوطلحہ نے انہیں شادی کا پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: میں اسلام لے آئی ہوں (میں غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتی)، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو میں آپ سے شادی کر سکتی ہوں، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، اور یہی اسلام ان دونوں کے درمیان مہر قرار پایا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3342]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (میری والدہ) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان دونوں کے درمیان (حضرت ابو طلحہ کا) اسلام لانا ہی حق مہر قرار پایا۔ (دراصل) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہو گئی تھیں۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا تو وہ کہنے لگی: میں تو مسلمان ہو چکی ہوں، اگر تم بھی مسلمان ہو جاؤ تو میں تم سے نکاح کر لوں گی۔ تب وہ مسلمان ہو گئے۔ چنانچہ وہی (ان کا مسلمان ہونا ہی) ان دونوں کے درمیان حق مہر مقرر ہوا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 968) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3343
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، فَإِنْ تُسْلِمْ، فَذَاكَ مَهْرِي وَمَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَأَسْلَمَ فَكَانَ ذَلِكَ مَهْرَهَا، قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا سَمِعْتُ بِامْرَأَةٍ قَطُّ كَانَتْ أَكْرَمَ مَهْرًا مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ الْإِسْلَامَ فَدَخَلَ بِهَا فَوَلَدَتْ لَهُ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (ان کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا تو انہوں نے انہیں جواب دیا: قسم اللہ کی، ابوطلحہ! آپ جیسوں کا پیغام لوٹایا نہیں جا سکتا، لیکن آپ ایک کافر شخص ہیں اور میں ایک مسلمان عورت ہوں، میرے لیے حلال نہیں کہ میں آپ سے شادی کروں، لیکن اگر آپ اسلام قبول کر لیں، تو یہی آپ کا اسلام قبول کر لینا ہی میرا مہر ہو گا اس کے سوا مجھے کچھ اور نہیں چاہیئے ۱؎ تو وہ اسلام لے آئے اور یہی چیز ان کی مہر قرار پائی۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے کسی عورت کے متعلق کبھی نہیں سنا جس کی مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مہر اسلام سے بڑھ کر اور باعزت رہی ہو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے صحبت و قربت اختیار کی اور انہوں نے ان سے بچے جنے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3343]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا: اے ابو طلحہ! اللہ کی قسم! تیرے جیسے شخص کا پیغام رد نہیں کیا جا سکتا لیکن تو کافر ہے اور میں اسلام لا چکی ہوں۔ میرے لیے تجھ سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر تو مسلمان ہو جائے تو یہی میرا مہر ہو گا اور میں تجھ سے اس کے علاوہ کوئی مہر نہ مانگوں گی۔ وہ مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام ہی حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مہر قرار پایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ثابت رحمہ اللہ نے کہا: میں نے کسی اور عورت کے بارے میں نہیں سنا کہ اس کا مہر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے مہرِ اسلام سے بہتر ہو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ زندگی گزار دی اور ان سے ان کے بچے بھی ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسلام لانے کے بعد مہر معجل کا مطالبہ نہیں کروں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
64. بَابُ: التَّزْوِيجِ عَلَى الْعِتْقِ
باب: غلامی سے آزادی کے بدلے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3344
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ يعني ابن صهيب , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَهُ صَدَاقَهَا".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3344]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد فرمایا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ صلاة الخوف 6 (947) مطولا، المغازي 38 (4200)، النکاح 13 (5086)، 68 (5169)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، سنن ابی داود/النکاح 6 (2054)، سنن الترمذی/النکاح 24 (1115)، سنن ابن ماجہ/النکاح 42 (1957)، (تحفة الأشراف: 291، 1067)، مسند احمد (3/99، 138، 165، 170، 181، 186، 203، 239، 242، 280، 282، 291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3345
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ،" أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا مَهْرَهَا" , وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر قید ہو کر آنے والی یہودی سردار حي بن اخطب کی بیٹی) صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، حدیث کے الفاظ راوی حدیث محمد کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3345]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد (فرما کر ان سے نکاح) فرمایا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، یہ لفظ محمد (بن رافع) کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 68 (5169)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، (تحفة الأشراف: 912)، مسند احمد (3/181، 280)، سنن الدارمی/النکاح 45 (2288) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
65. بَابُ: عِتْقِ الرَّجُلِ جَارِيَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3346
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ، فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا وَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، وَعَبْدٌ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَمُؤْمِنُ أَهْلِ الْكِتَابِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر و ثواب ملے گا ۱؎، ایک وہ آدمی جس کے پاس لونڈی تھی اس نے اسے ادب و تمیز سکھائی اور بہترین طور و طریقہ بتایا، اسے تعلیم دی اور اچھی تعلیم دی پھر اسے آزاد کر دیا، اور اس سے شادی کر لی۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے آقاؤں کا صحیح صحیح حق الخدمت ادا کرے، اور تیسرا وہ جو اہل کتاب میں سے ہو اور ایمان لے آئے“ (ایسے لوگوں کو دوگنا ثواب ملے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3346]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص کو دگنا اجر عطا فرمایا جائے گا: ایک وہ آدمی جس کے پاس اپنی لونڈی ہو، وہ اسے علم و ادب سکھائے اور بہترین علم و ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے۔ دوسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق (عبادات) بھی ادا کرے اور اپنے مالکوں کے حقوق بھی پورے کرے۔ تیسرا وہ جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 31 (97)، العتق 14 (2544)، 16 (2547)، الجہاد 145 (3011)، أحادیث الأنبیاء 47 (3446)، والنکاح 13 (5083)، صحیح مسلم/الإیمان 70 (154)، سنن ابی داود/النکاح 6 (2053)، سنن الترمذی/النکاح 25 (1116)، سنن ابن ماجہ/النکاح 42 (1956)، مسند احمد 4/395، 398، 402، 405، 414، 415)، سنن الدارمی/النکاح 46 (2290) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کی زندگی کے ہر عمل کا انہیں دوہرا اجر ملے گا یا ان حالات میں جو بھی عمل ان سے صادر ہو گا اس کا انہیں دوہرا اجر ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3347
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي زُبَيْدٍ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ جَارِيَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی، اسے دوہرا اجر ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3347]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرے، اسے دوہرا ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 4 (2544)، صحیح مسلم/النکاح 14 (154)، سنن ابی داود/النکاح 6 (2053)، (تحفة الأشراف: 9108) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه