🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. بَابُ: تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ
باب: متعہ کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3368
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ".
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے روک دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3368]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ نکاحِ متعہ اور انسانوں کے پاس رہنے والے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3367 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3369
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالُوا: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ , وَالْحَسَنَ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَخْبَرَاهُ , أَنَّ أَبَاهُمَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُمَا , أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ"، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ مِنْ كِتَابِهِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے سے روک دیا ہے، ابن المثنی کہتے ہیں: حنین کے دن منع کیا ہے اور کہتے ہیں: عبدالوہاب نے اپنی کتاب سے ایسا ہی مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3369]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «يَوْمَ خَيْبَرَ» ”خیبر والے دن“ عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرمایا۔ (راوئ حدیث) ابن مثنیٰ نے (یوم خیبر کی بجائے) «يَوْمَ حُنَيْنٍ» ”یوم حنین“ کہا (یعنی حنین کے دن منع فرمایا)۔ اور ابن مثنیٰ نے کہا کہ (استاد) عبدالوہاب نے ہمیں اپنی کتاب سے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3367 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3370
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ: مَا تُعْطِينِي؟ فَقُلْتُ: رِدَائِي، وَقَالَ صَاحِبِي: رِدَائِي، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا، وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي، فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَتَمَتَّعُ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا".
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص (دونوں) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، (لیکن) میں اس سے زیادہ جوان (تگڑا) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی (اس کی طرف لپکتی) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے (مجھ سے) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3370]
حضرت سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کی اجازت دی تو میں اور ایک دوسرا آدمی قبیلہ بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے اور اسے متعہ کی پیش کش کی۔ وہ کہنے لگی: مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: اپنی چادر دوں گا۔ میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی لیکن میں اپنے ساتھی سے زیادہ جوان تھا۔ جب وہ میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے اچھا لگتا اور جب وہ میرے جسم کو دیکھتی تو میں اسے اچھا لگتا۔ بالآخر وہ کہنے لگی: تو اور تیری چادر میرے لیے ٹھیک ہے۔ میں اس کے ساتھ تین دن رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو جس سے وہ متعہ کر رہا ہے تو اسے چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 3 (1406)، سنن ابی داود/النکاح 14 (2072) مختصراً، سنن ابن ماجہ/النکاح 44 (1962) مطولا، (تحفة الأشراف: 3809)، مسند احمد (3/404، 405)، سنن الدارمی/النکاح 16 (2242) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. بَابُ: إِعْلاَنِ النِّكَاحِ بِالصَّوْتِ وَضَرْبِ الدُّفِّ
باب: دف بجا کر اور بلند آواز سے نکاح کا اعلان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3371
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ".
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3371]
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام نکاح کے درمیان فرق دف بجانے اور اعلان نکاح کرنے کا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 6 (1088)، سنن ابن ماجہ/النکاح 20 (1896)، (تحفة الأشراف: 11221)، مسند احمد (3/418 و4/259) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی زنا چوری چھپے ہوتا ہے اور نکاح لوگوں کو بتا کر اور اعلان کر کے کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3372
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ".
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال و حرام (نکاح) میں تمیز پیدا کرنے والی چیز آواز ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3372]
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام نکاح کے درمیان فرق (اعلان نکاح کی) آواز سے ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3371 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نکاح لوگوں کو بتا کر اور اعلان کر کے کیا جاتا ہے اور حرام (زنا) چھپا کر اور چوری کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ جان نہ پائیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ: كَيْفَ يُدْعَى لِلرَّجُلِ إِذَا تَزَوَّجَ
باب: جب آدمی نکاح کر لے تو اسے کس طرح کی دعا دی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3373
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جَثْمٍ، فَقِيلَ لَهُ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، قَالَ: قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، وَبَارَكَ لَكُمْ".
حسن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب نے بنو جثم کی ایک عورت سے شادی کی تو انہیں «بالرفاء والبنين» میل ملاپ سے رہنے اور صاحب اولاد ہونے کی دعا دی گئی۔ تو انہوں نے کہا: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) کہا ہے اسی طرح تم بھی کہو، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) «بارك اللہ فيكم وبارك لكم» ”اللہ تعالیٰ تمہاری ہر چیز میں برکت دے اور تمہیں برکت والا کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3373]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بنو جشم کی ایک عورت سے شادی کی تو انہیں مبارک باد یوں دی گئی: ”تم محبت و پیار سے رہو اور تمہیں بیٹے ملیں۔“ حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی بجائے اس طرح کہو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «بَارَكَ اللّٰهُ فِيكُمْ وَبَارَكَ لَكُمْ» ”اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے لیے برکت فرمائے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/النکاح 23 (1906)، (تحفة الأشراف: 10014)، مسند احمد (1/201 و3/451)، سنن الدارمی/النکاح 6 (2219) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1906) الحسن البصري مدلس وعنعن. وللحديث شواهد ضعيف،ة. وحديث أبى داود (الأصل: 2130) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 346

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ: دُعَاءِ مَنْ لَمْ يَشْهَدِ التَّزْوِيجَ
باب: شادی کے وقت غیر موجود شخص کی دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3374
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا دے کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: «بارك اللہ لك» ”اللہ تمہیں اس نکاح میں برکت دے“ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3374]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر «صُفْرَة» (خوشبو) کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے سونے کا سکہ «نَوَاة» مہر مقرر کر کے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تیرے لیے (اس نکاح میں) برکت فرمائے۔ ولیمہ ضرور کرنا، چاہے ایک بکری کے ساتھ ہی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 56 (5155)، الدعوات 53 (6386)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1427)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1907)، (تحفة الأشراف: 288)، مسند احمد (3/226) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الصُّفْرَةِ عِنْدَ التَّزْوِيجِ
باب: شادی میں زرد (پیلے) رنگ کے استعمال کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3375
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ؟" قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، قَالَ: وَمَا أَصْدَقْتَ؟ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے (یہ اسی کا اثر و نشان ہے)۔ آپ نے پوچھا؟ مہر کتنا دیا؟ کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3375]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے تو ان (کے جسم یا کپڑوں) پر زعفران کے نشانات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“ انہوں نے کہا: میں نے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مہر دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: سونے کا سکہ «نَوَاةٍ» ”نواۃ“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ بھی کرنا اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 30 (2109)، (تحفة الأشراف: 339) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3376
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، كَأَنَّهُ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ؟" قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا اثر دیکھا (مجھ سے مراد عبدالرحمٰن بن عوف ہیں) پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے (یہ اسی کا نشان ہے)، آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3376]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر صفرہ (زرد خوشبو) کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرنا، چاہے ایک بکری ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 798)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3390 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ: تَحِلَّةِ الْخَلْوَةِ
باب: پہلی ملاقات میں بیوی کو خلوت کا تحفہ (عطیہ) دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3377
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنِ بِي، قَالَ:" أَعْطِهَا شَيْئًا، قُلْتُ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟ قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے کچھ (تحفہ) دو“، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا: ”تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ میں نے کہا: یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3377]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو (کچھ دنوں کے بعد) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فاطمہ کی میرے گھر رخصتی فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ دو۔“ میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری حطمی زرہ کدھر گئی؟“ میں نے کہا: وہ تو میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10199) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں