🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. بَابُ: إِبَاحَةِ التَّزَوُّجِ بِغَيْرِ صَدَاقٍ
باب: بغیر مہر کے نکاح کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3358
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، قَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ , وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ , وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَالَ مَعِقْلُ بْنُ سِنَانٍ: فقد سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِهِ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ،
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے ایک عورت سے شادی کی پھر مر گیا نہ اس سے خلوت کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔ تو اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: اس عورت کا مہر (مہر مثل) ہو گا۔ اسے عدت گزارنی ہو گی اور اسے میراث ملے گی۔ (یہ سن کر) معقل بن سنان نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ کرتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3358]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں، جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور وہ فوت ہو گیا جب کہ اس نے اس سے نہ جماع کیا تھا اور نہ اس کا مہر ہی مقرر کیا تھا، فرمایا: ”عورت کو مہرِ مثل ملے گا، اسے عدت گزارنی پڑے گی اور اسے وراثت بھی ملے گی۔“ حضرت معقل بن سنان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایسا ہی فیصلہ فرماتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3359
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , مِثْلَهُ.
علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3359]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی واقعہ بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3360
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَتَاهُ قَوْمٌ , فَقَالُوا: إِنَّ رَجُلًا مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَةً، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَجْمَعْهَا إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا سُئِلْتُ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ فَأْتُوا غَيْرِي، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا، ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ وَأَنْتَ مِنْ جِلَّةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْبَلَدِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَكَ؟ قَالَ: سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا، فَمِنَ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بُرَآءُ،" أُرَى أَنْ أَجْعَلَ لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَ: وَذَلِكَ بِسَمْعِ أُنَاسٍ مَنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا، فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ" , قَالَ: فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ فَرْحَةً يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِإِسْلَامِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی، نہ اس کا مہر مقرر کیا، نہ اس سے خلوت کی اور مر گیا (اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟)، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا ہے (یعنی آپ کے انتقال کے بعد) اس سے زیادہ ٹیڑھا اور مشکل سوال مجھ سے نہیں کیا گیا ہے۔ تو تم لوگ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ (اور اس سے فتویٰ پوچھ لو)، لیکن وہ لوگ اس مسئلہ کے سلسلے میں مہینہ بھر ان کا پیچھا کرتے رہے بالآخر انہوں نے ان سے کہا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو پھر کس سے پوچھیں! آپ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، آپ کے سوا ہم کسی اور کو نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: (جب ایسی بات ہے) تو میں اپنی عقل و رائے سے اس بارے میں بتاتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو سمجھو یہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہو تو سمجھو کہ وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں، میں اس کے لیے مہر مثل کا فتویٰ دیتا ہوں نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور وہ چار مہینہ دس دن کی عدت گزارے گی۔ یہ مسئلہ اشجع قبیلہ کے چند لوگوں نے سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ویسا ہی فیصلہ کیا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری قوم کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا تھا۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو جانے کے باعث) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے وقت کی خوشی کے سوا اس سے زیادہ خوش کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3360]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ہم میں سے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، ابھی اس نے مہر مقرر نہ کیا تھا اور نہ اس سے صحبت ہی کی تھی کہ وہ فوت ہو گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، مجھ سے اس سے مشکل مسئلہ نہیں پوچھا گیا۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ وہ لوگ ایک ماہ تک اس کی بابت آپ کے پاس آتے رہے۔ آخر وہ کہنے لگے: اگر ہم آپ سے نہ پوچھیں تو اور کس سے پوچھیں؟ اس شہر میں آپ ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کے علاوہ ہمیں کوئی اور شخص نہیں ملتا۔ آپ فرمانے لگے: میں اس کے متعلق انتہائی سوچ بچار سے فتویٰ دیتا ہوں۔ اگر صحیح اور درست ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور اگر وہ غلط ہوا تو اس میں کوتاہی میری ہوگی اور خرابی شیطان کی طرف سے، اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس سے بری ہوں گے۔ میرا خیال یہ ہے کہ میں اس کے لیے اس جیسی عورتوں کے مطابق مہر مقرر کروں، نہ کم نہ زیادہ، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے چار ماہ دس دن عدت بھی گزارنی ہو گی۔ اشجع قبیلے کے کچھ لوگ بھی یہ فتویٰ سن رہے تھے۔ انہوں نے اٹھ کر گواہی دی کہ بلاشبہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے متعلق کیا تھا۔ ہمارے دیکھنے میں نہیں آیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسلام کے علاوہ کسی اور بات پر اتنے خوش ہوئے ہوں جتنے اس دن خوش ہوئے (کہ میرا فتویٰ حدیثِ رسول کے مطابق ہو گیا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ: هِبَةِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ بِغَيْرِ صَدَاقٍ
باب: عورت کا اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے بغیر مہر کے ہبہ کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3361
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ" قَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا، قَالَ:" الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ" قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہنے لگی: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے (یہ کہہ کر) وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص اٹھا اور آپ سے عرض کیا (اللہ کے رسول!) اگر آپ کو اسے رکھنے کی ضرورت نہ ہو تو آپ میری شادی اس سے کرا دیجئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس (بطور مہر دینے کے لیے) کچھ ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”جاؤ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو (پاؤ تو اسے لے آؤ)، اس نے (جا کر) ڈھونڈا، اسے کچھ بھی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تمہارے پاس قرآن کا بھی کچھ علم ہے؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، اس نے ان سورتوں کا نام لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جاؤ) میں نے تمہارا نکاح اس عورت کے ساتھ اس قرآن کے عوض کر دیا جو تمہیں یاد ہے“ (تم اسے قرآن پڑھا دو اور یاد کرا دو)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3361]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک عورت آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کرتی ہوں۔ وہ کافی دیر کھڑی رہی۔ آخر ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کردیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس (مہر دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا، تلاش کر اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔“ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن مجید کا کچھ حصہ یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ اس نے چند سورتوں کا تذکرہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس قرآن مجید (کی تعلیم) کے عوض جو تمہیں یاد ہے، تیرا اس سے نکاح کر دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 9 (2310)، النکاح 40 (5135)، سنن ابی داود/النکاح 31 (2111)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، (تحفة الأشراف: 4742)، موطا امام مالک/النکاح 3 (8)، مسند احمد (5/336) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. بَابُ: إِحْلاَلِ الْفَرْجِ
باب: شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3362
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، قَالَ:" إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ".
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے (آدمی کو) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس (کی بیوی) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3362]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا تھا، فرمایا: ”اگر اس (کی بیوی) نے اپنی لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے لونڈی کو اس کے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے رجم کر دوں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 28 (4458)، سنن الترمذی/الحدود 21 (1452)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2551)، (تحفة الأشراف: 11613)، مسند احمد (4/272، 273، 275، 276، 277)، سنن الدارمی/الحدود 20 (2375) (ضعیف) (اس کے راوی ”حبیب بن سالم‘‘ میں بہت کلام ہے، نیز خطابی کے بقول: نعمان رضی الله عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بغیر جائز صورت کے کسی کے لیے کسی کی شرمگاہ حلال نہیں ہوتی، اس لیے بطور تأدیب اسے سو کوڑے لگیں گے۔ ۲؎: اس لیے کہ اس نے شادی شدہ ہوتے ہوئے جرم زنا کا ارتکاب کیا۔ اکثر اہل علم کا عمل اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی بیوی کی لونڈی سے اگر جماع کرے تو اس پر حد نہیں پڑے گی۔ ان کا خیال ہے کہ نعمان بن بشیر کو اس مسئلہ میں دھوکا ہو گیا ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَيُنْبَزُ قُرْقُورًا، أَنَّهُ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَ:" لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ، فَكَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجُلِدَ مِائَةً"، قَالَ قَتَادَةُ: فَكَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا.
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے (برے لقب) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت (زنا) کر بیٹھا، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو (تعزیراً) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا۔ (پوچھنے پر پتہ لگا کہ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو (خط) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3363]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی جس کا نام عبدالرحمن بن حنین اور لقب قرقور تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا۔ اس شخص کو (گورنر مکہ) حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ کروں گا کہ ”اگر اس (تیری بیوی) نے اس لونڈی کو تیرے لیے حلال کیا تھا تو تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کر دوں گا۔“ (تحقیق سے پتہ چلا کہ) اس کی بیوی نے اس لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا ہوا تھا، اس لیے کوڑے مارے گئے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حبیب بن سالم رحمہ اللہ کو خط لکھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث لکھ کر بھیجی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: «قرقور» لمبی کشتی کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3364
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ:" إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَأَجْلِدْهُ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَأَرْجُمْهُ".
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا فرمایا: ”اگر اس کی بیوی نے اسے اس کی اجازت دے دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اس نے اس کے لیے اسے حلال نہ کیا ہو گا تو میں اسے (یعنی شوہر کو) سنگسار کر دوں گا“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3364]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا تھا، فرمایا: ”اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے رجم کروں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3362 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3365
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، قَالَ:" قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا".
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا (اس طرح) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر (مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس (مرد) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3365]
حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کیا تھا، فیصلہ فرمایا: ”اگر اس نے اس سے زبردستی کی ہے تو وہ لونڈی (اس کے مال سے) آزاد ہو جائے گی اور اسے اس کی مالکہ کو اس جیسی ایک اور لونڈی دینی ہو گی، اور اگر لونڈی کی رضا و رغبت سے جماع کیا ہے تو وہ لونڈی اس کی بن جائے گی، البتہ اس مرد کو اس جیسی ایک اور لونڈی بیوی کو دینی ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 28 (4460)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2552) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4559)، مسند احمد (3/476 و5/6) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3366
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ: أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةً لِامْرَأَتِهِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ، وَعَلَيْهِ الشَّرْوَى لِسَيِّدَتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لِسَيِّدَتِهَا وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ".
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا، یہ قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر (زبردستی زنا) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو گی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہو گی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے (اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ (یعنی بیوی) ہی کی رہے گی اور اس (شوہر) کے مال سے اس جیسی دوسری لونڈی (خرید کر) اس کی مالکہ کو ملے گی“ (گویا یہ پرائی عورت سے جماع کرنے کا جرمانہ ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3366]
حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس شخص نے اس سے جبراً جماع کیا ہے تو وہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو جائے گی اور خاوند کو اس جیسی لونڈی اس کی مالکہ (یعنی اپنی بیوی) کو دینی ہو گی اور اگر وہ راضی اور خوش تھی تو وہ اپنی مالکہ ہی کی رہے گی اور مرد کو اپنے مال سے ایک اور لونڈی بیوی کو دینی ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بَابُ: تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ
باب: متعہ کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3367
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد، عَنْ أَبِيهِمَا: أَنَّ عَلِيًّا بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا لَا يَرَى بِالْمُتْعَةِ بَأْسًا، فَقَالَ: إِنَّكَ تَائِهٌ إِنَّهُ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، يَوْمَ خَيْبَرَ".
علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کو اطلاع ملی کہ ایک شخص ۱؎ ہے جو متعہ میں کچھ حرج اور قباحت نہیں سمجھتا۔ علی رضی اللہ عنہ نے (اس سے) کہا تم گمراہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3367]
محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی متعہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، آپ رضی اللہ عنہ اسے فرمانے لگے: تو تو راہِ راست سے بھٹکا ہوا ہے، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر (کی جنگ) کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے روک دیا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4216)، النکاح 31 (5115)، الذبائح 28 (5523)، الحیل 4 (6961)، صحیح مسلم/النکاح 3 (1407)، الصید والذبائح 5 (1407)، سنن الترمذی/النکاح 29 (1121)، الأطعمة 6 (1794)، سنن ابن ماجہ/النکاح 44 (1961)، موطا امام مالک/النکاح 18 (41)، (تحفة الأشراف: 10263)، مسند احمد (1/79، 142)، سنن الدارمی/النکاح 16 (2033)، ویأتي عند المؤلف في الصید 31 برقم: 4340 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک شخص سے مراد ابن عباس رضی الله عنہما ہیں، ممکن ہے متعہ سے متعلق ممانعت کی انہوں نے کوئی تأویل کی ہو یا اس ممانعت سے وہ باخبر نہ رہے ہوں کیونکہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب مغنی (۷؍۵۷۲) میں لکھا ہے: بیان کیا جاتا ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔ (واللہ اعلم)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں