سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الأَعْمَشِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4081
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَقَدْ أَغْلَظَ لِرَجُلٍ فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ. فَانْتَهَرَنِي، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو نَصْرٍ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ , وَرَوَاهُ عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ , فَأَسْنَدَهُ.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے ایک شخص کو کچھ سخت سست کہا تو اس نے جواب میں ویسا ہی کہا، میں نے کہا: کیا اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونصر کا نام حمید بن ہلال ہے اور اسے ان سے یونس بن عبید نے مسنداً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4081]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ کسی شخص پر سخت ناراض ہو رہے تھے۔ اس نے جواباً آپ کو کچھ کہا (بدتمیزی کی)۔ میں نے کہا: میں اس کی گردن نہ اتار دوں؟ آپ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو نصر کا نام حمید بن ہلال ہے، اور اس سے یہ حدیث یونس بن عبید نے بیان کی تو اس نے اس کو مسند، یعنی متصل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 4076 (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے، لیکن اگلی سند متصل ہے)»
وضاحت: ۱؎: عمرو بن مرہ کی پچھلی دونوں سن دوں میں ”حمید بن ہلال“ اور ”ابوبرزہ رضی اللہ عنہ“ کے درمیان انقطاع ہے، اور یونس بن عبید کی یہ روایت متصل ہے کیونکہ اس میں ”حمید“ اور ”ابوبرزہ“ کے درمیان ”عبداللہ بن مطرف“ کا واسطہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4082
أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَغَضِبَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ , أَضْرِبُ عُنُقَهُ. فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ أَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ , فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، مَا قُلْتَ: وَنَسِيتُ الَّذِي، قُلْتُ: قُلْتُ: ذَكِّرْنِيهِ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ؟!، قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى رَجُلٍ؟، فَقُلْتَ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَا تَذْكُرُ ذَلِكَ أَوَ كُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ، قُلْتُ: نَعَمْ , وَاللَّهِ وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ. قَالَ:" وَاللَّهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ الْأَحَادِيثِ وَأَجْوَدُهَا , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، آپ ایک مسلمان آدمی پر غصہ ہوئے اور آپ کا غصہ سخت ہو گیا، جب میں نے دیکھا تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں نے یہ ساری گفتگو بدل کر دوسری گفتگو شروع کر دی، پھر جب ہم جدا ہوئے تو مجھے بلا بھیجا اور کہا: ابوبرزہ! تم نے کیا کہا؟ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ بھول چکا تھا، میں نے کہا: مجھے یاد دلائیے، تو آپ نے کہا: کیا تم نے جو کہا تھا وہ تمہیں یاد نہیں آ رہا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تو آپ نے کہا: جب مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے دیکھا تو کہا تھا: اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ کیا یہ تمہیں یاد نہیں ہے؟ کیا تم ایسا کر گزرتے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! اگر آپ اب بھی حکم دیں تو میں کر گزروں، تو آپ نے کہا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی کا یہ مقام نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس سے متعلق مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور عمدہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4082]
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ کسی مسلمان آدمی پر ناراض ہوئے اور انتہائی زیادہ ناراض ہوئے۔ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول! میں اس کی گردن اتار دوں؟ جب میں نے قتل کا ذکر کیا تو اس بات کو آپ نے مکمل طور پر چھوڑ دیا اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ جب ہم متفرق ہو گئے تو آپ نے مجھے پیغام بھیجا اور فرمایا: ابو برزہ! تم نے کیا کہا تھا؟ میں اس وقت تک بھول چکا تھا کہ میں نے کیا کہا تھا۔ میں نے آپ سے کہا: مجھے یاد دلا دیجیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تجھے یاد نہیں، تو نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ آپ نے فرمایا: جب تو نے مجھے ایک آدمی پر ناراض ہوتے دیکھا تو تو نے کہا تھا: اے خلیفۂ رسول! میں اس کی گردن اتار دوں؟ کیا تجھے یہ بات یاد نہیں؟ کیا تو (واقعی) ایسے کر دیتا (یعنی اسے قتل کر دیتا؟) میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔ اب بھی اگر آپ حکم دیں تو میں یہ کام کر گزروں گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ رتبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا بھی نہیں۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور احسن ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سند کے لحاظ سے بہتر اور عمدہ ہونا ہے، کیونکہ پچھلی دونوں سن دوں میں انقطاع ہے جیسا کہ گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
18. بَابُ: السِّحْرِ
باب: جادو کا بیان۔
حدیث نمبر: 4083
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ. قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: لَا تَقُلْ نَبِيٌّ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ، فَقَالَ لَهُمْ:" لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، وَلَا تَوَلَّوْا يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُودُ أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ". فَقَبَّلُوا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، وَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، قَالَ:" فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي؟"، قَالُوا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا بِأَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخَافُ إِنِ اتَّبَعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا يَهُودُ".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے دوست سے کہا: ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو، دوست نے اس سے کہا: تم یہ نہ کہو کہ وہ نبی ہے، اگر اس نے تمہاری بات سن لی تو اس کی چار چار آنکھیں ہوں گی (یعنی اسے بہت خوشی ہو گی)، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے نو واضح احکام کے بارے میں پوچھا (جو موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے) ۱؎ آپ نے ان سے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری اور زنا نہ کرو اور اللہ نے جس نفس کو حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو، کسی بےقصور کو (سزا دلانے کی غرض سے) حاکم کے پاس نہ لے جاؤ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر الزام تراشی نہ کرو، جنگ کے دن پیٹھ دکھا کر نہ بھاگو، اور اے یہود! ایک حکم تمہارے لیے خاص ہے کہ تم ہفتے (سنیچر) کے دن میں غلو نہ کرو، یہ سن کر ان لوگوں نے آپ کے ہاتھ پاؤں چوم لیے ۲؎ اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر کون سی چیز تمہیں میری پیروی کرنے سے روک رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: داود علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ ہمیشہ نبی ان کی اولاد میں سے ہو، ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کریں گے تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4083]
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ اس نبی کے پاس چلیں۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: اسے نبی نہ کہو، اگر اس نے تیری بات سن لی تو اس کی آنکھیں چار ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے «تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ» ”نو واضح آیات“ کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی قابلِ احترام جان کو ناحق قتل نہ کرو، کسی بے گناہ شخص کو (ناحق سزا دلوانے کے لیے) صاحبِ اقتدار کے پاس نہ لے جاؤ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، کسی پاک دامن پر الزام نہ لگاؤ اور جنگ کے دن میدانِ جنگ سے نہ بھاگو۔ اور اے یہودیو! خاص تمہارے لیے یہ حکم ہے کہ تم ہفتے کے دن (کی تعظیم) کے بارے میں (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) تجاوز نہ کرو۔“ چنانچہ ان دونوں نے (یہ سن کر) آپ کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں میرا متبع بننے سے کون سی چیز مانع ہے؟“ انہوں نے کہا: حضرت داود علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی کہ ہمیشہ نبی ان کی نسل سے آئے، نیز ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی پیروی کی تو یہودی ہمیں قتل کر دیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 33 (2733)، تفسیرسورة الإسراء (3145)، سنن ابن ماجہ/الأدب16(3705)، (تحفة الأشراف: 4951)، مسند احمد (4/239) (ضعیف) (اس کے راوی ”عبداللہ بن سلمہ“ حافظہ کے ضعیف ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ”آیات بینات سے مراد یا تو معجزات ہوتے ہیں یا واضح احکام، یہاں احکام مراد ہیں، اور جو نو معجزات موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے وہ یہ تھے: عصاء، ید بیضاء، بحر طوفان، قحط، ٹڈیاں، کھٹمل، مینڈک، اور خون، اور جو نو واضح احکامات دیئے گئے تھے وہ اس حدیث میں مذکور ہیں اور یہ ساری شریعتوں میں دیئے گئے تھے۔ ۲؎: یہ حدیث ضعیف ہے، نیز ہاتھ چومنے سے متعلق ساری روایات ضعیف ہیں، ان سے استدلال صحیح نہیں، اور تعظیم و تکریم کا یہ عمل اگر صحیح ہوتا تو آپ کی صحبت میں رہنے والے جلیل القدر صحابہ اس کو ضرور اپناتے، لیکن کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی وغیرہم رضی اللہ عنہ نے تعظیم کا یہ طریقہ اپنایا ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
19. بَابُ: الْحُكْمِ فِي السَّحَرَةِ
باب: جادوگروں کا حکم۔
حدیث نمبر: 4084
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْمَنْقَرِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً ثُمَّ نَفَثَ فِيهَا فَقَدْ سَحَرَ، وَمَنْ سَحَرَ فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی گرہ لگائی پھر اس میں پھونک ماری تو اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا، اس نے شرک کیا ۱؎ اور جس نے گلے میں کچھ لٹکایا، وہ اسی کے حوالے کر دیا گیا“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4084]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے گرہ باندھی اور اس میں (پڑھ کر) پھونکا، اس نے جادو کیا، اور جس نے جادو کیا، اس نے شرک کیا اور جس شخص نے کوئی (شرکیہ) چیز گلے میں لٹکائی، اسے اسی کے سپرد کیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12255) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عباد بن میسرہ“ ضعیف ہیں، لیکن اس کا جملہ ”من تعلق۔۔۔ الخ دیگر روایات سے صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مشرکین کا عمل اپنایا، یہ شرک اس صورت میں ہے جب وہ اس میں حقیقی تأثیر کا اعتقاد رکھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد ترک کر دینے کے سبب وہ شرک خفی کا مرتکب ہو گا۔ اور مؤلف کا استدلال اسی جملہ سے ہے، یعنی جادو کرنے والا شرک کا مرتکب ہوا تو مرتد ہو گیا۔ ۲؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید اسے حاصل نہیں ہو گی۔ تعویذ کے سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ اس کا ترک کرنا ہر حال میں افضل ہے، بالخصوص جب اس میں شرکیہ کلمات ہوں یا اس کے مفید یا مضر ہونے کا اعتقاد رکھے۔ تو اس سے دور رہنا واجب و فرض ہے، ایسے تعویذ جو قرآنی آیات پر مشتمل ہوں اس کی بابت علماء کا اختلاف ہے، کچھ لوگ اس کے جواز کے قائل ہیں اور ممانعت کی حدیث کو اس صورت پر محمول کرتے ہیں جب اس میں شرکیہ کلمات ہوں، جب کہ دوسرے لوگ جیسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نیز دیگر صحابہ ارشاد نبوی «من تعلق شیأ وکل إلیہ» کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے، نیز آیات و احادیث کی بیحرمتی کے سبب حرام قرار دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن عنعن. ولبعض الحديث شواهد. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351
20. بَابُ: سَحَرَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب کے جادوگروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4085
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَخْرَجُوهَا فَجِيءَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَكَرَ ذَلِكَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کیا۔ اس کی وجہ سے آپ کچھ دنوں تک بیمار رہے، آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: ایک یہودی نے آپ کو جادو کیا ہے، اس نے آپ کے لیے فلاں کنوئیں میں گرہ باندھ کر ڈال رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے اسے نکالا، وہ گرہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ کھڑے ہو گئے، گویا آپ کسی رسی کے بندھن سے کھلے ہوں۔ پھر آپ نے اس کا ذکر اس یہودی سے نہیں کیا اور نہ ہی اس نے آپ کے چہرے پر کبھی اس کا اثر پایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4085]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے کچھ دن بیمار سے رہے، پھر جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے آپ پر جادو کر دیا ہے، اس نے کچھ گرہیں دے کر فلاں کنویں میں رکھ چھوڑی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھیجے، انہوں نے ان گرہوں کو نکالا اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اٹھ کھڑے ہوئے جیسے کسی اونٹ کا گھٹنا کھول دیا جائے، پھر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے اس کا ذکر کیا اور نہ اس (یہودی) نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اس کا کچھ اثر پایا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «مسند احمد 4/367 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے اس کے اس عمل کے سبب تعرض اس لیے نہیں کیا کہ جادو کے سبب شرک و ارتداد کا حکم اس پر لاگو نہیں ہوا، کیونکہ اس کا دین دوسرا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کئے جانے کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیحین میں بھی حدیثیں مروی ہیں، اس لیے ان کا انکار حدیث کا انکار ہے، سلف صالحین انبیاء علیہم السلام پر جادو کے اثر کے قائل ہیں اور یہ کہ یہ چیز ان کے مرتبہ و مقام میں کسی نقص اور کمی کا باعث نہیں ہے، یہ ایک قسم کا مرض ہی ہے، اور مرض انبیاء پر طاری ہوا کرتا ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
21. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ تُعُرِّضَ لِمَالِهِ
باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
حدیث نمبر: 4086
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح , وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَأْتِينِي فَيُرِيدُ مَالِي. قَالَ:" ذَكِّرْهُ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَذَّكَّرْ. قَالَ:" فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَوْلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ:" فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ". قَالَ: فَإِنْ نَأَى السُّلْطَانُ عَنِّي. قَالَ:" قَاتِلْ دُونَ مَالِكَ حَتَّى تَكُونَ مِنْ شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ أَوْ تَمْنَعَ مَالَكَ".
مخارق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور میرا مال چھینتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے اللہ کی یاد دلاؤ“، اس نے کہا: اگر وہ اللہ کو یاد نہ کرے، آپ نے فرمایا: ”تو تم اس کے خلاف اپنے اردگرد کے مسلمانوں سے مدد طلب کرو“۔ اس نے کہا: اگر میرے اردگرد کوئی مسلمان نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا: ”حاکم سے مدد طلب کرو۔ اس نے کہا: اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو؟ آپ نے فرمایا: اپنے مال کے لیے لڑو، یہاں تک کہ اگر تم مارے گئے تو آخرت کے شہداء میں سے ہو گے ۱؎ یا اپنے مال کو بچا لو گے“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4086]
حضرت قابوس کے والد محترم حضرت مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور میرا مال چھیننا چاہتا ہے۔ (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: ”اسے اللہ تعالیٰ سے نصیحت کر (اس کی وعید سے ڈرا)۔“ اس نے کہا: اگر وہ نصیحت نہ مانے تو؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے آس پاس کے مسلمانوں سے مدد حاصل کر۔“ اس نے کہا: اگر میرے آس پاس کوئی مسلمان نہ ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: ”حاکم سے مدد طلب کر۔“ اس نے کہا: اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو؟ فرمایا: ”پھر اپنے مال کی حفاظت کے لیے لڑائی کر حتیٰ کہ تو (مارا جائے اور) آخرت میں شہید بن جائے یا اپنے مال کو بچا لے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11242)، مسند احمد (5/294-295) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اجر و ثواب کے لحاظ سے ایسا آدمی شہداء میں سے ہو گا لیکن عام مردوں کی طرح اس کو غسل دیا جائے گا اور تجہیز و تدفین کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4087
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا حکم ہے اگر کوئی میرا مال ظلم سے لینے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“ , اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: پھر بھی وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر ان سے لڑو، اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے ۱؎ اور اگر تم نے انہیں مار دیا تو وہ جہنم میں ہوں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4087]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فرمائیے اگر میرے مال پر حملہ کر دیا جائے (تو کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں تو؟ فرمایا: ”پھر اللہ کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی مصر رہیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”پھر ان سے لڑ۔ اگر تو مارا گیا تو جنت میں جائے گا اور اگر تو نے انہیں مار دیا تو وہ آگ میں جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14276)، مسند احمد (2/339، 360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنت میں جانے کے اسباب میں سے ایک سبب اپنے مال کی حفاظت میں مارا جانا بھی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کسی کے پاس نہ عقیدہ صحیح ہو نہ ہی صوم و صلاۃ اور دوسرے احکام شریعت کی پاکی پابندی اور ایسا آدمی اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے تو سیدھے جنت میں چلا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تو تم ان سے لڑو، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے اور اگر تم نے مار دیا تو وہ جہنم میں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4088]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے اگر میرے مال پر حملہ کر دیا جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو اللہ کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ (ڈاکو) نہ مانیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ عزوجل کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان سے لڑ، اگر تو قتل ہو گیا تو جنت میں جائے گا اور اگر تو نے ان کو مار دیا تو وہ جہنمی ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
22. بَابُ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ
باب: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔
حدیث نمبر: 4089
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنا مال بچانے کے لیے لڑا اور مارا گیا تو وہ شہید ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4089]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اپنے مال کو (ڈاکوؤں وغیرہ سے) بچانے کے لیے لڑائی کرے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8900) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4090
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنے مال کو بچانے کے لیے لڑے اور مارا جائے وہ شہید ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4090]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں لڑتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8840) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح