🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ: قِتَالِ الْمُسْلِمِ
باب: مسلمان سے لڑنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4111
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فِسْقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ". فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: يَا أَبَا إِسْحَاق، أَمَا سَمِعْتَهُ إِلَّا مِنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: بَلْ، سَمِعْتُهُ مِنَ الْأَسْوَدِ، وَهُبَيْرَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ ابان نے ابواسحاق سبیعی سے پوچھا: ابواسحاق! کیا آپ نے اسے ابوالاحوص کے علاوہ کسی سے نہیں سنا؟ کہا: میں نے اسود اور ہبیرہ سے بھی سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4111]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق (کبیرہ گناہ) ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔ ابان نے (ابو اسحاق سے) پوچھا: اے ابو اسحاق! کیا آپ نے یہ حدیث صرف ابوالاحوص سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: (نہیں) بلکہ اسود اور ہبیرہ سے بھی میں نے یہ حدیث سنی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4112
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4112]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9527) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4113
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4113]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإیمان 15(2634)، (تحفة الأشراف: 9360)، مسند احمد (1/417، 460) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِحَمَّادٍ , سَمِعْتُ مَنْصُورًا، وَسُلَيْمَانَ، وَزُبَيْدًا يُحَدِّثُونَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ". مَنْ تَتَّهِمُ؟ أَتَتَّهِمُ مَنْصُورًا؟ أَتَتَّهِمُ زُبَيْدًا؟ أَتَتَّهِمُ سُلَيْمَانَ؟، قَالَ: لَا , وَلَكِنِّي أَتَّهِمُ أَبَا وَائِلٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ (اس حدیث کی روایت کے بارے میں شعبہ نے حماد سے کہا) آپ کس پر (وہم اور غلطی کی) تہمت (اور الزام) لگاتے ہیں؟ منصور پر، زبید پر یا سلیمان اعمش پر؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں تو ابووائل پر تہمت لگاتا ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4114]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی گلوچ کرنا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ (امام شعبہ نے اپنے استاد حماد سے کہا:) تم کس پر تہمت لگاتے ہو؟ کیا تم منصور پر تہمت لگاتے ہو؟ کیا تم زبید پر تہمت لگاتے ہو؟ کیا تم سلیمان پر تہمت لگاتے ہو؟ حماد نے کہا: نہیں (میں ان میں سے کسی پر بھی تہمت نہیں لگاتا) لیکن میں (ان سب کے استاد) ابو وائل پر تہمت لگاتا ہوں۔ (کہ آیا اس نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے یا نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 36 (48)، الأدب 44 (6044)، الفتن 8 (7076)، صحیح مسلم/الإیمان 28 (62)، سنن الترمذی/البر 52 (1983)، الإیمان 15 (2635)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (69)، (تحفة الأشراف: 9243، 9251، 9299)، مسند احمد (1/385، 433)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4115-4118) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مجھے ابووائل شقیق بن سلمہ کے سلسلہ میں شک ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ ابووائل شقیق بن سلمہ ثقہ راوی ہیں (واللہ اعلم)، نیز دیکھئیے اگلی روایت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4115
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ". قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ زبید کہتے ہیں کہ میں نے ابووائل سے کہا: کیا آپ نے اسے عبداللہ بن مسعود سے سنا ہے؟ کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4115]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کا (دوسرے مسلمانوں سے) لڑائی کرنا کفر ہے۔ زبید کہتے ہیں: میں نے ابو وائل سے پوچھا: کیا آپ نے اس حدیث کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! (سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4116
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4116]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4117
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
ابووائل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4117]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" قِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مومن کو قتل کرنا کفر (کا کام) اور اسے گالی دینا فسق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4118]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» مومن کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِيمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ
باب: اندھی عصبیت کے جھنڈے تلے لڑنے والے کے بارے میں (وارد) سختی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4119
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ , وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ , فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقُتِلَ , فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (امیر کی) اطاعت سے نکل گیا اور (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دی پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا، اور جو میرے امتی کے خلاف اٹھے اور اچھے اور خراب سبھوں کو مارتا جائے اور مومن کو بھی نہ چھوڑے اور عہد والے سے بھی وفا نہ کرے تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، اور جو عصبیت کے جھنڈے تلے لڑے اور لوگوں کو عصبیت کی طرف بلائے یا اس کا غصہ عصبیت کی وجہ سے ہو، پھر وہ مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4119]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (تسلیم شدہ امیر کی) اطاعت سے نکل جائے اور جماعت سے جدا ہو جائے، اگر وہ اسی حال میں مرا تو جاہلیت کی موت مرا۔ جو شخص میری امت کے خلاف (مسلح ہو کر) نکلا اور ہر نیک و بد کو بلا امتیاز قتل کرنے لگا، وہ نہ مومن کی پروا کرتا ہے نہ کسی ذمی کے عہد کا لحاظ رکھتا ہے، تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جو شخص (کسی قسم کے حزبی، قومی یا مذہبی گروہی تعصب میں آ کر) کسی مبہم اور اندھے جھنڈے کے نیچے لڑا، کسی ایک جماعت کی طرف دعوت دیتا ہے یا کسی جماعت کی خاطر وہ غصے میں آ کر لڑتا ہے اور مارا جاتا ہے، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 13 (1848)، سنن ابن ماجہ/الفتن 7 (3948)، (تحفة الأشراف: 912902)، مسند احمد (2/296، 306، 488) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ عصبیت زمانۂ جاہلیت ہی کی خصوصیات میں سے ہے، مسلمان کو ہمیشہ حق کا متلاشی ہونا چاہیئے، اور حق ہی کے لیے اس کا تعاون ہونا چاہیئے، اندھی عصبیت میں ذات برادری، پارٹی، جماعت اور علاقہ والوں کی اندھی حمایت مسلمان کا شیوہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ عَصَبِيَّةً , وَيَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عِمْرَانُ الْقَطَّانُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص عصبیت کے جھنڈے تلے لڑے اور وہ اپنی قوم کی عصبیت میں لڑے یا عصبیت میں غصہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عمران القطان زیادہ قوی نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4120]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (اندھا دھند تعصب میں آ کر) کسی مبہم اور اندھے جھنڈے کے تحت لڑا، وہ صرف اپنے گروہ کی حمایت میں لڑتا اور اسی کی حمایت میں غضب ناک ہوتا ہے، (وہ مارا جائے) تو اس کی موت جاہلیت کی (حرام) موت ہو گی۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (اس حدیث کا راوی) عمران القطان قوی نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 13 (1850)، (تحفة الأشراف: 3267) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسلم کی سند میں عمران القطان نہیں ہیں، بلکہ ان کی جگہ معتمر بن سلیمان التیمی ہیں، قتادہ بھی نہیں ہیں، ان کی جگہ سلیمان التیمی ہیں، اس لیے حدیث صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں