🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَكَلَّمَ بِالْحَقِّ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ
باب: ظالم حکمراں کے پاس حق بات کہنے والے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4214
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ".
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ ۱؎ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور وہ یا آپ اپنا پیر رکاب میں رکھے ہوئے تھے، کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمراں کے پاس حق اور سچ کہنا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4214]
حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں مبارک رکاب میں رکھ چکے تھے: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4983)، مسند احمد (4/314، 315) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا شرف تو حاصل ہے مگر آپ سے خود کوئی حدیث نہیں سنی تھی، آپ کی روایت کسی اور صحابی کے واسطہ سے ہوتی ہے، اور اس صحابی کا نام نہ معلوم ہونے سے حدیث کی صحت میں فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سارے صحابہ کرام ثقہ ہیں اور سند سے معلوم ثقہ، بالخصوص صحابی کا ساقط ہونا حدیث کی صحت میں موثر نہیں، اس لیے کہ سارے صحابہ ثقہ اور عدول ہیں، اس طرح کی حدیث جس میں حدیث نقل کرنے میں صحابی واسطہ صحابی کا ذکر کئے بغیر حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دے، علمائے حدیث کی اصطلاح میں مرسل صحابی کہتے ہیں، اور مرسل صحابی مقبول و مستفید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ وَفَّى بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ .
باب: بیعت کی پابندی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4215
أخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ:" بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، پھر آپ نے لوگوں کو (سورۃ الممتحنہ کی) آیت پڑھ کر سنائی ۱؎، پھر فرمایا: تم میں سے جس نے بیعت کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، اور جس نے اس میں سے کسی غلط کام کو انجام دیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے چھپائے رکھا تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو اسے معاف کر دے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4215]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مجلس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری آیت [سورة الممتحنة: 12] تلاوت فرمائی۔) تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا، اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے لیکن جس شخص نے ان میں سے کوئی کام کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے اس کو عذاب دے، چاہے معاف فرمائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4166 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس آیت سے مراد سورۃ الممتحنہ کی یہ آیت ہے: «يا أيها النبي إذا جائك المؤمنات يبايعنك على أن لايشركن بالله شيئا …» (سورة الممتحنة: 12)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ
باب: منصب اور سرداری کی خواہش ناپسندیدہ عمل ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آَدَمَ بْنِ سُلَيْمَانِ , عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمارَةِ , وَإنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً , فَنَعِمَتِ المُرْضِعَةُ , وَبَئِسَتِ الْفَاطِمَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم لوگ امارت و سرداری کی خواہش کرو گے لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہو گی، اس لیے کہ دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4216]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم لوگ امارت (اقتدار و سرداری) کی حرص کرو گے اور بلاشبہ یہ (قیامت کے دن) ندامت و شرمندگی اور حسرت و افسوس (کا سبب) ہو گی۔ یہ دودھ پلاتے اچھی لگتی ہے مگر دودھ چھڑاتے ہوئے بری محسوس ہوتی ہے۔ (اس کی ابتدا اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن انجام برا ہو گا)۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 7 (7148)، (تحفة الأشراف: 13017)، مسند احمد (2/448، 476) ویأتي عند المؤلف في القضاء (برقم5387) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حکومت ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں