سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ: النَّصِيحَةِ لِلإِمَامِ
باب: امام اور حاکم کے لیے خیر خواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4204
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”بلاشبہ دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے“، لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عوام کے لیے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4204]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا دین خیر خواہی کو کہتے ہیں۔ بلاشبہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ بے شک دین خیر خواہی سے عبارت ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کس کی (خیر خواہی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمان حاکموں کی اور عام مسلمانوں کی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر 17 (1926)، (تحفة الأشراف: 12863)، مسند احمد (2/697) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4205
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، وَعَنْ سُمَيٍّ، وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عوام کے لیے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4205]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خلوص کا نام ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کس سے (خلوص)؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے، اس کی کتاب سے، اس کے رسول سے، مسلمانوں کے حکام اور رعایا سے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
32. بَابُ: بِطَانَةِ الإِمَامِ
باب: امام اور حاکم کے راز دار اور مشیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4206
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ وَالٍ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ، وَهُوَ مِنَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی حاکم نہیں جس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں، ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور دوسرا اسے بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ لہٰذا جو اس کے شر سے بچا وہ بچ گیا اور ان دونوں مشیروں میں سے جو اس پر غالب آ جاتا ہے وہ اسی میں سے ہو جاتا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4206]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر حاکم کے مشیر دو قسم کے ہوتے ہیں؛ ایک مشیر وہ جو اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور دوسرا مشیر وہ جو اس کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، جو حاکم برے مشیروں سے بچ گیا، وہ حقیقتاً بچ گیا، اور اس کا شمار ان میں سے ہوگا جو اس پر غالب آئے رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 42 (7198 تعلیقًا)، (تحفة الأشراف: 15269)، مسند احمد (2/237، 289) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے ہر صاحب اختیار (خواہ حاکم اعلی ہو یا ادنیٰ جیسے گورنر، تھانے دار یا کسی تنظیم کا سربراہ) اسے چاہیئے کہ اپنا مشیر بہت چھان پھٹک کر اختیار کرے، اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرتا رہے کہ اے اللہ! مجھے صالح مشیر کار عطا فرما۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4207
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ، وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم محفوظ تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم محفوظ رکھے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4207]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا اور جسے بھی خلیفہ مقرر فرمایا، اس کے دو قسم کے مشیر ہوتے ہیں؛ ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا مشیر اسے برائی کا مشورہ دیتا اور برائی کی ترغیب دلاتا ہے، اور محفوظ وہی رہتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/القدر 8 (6611)، الأحکام 42 (7198)، مسند احمد (3/39، 88) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا كَانَ بَعْدَهُ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا گیا اور نہ اس کے بعد کوئی خلیفہ ایسا ہوا جس کے دو مشیر و راز دار نہ ہوں۔ ایک مشیر و راز دار اسے بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا اسے بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا۔ لہٰذا جو خراب مشیر سے بچ گیا وہ (برائی اور فساد سے) بچ گیا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4208]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو بھی نبی مبعوث ہوئے یا جو ان کے بعد خلیفہ بنے، ان کے مشیر دو قسم کے ہوتے تھے۔ ایک مشیر تو ان کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور برائی سے روکتے تھے اور دوسرے ان کو خراب کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے۔ جو شخص برے مشیر سے بچ گیا، وہ حقیقتاً بچ گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 42 (7198 تعلیقا)، (تحفة الأشراف: 3494) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
33. بَابُ: وَزِيرِ الإِمَامِ
باب: حکمراں کے وزیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4209
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ عَمَلًا، فَأَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، جَعَلَ لَهُ وَزِيرًا صَالِحًا إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی کسی کام کا ذمہ دار ہو جائے پھر اللہ اس سے خیر کا ارادہ کرے تو اس کے لیے ایسا صالح وزیر بنا دیتا ہے کہ اگر وہ بھول جائے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو اس کی مدد کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4209]
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی پھوپھی (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص کسی کام کا ذمہ دار بنے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے بہتری کا ارادہ فرمائے تو اس کے لیے اچھا وزیر مہیا فرما دیتا ہے۔ جو اس کو بھول جانے کی صورت میں اس کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو اس کی (ذمہ داری کی ادائیگی میں) مدد کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17544)، مسند احمد (6/70) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
34. بَابُ: جَزَاءِ مَنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَأَطَاعَ
باب: اس شخص کی سزا جسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے اور وہ اسے بجا لائے۔
حدیث نمبر: 4210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا:" لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ:" خَيْرًا"، وَقَالَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ:" قَوْلًا حَسَنًا"، وَقَالَ:" لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور ایک شخص ۱؎ کو اس کا امیر مقرر کیا، اس نے آگ جلائی اور کہا: تم لوگ اس میں داخل ہو جاؤ، تو کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا اور دوسروں نے کہا: ہم تو (ایمان لا کر) آگ ہی سے بھاگے ہیں، پھر لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ نے ان لوگوں سے جنہوں نے اس میں داخل ہونا چاہا تھا فرمایا: ”اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے، اور دوسروں سے اچھی بات کہی“۔ (ابوموسیٰ (محمد بن المثنیٰ) نے اپنی حدیث میں ( «خیراً» کے بجائے) «قولاً حسناً» (بہتر بات) کہا ہے)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں اطاعت نہیں ہوتی، اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4210]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک آدمی کو امیر مقرر فرمایا۔ اس نے آگ جلائی اور کہنے لگا: اس میں چھلانگیں لگا دو۔ کچھ لوگوں نے چھلانگیں لگانے کا ارادہ کر لیا۔ دوسرے کہنے لگے: ہم آگ سے بچنے کے لیے تو مسلمان ہوئے ہیں (لہٰذا ہم آگ میں چھلانگ نہیں لگائیں گے)۔ پھر (واپسی پر) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے ان لوگوں کو، جنہوں نے چھلانگ لگانے کا ارادہ کیا تھا، (مخاطب کر کے) فرمایا: ”اگر تم آگ میں چھلانگیں لگا دیتے تو قیامت تک آگ ہی میں رہتے۔“ اور دوسروں کے لیے خیر کا کلمہ کہا۔ (استاد) ابو موسیٰ (محمد بن مثنیٰ) نے اپنی حدیث میں کہا: اور آپ نے دوسرے لوگوں کے بارے میں اچھی بات فرمائی۔ اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو تو کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ صرف اطاعت اچھے کاموں میں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 59 (4340)، الأحکام 4 (7145)، أخبارالأحاد 1 (7257)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1840)، سنن ابی داود/الجہاد 96 (2625)، سنن الترمذی/السیر 8 (1556)، (تحفة الأشراف: 10168)، مسند احمد (1/82، 94، 124، 129) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد وہی عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کا تذکرہ حدیث نمبر ۴۱۹۹ میں گزرا۔ ۲؎: ”صرف نیک کاموں میں اطاعت، اور نافرمانی کے کاموں میں اطاعت نہ کرنے“ کی بات ہر ایک اختیار والے کے ساتھ ہو گی: خواہ حکمران اعلی ہو یا ادنیٰ، یا والدین، یا اساتذہ، شوہر یا کسی تنظیم کا سربراہ۔ اگر کسی سربراہ کا اکثر حکم اللہ کی نافرمانی والا ہی ہو تو ایسے آدمی کو سارے ماتحت لوگ مشورہ کر کے اختیار سے بے دخل کر دیں۔ لیکن ہتھیار سے نہیں، یا فتنہ و فساد برپا کر کے نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4211
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان شخص پر (امام و حکمراں کی) ہر چیز میں سمع و طاعت (حکم سننا اور اس پر عمل کرنا) واجب ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے۔ لہٰذا جب اسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے تو کوئی سمع و طاعت نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4211]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان شخص پر ضروری ہے کہ وہ امیر کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، خواہ پسند کرتا ہو یا نہ، الا یہ کہ اسے (اللہ اور اس کے رسول کی) نافرمانی اور گناہ والا حکم دیا جائے۔ ایسی صورت میں نہ وہ امیر کی بات سنے، نہ اس کی اطاعت کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7792) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
35. بَابُ: ذِكْرِ الْوَعِيدِ لِمَنْ أَعَانَ أَمِيرًا عَلَى الظُّلْمِ
باب: ظلم میں امیر کی مدد کرنے والے پر وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4212
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ، فَقَالَ:" إِنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، آپ نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ ہی وہ (قیامت کے دن) میرے پاس حوض پہ آ سکے گا۔ اور جس نے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4212]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نو ساتھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ ایسے امیر ہوں گے کہ جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس سے میرا کوئی تعلق ہے، اور اسے میرے پاس حوضِ کوثر پر آنا نصیب نہیں ہو گا۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم میں ان کا ساتھ نہ دے، وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور میں اس سے تعلق رکھتا ہوں اور وہ لازماً میرے پاس حوضِ کوثر پر آئے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 72 (2259)، (تحفة الأشراف: 11110) حم4/243(صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کسی حکمران، امیر، صدر، ناظم، کسی ادارہ کے سربراہ کے حوالی موالی جو ہر نیک و بد میں اس کی خوشامد کرتے ہیں اس کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں وہ اس حدیث میں بیان کردہ وعید شدید پر توجہ دیں، نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظالم امیر کے ظلم میں تعاون کرنے والے کے لیے اتنی سخت وعید تو سنائی مگر اس ظالم امیر کو ہٹا دینے کی کوئی بات نہیں کی، ایسے ظالم کو نصیحت کی جائے گی یا سارے مسلمانوں کے اصحاب رائے کے مشورہ سے علاحدہ کیا جائے گا (بغیر فتنہ وفساد برپا کئے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
36. بَابُ: مَنْ لَمْ يُعِنْ أَمِيرًا عَلَى الظُّلْمِ
باب: ظلم میں امیر کی مدد نہ کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4213
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ: خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ , أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ:" اسْمَعُوا، هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، پانچ ایک طرح کے اور چار دوسری طرح کے، ان میں سے کچھ عرب تھے اور کچھ عجم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کیا تم نے سنا؟ میرے بعد عنقریب کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے یہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ وہ میرے پاس (قیامت کے دن) حوض پر نہ آ سکے گا، اور جو ان کے ہاں نہیں گیا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی، اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور عنقریب وہ میرے پاس حوض پر آئے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4213]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نو آدمی تھے۔ پانچ عربی، چار عجمی یا چار عربی اور پانچ عجمی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کیا تم سن رہے ہو؟ یقیناً میرے (فوت ہونے کے) بعد کچھ ایسے امیر ہوں گے کہ جو شخص ان کے پاس جائے گا، پھر ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا، اور ان کے ظلم میں ان کا ساتھ دے گا، نہ اس کا مجھ سے تعلق ہے اور نہ میرا اس سے۔ اور وہ میرے پاس حوضِ کوثر پر نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے پاس نہ گیا (یا گیا لیکن) ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ظلم میں ان کا ساتھ نہ دیا، وہ میرا ہے، میں اس کا ہوں اور وہ ضرور میرے پاس حوضِ کوثر پر حاضری کی سعادت حاصل کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح