سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. بَابُ: التَّصَاوِيرِ
باب: تصویروں اور مجسموں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5357
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَهُ، فَقَطَعَتْهُ وِسَادَتَيْنِ". قَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ , يُقَالُ لَهُ: رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ: أَنَا سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَاسِمَ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے تو اسے نکال دیا، چنانچہ میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا دیے۔ اس وقت مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے جسے ربیعہ بن عطا کہا جاتا ہے: نے کہا میں نے ابو محمد، یعنی قاسم کو، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا، وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5357]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک پردہ لگایا جس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا، میں نے اس کے دو تکیے بنا لیے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگایا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، (تحفة الأشراف: 17454، 17476)، مسند احمد 6/103، 219) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
112. بَابُ: ذِكْرِ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا
باب: قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب والے لوگوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5358
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَنَزَعَهُ وَقَالَ:" أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے، میں نے ایک روشندان میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں، چنانچہ آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا: ”قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5358]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس تشریف لائے جبکہ میں نے اپنے ایک طاق کو تصویروں والے پردے کے ساتھ چھپا رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”قیامت کے دن سخت ترین عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ صورتوں جیسی صورتیں بناتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 91 (5954)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، (تحفة الأشراف: 17483)، مسند احمد (6/36، 83، 85، 86، 199، 219) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5359
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ , ثُمَّ هَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ:" إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، میں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصاویر تھیں، چنانچہ جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا اور فرمایا: ”قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5359]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میں نے تصویروں والا ایک پردہ لٹکا رکھا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو (غصے سے) آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک سے پھاڑ دیا اور فرمایا: ”قیامت کے دن سخت ترین عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ صورتوں جیسی صورتیں بنانے کا تکلف کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔكدب 75 (6109)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، (تحفة الٔاشراف: 17551)، مسند احمد (6/36، 85، 86، 199) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
113. بَابُ: ذِكْرِ مَا يُكَلَّفُ أَصْحَابُ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
باب: قیامت کے دن تصویریں اور مجسمے بنانے والے اس میں روح پھونکنے کے مکلف کیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 5360
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ , فَقَالَ: إِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ , فَمَا تَقُولُ فِيهَا؟ فَقَالَ: ادْنُهْ , ادْنُهْ , سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخِهِ".
نضر بن انس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک شخص آیا اور بولا: میں یہ تصویریں بناتا ہوں، آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: قریب آؤ۔ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے دنیا میں کوئی صورت بنائی قیامت کے روز اسے حکم ہو گا کہ اس میں روح پھونکے، حالانکہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5360]
حضرت نضر بن انس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عراقی آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نزدیک آ، نزدیک آ، میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص دنیا میں (ذی روح اشیاء کی) تصویر بنائے گا، اسے قیامت کے دن اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے لیکن وہ پھونک نہیں سکے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 104 (2225 تعلیقًا)، اللباس 97 (5963)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2110)، (تحفة الأشراف: 6536)، مسند احمد (1/216، 241، 350، 359، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5361
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی، تو اسے عذاب ہو گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح ڈال دے، اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5361]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی (ذی روح) چیز کی صورت بنائے گا، اسے عذاب دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس میں روح پھونکے جبکہ وہ روح نہیں پھونک سکے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042)، سنن ابی داود/الٔسدب 96 (5024)، سنن الترمذی/اللباس 19 (1751)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا 8 (3916)، (تحفة الأشراف: 5986)، مسند احمد (1/216، 359) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5362
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی، قیامت کے روز اسے حکم ہو گا کہ وہ اس میں روح ڈالے اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5362]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے (کسی ذی روح کی) تصویر بنائی، اسے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے، جو وہ پھونک نہیں سکے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التعبیر45(7042) (تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 14252)، مسند احمد (2/504) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5363
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ الَّذِينَ يَصْنَعُونَهَا يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5363]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا: جو تم نے تصویریں بنائی ہیں، ان میں زندگی بھی پیدا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 26 (2108)، (تحفة الأشراف 7520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس89 (5951)، والتوحید 56 (7558)، مسند احمد (2/4، 20، 26، 55، 101، 126، 139، 141، 125) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5364
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن عذاب پائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5364]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً ان صورتیں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا ہے اس میں زندگی ڈالو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 40 (2105)، بدء الخلق 7 (3224)، النکاح 76 (5181)، اللباس 92 (5957)، والتوحید 56 (7557)، سنن ابن ماجہ/التجارات 5 (2151)، (تحفة الأشراف: 17557)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس26 (2107)، مسند احمد (6/70، 80، 223، 246) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5365
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ اللَّهَ فِي خَلْقِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5365]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بلاشبہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو (تصویریں بنا کر) پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی نقل کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17457) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
114. بَابُ: ذِكْرِ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا
باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5366
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ"، وَقَالَ أَحْمَدُ:" الْمُصَوِّرِينَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5366]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو (جاندار چیزوں کی) تصویریں بناتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 89 (5950)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2109)، (تحفة الأشراف: 9575)، مسند احمد (1/375، 426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه