سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. بَابُ: لُبْسِ الْحِبَرَةِ
باب: یمن کی سوتی چادر پہننے اوڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5317
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِبَرَةَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کپڑا یمن کی سوتی چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5317]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پسندیدہ کپڑا دھاری دار چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 18 (5812)، صحیح مسلم/اللباس 5 (5813)، سنن الترمذی/اللباس45(1787)، والشمائل 8 (60)، (تحفة الٔاشراف: 1353)، مسند احمد (3/134، 184، 251، 291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
95. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَر
باب: زرد رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5318
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أخبَرهُ: أَنَّهُ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَقَالَ:" هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ , فَلَا تَلْبَسْهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، وہ دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ کفار کا لباس ہے، اسے مت پہنو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5318]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معصفر کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”یہ تو کافروں کا لباس ہے۔ تو نہ پہن۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس4(2077)، (تحفة الأشراف: 8613)، مسند احمد (2/162، 164، 193، 207، 211) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5319
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" اذْهَبْ فَاطْرَحْهُمَا عَنْكَ"، قَالَ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فِي النَّارِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور فرمایا: ”جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو“۔ وہ بولے: کہاں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”آگ میں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5319]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ انہوں نے معصفر کپڑے پہن رکھے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (دیکھ کر) ناراض ہوئے اور فرمایا: ”جا ان کو اتار پھینک۔“ انہوں نے عرض کی: کہاں پھینکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ میں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 4 (2077)، (تحفة الأشراف: 8830) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چنانچہ انہوں نے اسے گھر کے تنور میں ڈال دیا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں ڈال دینے کا حکم دیا، ایسا صرف زجر و توبیخ کے لیے تھا، ورنہ اس نوع کا کپڑا عورتوں کے لیے جائز ہے، نیز بیچ کر کے قیمت کا استعمال بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5320
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبُوسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے، ریشمی کپڑوں سے، زعفرانی رنگ کے لباس سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5320]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”سونے کی انگوٹھی، «القَسِّيِّ» ”قسی“ اور «المُعَصْفَرِ» ”معصفر“ کپڑے پہننے اور دوران رکوع (اور سجود) قرآن مجید پڑھنے“ سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
96. بَابُ: لُبْسِ الْخُضْرِ مِنَ الثِّيَابِ
باب: سبز کپڑا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5321
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک بار گھر سے) باہر نکلے، آپ دو ہرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5321]
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دفعہ گھر سے) باہر تشریف لائے جبکہ آپ نے دو سبز چادریں پہن رکھی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1553 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
97. بَابُ: لُبْسِ الْبُرُودِ
باب: چادریں اوڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5322
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ:" شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ" , فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا".
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی) شکایت کی، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ۱؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا: کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے؟۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5322]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کفار کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کی) شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سائے میں ایک سیاہ دھاری دار چادر کو تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد و نصرت طلب نہیں فرماتے؟ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 25 (3612)، مناقب الٔةنصار 29 (3852)، الإکراہ 1 (6943)، سنن ابی داود/الجہاد 107 (2649)، (تحفة الأشراف: 3519)، مسند احمد (5/109، 110، 111، 6/395) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5323
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ، قَالَ سَهْلٌ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، هَذِهِ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی، جانتے ہو وہ کیسی چادر تھی؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی شملہ، اس کی گوٹا کناری بنی ہوئی تھی، وہ بولی: اللہ کے رسول! میں نے یہ اپنے ہاتھ سے بنی ہے تاکہ آپ کو پہناؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ باہر نکلے اور ہمارے پاس آئے اور آپ اسی کا تہبند باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5323]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک عورت ایک بردہ لے کر آئی ....... پھر حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے شاگردوں سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو بردہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! یہی سیاہ دھاری دار چادر جس کا کنارہ بھی ساتھ ہی بُنا گیا ہو...... اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بُنی ہے، میں آپ کو پہننے کے لیے پیش کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا جبکہ آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے ہوکر) ہماری طرف تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بطور ازار (تہبند) باندھ رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 31 (2093)، اللباس 18 (5810)، (تحفة الأشراف: 4783)، مسند احمد (5/333) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
98. بَابُ: الأَمْرِ بِلُبْسِ الْبِيضِ مِنَ الثِّيَابِ
باب: سفید کپڑا پہننے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 5324
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ"، قَالَ يَحْيَى: لَمْ أَكْتُبْهُ، قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: اسْتَغْنَيْتُ بِحَدِيثِ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ.
سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو، اس لیے کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کفن دیا کرو“۔ (عمرو بن علی کہتے ہیں کہ) یحییٰ نے کہا: میں نے اس روایت کو نہیں لکھا، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: میمون بن ابی شبیب کی وہ روایت جو سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہے وہی میرے لیے کافی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5324]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو، وہ زیادہ پاکیزہ اور صاف ستھرے رہتے ہیں اور فوت شدگان کو بھی انہی میں کفناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1897 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جس کو ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، سنده ضعيف، ترمذي (2810) ابن ماجه (3567) سعيد بن أبى عروبة مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
حدیث نمبر: 5325
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْبَيَاضِ مِنَ الثِّيَابِ فَلْيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید کپڑوں کو پہنو، زندہ اسے پہنیں اور مردوں کو اسی کا کفن دو کیونکہ یہی کپڑوں میں سب سے عمدہ کپڑا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5325]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو، زندہ لوگ بھی انہیں پہنیں اور فوت شدگان کو بھی انہی میں کفن دو، یہ بہترین کپڑے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 4626) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
99. بَابُ: لُبْسِ الأَقْبِيَةِ
باب: قباء (کوٹ، اچکن) پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5326
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً , وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ , انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ , فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ:" خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ"، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَلَبِسَهُ مَخْرَمَةُ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو، چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا، انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور آپ کو میرے لیے بلا لاؤ، چنانچہ میں نے آپ کو بلا لایا، آپ نکل کر آئے تو آپ انہیں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”اسے میں نے تمہارے ہی لیے چھپا رکھی تھی“، مخرمہ نے اسے دیکھا اور پہن لی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5326]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں لیکن (میرے والد) حضرت مخرمہ کو کچھ نہ دیا تو حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹا! آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا (وہاں پہنچ کر) انہوں نے کہا: جاؤ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر لاؤ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان میں سے ایک قبا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔“ والد محترم حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور پہن لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 19 (2599)، الشہادات 11 (2127)، الخمس 11 (3127)، اللباس 12 (5800)، 42 (5862)، الأدب 82 (6132)، صحیح مسلم/الزکاة 44 (1058)، سنن ابی داود/اللباس 4 (4028)، الأدب 53 (الاستئذان 87) (2818)، (تحفة الأشراف: 11268)، مسند احمد (4/328) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه