سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. بَابُ: إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5337
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنا کپڑا تکبر (گھمنڈ) سے گھسیٹے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک کونا لٹک جاتا ہے، إلا اس کے کہ میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر (گھمنڈ) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5337]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا (زمین پر) گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک پلو لٹک جاتا ہے الا یہ کہ میں (ہر وقت) اس کا خیال رکھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان لوگوں میں شامل نہیں جو یہ کام تکبر سے کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3665)، اللباس 2 (5784)، سنن ابی داود/اللباس 28 (4085)، (تحفة الأشراف: 7026)، مسند احمد (2/67، 136) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
105. بَابُ: ذُيُولِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 5338
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ؟ قَالَ:" تُرْخِينَهُ شِبْرًا". قَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفَ أَقْدَامُهُنَّ؟ قَالَ:" تُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں“، وہ بولیں: تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے؟، آپ نے فرمایا: ”تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5338]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکائے اللہ تعالیٰ اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتیں اپنے دامنوں سے کیا سلوک کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (مردوں سے) ایک بالشت نیچا رکھ لیں۔“ انہوں نے کہا: پھر تو ان کے پاؤں ننگے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ ایک ہاتھ لٹکا لیں لیکن اس سے زیادہ نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، (تحفة الأشراف: 7526)، مسند احمد (2/5، 55، 101) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5339
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ:" تُرْخِي ذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک بالشت لٹکائیں“ ۱؎، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں: تب تو کھلا رہے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تب ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5339]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عورتوں کے دامن کا مسئلہ ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک بالشت لٹکا لیں۔“ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ان کے پاؤں ننگے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک ہاتھ لٹکا لیں۔ اس سے زیادہ نہ لٹکائیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہو جائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہو سکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5340
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذُكِرَ، فِي الْإِزَارِ مَا ذُكِرَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ:" يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: إِذًا تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ؟ قَالَ:" فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر عورتیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکائیں“، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے! آپ نے فرمایا: ”پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5340]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار کے بارے میں مسئلہ ذکر فرمایا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عورتیں کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بالشت نیچا رکھ لیں۔“ وہ کہنے لگیں: پھر تو ان کے پاؤں ننگے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک ہاتھ نیچا کرلیں، اس سے زائد نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 40 (4117)، (تحفة الأشراف: 18282)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/295)، سنن الدارمی/الإستئذان 16 (2686) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5341
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا؟ قَالَ:" شِبْرًا" قَالَتْ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ:" ذِرَاعٌ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنا دامن کس قدر لٹکائے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت“، وہ بولیں: تب تو کھلا رہ جائے گا! آپ نے فرمایا: ”ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5341]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا عورت اپنا دامن کس قدر نیچا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بالشت۔“ انہوں نے کہا پھر تو اس کے پاؤں ننگے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ہاتھ نیچا کر لے اس سے زائد نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 40 (4117)، سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، سنن ابن ماجہ/اللباس 13 (3580)، (تحفة الأشراف: 18159)، مسند احمد (6/293، 315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
106. بَابُ: النِّهْىِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ
باب: سارے بدن کو کپڑے سے لپیٹ لینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5342
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5342]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اِشْتِمَالِ صَمَّاءَ» اور ایک کپڑے میں اس طرح گوٹھ مارنے سے منع فرمایا ہے کہ اس کی شرم گاہ پر کچھ نہ رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 10 (367)، اللباس 21 (5822)، (تحفة الأشراف: 4140)، مسند احمد (3/6، 13، 46) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”اشتمال صماء“ اہل لغت کے یہاں اشتمال صماء: یہ ہے کہ ایک آدمی کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح سے لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں کی حرکت مشکل ہو، اس طرح کا تنگ کپڑا پہننے سے آدمی بوقت ضرورت کسی تکلیف دہ چیز سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اور فقہاء کے نزدیک ”اشتمال صماء“ یہ ہے کہ پورے بدن پر صرف ایک کپڑا لپیٹے اور ایک جانب سے ایک کنارہ اٹھا کر گندھے پر رکھ لے، اس طرح کہ ستر (شرمگاہ) کھل جائے، اہل لغت کی تعریف کے مطابق یہ مکروہ ہے، اور فقہاء کی تعریف کے مطابق حرام۔ ”احتباء“ یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑا پہنے اور گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ کپڑا اس کے ستر (شرمگاہ) سے ہٹ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5343
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا پورے بدن پر لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں آدمی کے احتباء کرنے سے کہ شرمگاہ کھلی ہوئی ہو، منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5343]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس طرح «اِشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» اور ایک کپڑے میں گوٹھ مارنے سے منع فرمایا ہے کہ اس کی شرم گاہ پر کوئی پردہ نہ رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4516 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
107. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ الاِحْتِبَاءِ، فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
باب: ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5344
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے بدن پر کپڑا لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5344]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اِشْتِمَالِ صَمَّاءَ» اور ایک کپڑے میں گوٹھ مارنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 20، 21(2099)، سنن الترمذی/الٔڑدب 20 سنن ابی داود/الٔتدب 36 (4865)، (الاستئذان54) (2767)، (تحفة الأشراف: 2905)، مسند احمد (3/349) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
108. بَابُ: لُبْسِ الْعَمَائِمِ الْحَرْقَانِيَّةِ
باب: سرمئی رنگ کی پگڑی باندھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5345
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً حَرْقَانِيَّةً".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کی پگڑی باندھے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5345]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیاہی مائل پہنے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16(108)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 22 (2821)، اللباس 14 (3587)، (تحفة الأشراف: 10716)، مسند احمد (4/307) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «حرقانیہ» لفظ «حرق» (جلنا) سے ہے، یعنی: جلنے کے بعد کسی چیز کا جو رنگ ہوتا ہے، وہ ”سرمئی“ ہوتا ہے، لیکن مؤلف کے سوا سب کے یہاں، یہاں لفظ «سوداء» ہے، (خود مؤلف کے یہاں بھی آگے «سوداء» ہی ہے) اس لحاظ سے دونوں حدیثوں کو ایک ہی باب (۱۰۹) میں لانا چاہیئے تھا، مگر کسی راوی کے یہاں «حرقانیۃ» ہونے کی وجہ سے اور رنگ میں ذرا سا فرق ہونے کی وجہ سے مؤلف نے شاید الگ الگ دو باب باندھے ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
109. بَابُ: لُبْسِ الْعَمَائِمِ السُّودِ
باب: کالے رنگ کی پگڑی باندھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5346
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5346]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن احرام کے بغیر (مکہ مکرمہ میں) داخل ہوئے جبکہ آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ پگڑی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2872 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن