سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
120. بَابُ: حِلْيَةِ السَّيْفِ
باب: تلوار کے دستہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 5377
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ:" كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ".
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5377]
حضرت سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستے کے کنارے پر چاندی لگی ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
121. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْجُلُوسِ، عَلَى الْمَيَاثِرِ مِنَ الأُرْجُوَانِ
باب: لال زین پر بیٹھنے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5378
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ سَدِّدْنِي وَاهْدِنِي"، وَنَهَانِي عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْمَيَاثِرِ , وَالْمَيَاثِرُ: قَسِّيٌّ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ , كَالْقَطَائِفِ مِنَ الْأُرْجُوَانِ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: ” «اللہم سددني واهدني» اے اللہ مجھے درست رکھ اور ہدایت عطا کر“ اور آپ نے مجھے «میاثر» پر بیٹھنے سے منع فرمایا، «میاثر» ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے، جسے عورتیں اپنے شوہروں کے لیے پالان پر ڈالنے کے لیے بناتی تھیں۔ جیسے گلابی رنگ کی چھوردار چادریں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5378]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تو یہ دعا کیا کر «اللَّهُمَّ سَدِّدْنِي وَاهْدِنِي» ”اے اللہ! مجھے سیدھا رکھنا اور ہدایت پر قائم رکھنا۔“”نیز آپ نے مجھے ریشمی گدیلوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا، اور یہ گدیلے قسی (ریشمی) کپڑے سے بنے ہوتے تھے جنہیں عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے پالان پر رکھنے کی غرض سے بناتی تھیں اور یہ رنگ میں ارجوانی رنگ کی چادروں جیسے ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
122. بَابُ: الْجُلُوسِ عَلَى الْكَرَاسِيِّ
باب: کرسی پر بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5379
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ ,فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ , فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا , فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّهَا".
ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں معلومات کرنے آیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور خطبہ روک دیا یہاں تک کہ آپ مجھ تک پہنچ گئے، پھر ایک کرسی لائی گئی، میرا خیال ہے اس کے پائے لوہے کے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا تھا، پھر آپ لوٹ کر آئے اور اپنا خطبہ مکمل کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5379]
حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ خطاب فرما رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک اجنبی آدمی آیا ہے، اپنے دین کے بارے میں سوال کرتا ہے، وہ نہیں جانتا کہ دین کیا ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے، اپنا خطبہ چھوڑ کر میرے پاس پہنچ گئے۔ آپ کے پاس ایک کرسی لائی گئی، میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہو گئے اور مجھے وہ علم سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا تھا، پھر خطبے کی جگہ تشریف لے گئے اور اپنا خطبہ مکمل فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 15 (الصلاة 180) (878)، (تحفة الأشراف: 12035)، مسند احمد (5/80) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
123. بَابُ: اتِّخَاذِ الْقِبَابِ الْحُمْرِ
باب: لال خیموں کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 5380
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ , وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ يَسِيرُ، فَجَاءَهُ بِلَالٌ , فَأَذَّنَ فَجَعَلَ يُتْبِعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ ایک لال خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ بیٹھے تھے، اتنے میں آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اذان دینی شروع کی، تو اپنا منہ اِدھر اُدھر کرنے لگے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5380]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطحاء مکہ میں تھے، جبکہ آپ سرخ رنگ کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس کچھ لوگ تھے، آپ سفر شروع کرنا چاہتے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور اذان دی، وہ اپنا منہ ادھر ادھر کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، سنن ابی داود/الصلاة 34 (520)، سنن الترمذی/الصلاة 30 (197 مطولا)، (تحفة الأشراف: 11806)، مسند احمد (4/308) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے وقت اپنا رخ دائیں اور بائیں کرنے لگے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم