سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ: لُبْسِ السَّرَاوِيلِ
باب: پاجامہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جسے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے چپل نہ ملے وہ خف (چمڑے کے موزے) پہن لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5327]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں فرماتے سنا: ”جو شخص (احرام کی حالت میں) تہبند نہ پائے وہ شلوار پہن سکتا ہے اور جو شخص جوتے نہ پائے وہ موزے پہن سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2672 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب احرام کی حالت میں پاجامہ پہن سکتے ہیں تو احرام کے علاوہ حالت میں بدرجہ اولیٰ پہن سکتے ہیں یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
101. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي جَرِّ الإِزَارِ
باب: ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5328
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنِ الْخُيَلَاءِ خَسَفَ بِهِ , فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص تکبر (گھمنڈ) سے اپنا تہبند لٹکاتا تھا،) تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، چنانچہ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جا رہا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5328]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ ایک شخص تکبر سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتا چلا جا رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔنبیاء 54 (3485)، اللباس 5 (5790)، (تحفة الأشراف: 6998)، مسند احمد (2/66) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر کسی مجبوری سے خود سے پاجامہ (تہبند) ٹخنے سے نیچے آ جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ”تکبر سے“ کی قید احتراز نہیں ہے، (کہ اگر تکبر سے تہبند لٹکائے تو حرام ہے، ورنہ نہیں) بلکہ یہ لفظ اس لیے آیا ہے کہ عام طور سے تہبند کا لٹکانا پہلے تکبر اور گھمنڈ ہی سے ہوتا تھا، بہت سی روایات میں لفظ «خیلاء» نہیں ہے، «ازار» میں وہ سارے کپڑے شامل ہیں جو تہبند (لنگی) کی جگہ پہنے جاتے ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۳۱- ۵۳۳۷۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5329
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ , أَوْ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا (ٹخنے سے نیچے) لٹکایا (یا یوں فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5329]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا زمین پر گھسیٹتا ہے، قیامت کے دن اللہ اسے (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/5 (5791 تعلیقًا)، صحیح مسلم/اللباس9(2062)، (تحفة الأشراف: 8282) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ مَخِيلَةٍ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (ٹخنے سے نیچے) اپنا کپڑا تکبر سے لٹکایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5330]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا زمین پر گھسیٹے گا، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کو (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 5 (5791)، صحیح مسلم/اللباس 9 (2062م)، (تحفة الأشراف: 7409)، مسند احمد (2/42، 46) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
102. بَابُ: مَوْضِعِ الإِزَارِ
باب: تہبند کہاں تک ہو؟
حدیث نمبر: 5331
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَوْضِعُ الْإِزَارِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ وَالْعَضَلَةِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَمِنْ وَرَاءِ السَّاقِ، وَلَا حَقَّ لِلْكَعْبَيْنِ فِي الْإِزَارِ". وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند آدھی پنڈلی تک جہاں گوشت ہوتا ہے ہونا چاہیئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کچھ نیچے، اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو پنڈلی کے اخیر تک، اور ٹخنوں کا تہبند میں کوئی حق نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5331]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند کی جگہ نصف پنڈلی ہے جہاں موٹا پٹھہ ہوتا ہے، اگر تو وہاں تک نہیں چاہتا تو کچھ نیچا کر لے اور اگر وہاں بھی نہیں رکھنا چاہتا تو پنڈلی سے نیچے کر لے، لیکن تہبند کا ٹخنوں کا کوئی حق نہیں۔“ یہ الفاظ استاد محمد (ابن قدامہ) کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 41 (1783)، سنن ابن ماجہ/اللباس 7 (3572)، (تحفة الأشراف: 3383)، مسند احمد (5/382، 398، 400، 401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
103. بَابُ: مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الإِزَارِ
باب: ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 5332
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَعْقُوبَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5332]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازار ٹخنوں سے نیچا ہو تو اتنی جگہ آگ میں جلے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14099، 14355) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جسم کا وہ حصہ جو ٹخنے سے نیچے ازار (تہبند) سے چھپا ہوا ہے جہنم کی آگ میں جلے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5333
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَقَدْ كَانَ يُخْبِرُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ جہنم کی آگ میں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5333]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند ٹخنوں سے نیچا ہو تو وہ جگہ آگ میں جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 4 (5787)، (تحفة الأشراف: 12961)، مسند احمد (2/410، 461، 498) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
104. بَابُ: إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلِ الْإِزَارِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5334]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والے کی طرف (نظر رحمت) نہیں دیکھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5435)، مسند احمد (1/323) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5335
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مِهْرَانَ الْأَعْمَشَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سَلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا، نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: کچھ دے کر حد سے زیادہ احسان جتانے والا، (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5335]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں فرمائے گا، نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا: اپنے عطیے کا احسان جتلانے والا، تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کھا کر بیچنے والا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2565 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5336
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ، وَالْقَمِيصِ، وَالْعِمَامَةِ، مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند، قمیص اور پگڑی میں کسی کو بھی کوئی تکبر (گھمنڈ) سے لٹکائے تو قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5336]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْإِسْبَالُ» (لٹکانا) تہبند، قمیص اور پگڑی سب میں ہوتا ہے۔ جو شخص ان میں سے کسی بھی چیز کو تکبر کے ساتھ زمین پر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 30 (4094)، سنن ابن ماجہ/اللباس 9 (3576)، (تحفة الأشراف: 6768) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تکبر اور گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو قطعی پسند نہیں ہے، نیز تہبند، قمیص اور عمامہ (پگڑی) میں تکبر اور گھمنڈ کے قبیل سے جو زائد حصہ لگ رہا ہے وہ اسراف سے خالی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن