🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. بَابُ: ذِكْرِ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا
باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5367
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: ادْخُلْ، فَقَالَ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَفِي بَيْتِكَ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَإِمَّا أَنْ تُقْطَعَ رُءُوسُهَا، أَوْ تُجْعَلَ بِسَاطًا يُوطَأُ، فَإِنَّا مَعْشَرَ الْمَلَائِكَةِ لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا: اندر آئیے، وہ بولے: میں کیسے اندر آؤں؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5367]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آ جائیں۔“ انہوں نے کہا: میں کیسے داخل ہو سکتا ہوں جب کہ آپ کے گھر میں ایک پردہ ہے جس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں؟ یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیں یا اسے چٹائی بنا کر بچھا لیں۔ ہم فرشتے کسی گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 48 (4158)، سنن الترمذی/الأدب 44 (الاستئذان 78) (2807)، (تحفة الأشراف: 14345)، مسند احمد (2/305، 308، 390، 478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115. بَابُ: اللُّحُفِ
باب: اوڑھنے والی چادر (لحاف) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5368
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ , وَمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِنَا"، قَالَ سُفْيَانُ:" مَلَاحِفِنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اوڑھنے کی چادر میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5368]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لحافوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ سفیان نے ( «لُحُف» کی بجائے «مَلَاحِف») کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 134 (367)، الصلاة 87 (645)، سنن الترمذی/الصلاة 303 (الجمعة 67) (600)، (تحفة الأشراف: 16221) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا آپ احتیاط کے طور پر کرتے تھے، کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جو آپ کے لیے باعث تکلیف ہو، بہرحال اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ آپ کے اہل خانہ لحاف استعمال کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
116. بَابُ: صِفَةِ نَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے وصف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5369
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ:" أَنَّ نَعْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالَانِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5369]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے مبارک میں دو پٹیاں تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 5 (3105)، اللباس 41 (5857)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4134)، سنن الترمذی/اللباس 33 (1772، 1773)، والشمائل 10 (71)، سنن ابن ماجہ/اللباس 27 (3615)، (تحفة الأشراف: 1392)، مسند احمد (3/122، 203، 245، 269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5370
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، قَالَ:" كَانَ لِنَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ".
عمرو بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5370]
حضرت عمرو بن اوس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے مبارک میں دو تسمے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
117. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنِ الْمَشْىِ، فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ
باب: ایک جوتا پہن کر چلنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5371
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5371]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتے میں نہ چلے حتیٰ کہ اسے ٹھیک کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12459)، مسند احمد (2/ 528) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا کرنے سے آپ نے اس لیے منع کیا تاکہ ایک پاؤں اونچا اور دوسرا نیچا نہ رہے کیونکہ ایسی صورت میں پھسلنے کا خطرہ ہے، ساتھ ہی دوسروں کی نگاہ میں برا بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5372
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ , يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ , تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا".
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: عراق والو! تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5372]
حضرت ابورزین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنا ہاتھ اپنے ماتھے پر (بطور تعجب و تاسف) مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے عراقیو! کیا تم سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر جھوٹ بول رہا ہوں؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرا (ایک) جوتا پہن کر نہ چلے حتیٰ کہ اسے ٹھیک کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 19 (2098)، (تحفة الأشراف: 14608)، مسند احمد (2/42424، 480) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
118. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَنْطَاعِ
باب: چمڑے کے بچھونے کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5373
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَر، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ عَلَى نَطْعٍ فَعَرِقَ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى عَرَقِهِ فَنَشَّفَتْهُ فَجَعَلَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، فَرَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟" , قَالَتْ: أَجْعَلُ عَرَقَكَ فِي طِيبِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھال پر لیٹے تو آپ کو پسینہ آ گیا، ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں اور پسینہ اکٹھا کر کے ایک شیشی میں بھرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”ام سلیم! یہ تم کیا کر رہی ہو؟“ وہ بولیں: میں آپ کے پسینے کو عطر میں ملاؤں گی، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5373]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دفعہ ہمارے گھر میں) چمڑے کے بچھونے پر استراحت فرما ہوئے۔ آپ کو پسینہ آگیا۔ (میری والدہ) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں اور آپ کے بابرکت پسینے کو اکٹھا کر کے ایک شیشی میں ڈال لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو (ایسے کرتے ہوئے) دیکھا تو فرمایا: ”ام سلیم! تم کیا کر رہی ہو؟“ انہوں نے کہا: میں آپ کا پسینہ اپنی خوشبو میں ڈال لوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 967)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 41 (6281)، صحیح مسلم/الفضائل 22 (2331)، مسند احمد (3/136، 221) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کے ساتھ خاص تھا، چنانچہ سلف میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے کسی کا پسینہ محفوظ رکھا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
119. بَابُ: اتِّخَاذِ الْخَادِمِ وَالْمَرْكَبِ
باب: نوکر اور سواری رکھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5374
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ، فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ , فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا يُبْكِيكَ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ , أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا؟ , قَالَ: كُلٌّ لَا , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ، قَالَ:" إِنَّهُ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ.
ابووائل سے روایت ہے کہ سمرہ بن سہم جو ابووائل کے قبیلے کے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرا، وہ طاعون میں مبتلا تھے، چنانچہ ان کی عیادت کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ آئے، تو ابوہاشم رونے لگے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا کسی تکلیف کی وجہ سے رو رہے ہو یا دنیا کے لیے؟ دنیا کی راحت تو اب گئی، انہوں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، دراصل مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عہد یاد آ گیا جو آپ نے مجھ سے لیا تھا، میں چاہتا تھا کہ میں اس کی پیروی کروں، آپ نے فرمایا: ”تیرے سامنے ایسے اموال آئیں گے جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے، لیکن تمہارے لیے اس میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا پھر اسے جمع کیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5374]
حضرت سمرہ بن سہم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا، ان کو طاعون کا عارضہ لاحق ہو چکا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے تو حضرت ابو ہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا کوئی تکلیف آپ کو بے چین کر رہی ہے؟ یا دنیا (سے جانے) کا غم ہے جب کہ آپ کی دنیا کا بہترین حصہ گزر چکا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ان دونوں میں سے کوئی (بات نہیں) بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت فرمائی تھی، کاش میں اس پر قائم رہتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”شاید تجھ پر وہ دور آئے جب لوگوں میں بے تحاشا مال تقسیم کیے جائیں گے، تجھے صرف ایک نوکر اور ایک سواری جہاد کے لیے کافی ہے۔“ (واقعتاً وہ دور یا مال) میں نے پایا لیکن میں نے زیادہ مال جمع کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 19 (2327)، سنن ابن ماجہ/الزہد 1 (4103)، (تحفة الأشراف: 12178)، مسند احمد (3/443، 444، 5/290) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2327) ابن ماجه (4103) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120. بَابُ: حِلْيَةِ السَّيْفِ
باب: تلوار کے دستہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5375
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ:" كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ".
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5375]
حضرت ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستے کے کنارے پر چاندی لگی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 142) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5376
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَجَرِيرٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ نَعْلُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، وَقَبِيعَةُ سَيْفِهِ فِضَّةٌ , وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ حِلَقُ فِضَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5376]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا نعل چاندی کا تھا، اس کے دستے کے کنارے پر بھی چاندی لگی تھی اور اس کے درمیان میں بھی چاندی کے حلقے بنے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 71 (2583)، سنن الترمذی/الجھاد 16 (1691)، والشمائل 13 (99)، (تحفة الأشراف: 1146، 1425، 18688) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں