سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ نَبِيذِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْحَنْتَمِ
باب: کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5642
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ بِذَاتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اصل کدو کی تونبی سے روکا گیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5642]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کدو کے برتن میں ذاتی طور پر نبیذ بنانے سے روکا گیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17968) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: خواہ اس میں نشہ ہو یا نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5643
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاق وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ نَبِيذِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ". فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: إِسْحَاق: وَذَكَرَتْ هُنَيْدَةُ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ حَدِيثِ مُعَاذَةَ:" وَسَمَّتِ الْجِرَارَ"، قُلْتُ لِهُنَيْدَةَ: أَنْتِ سَمِعْتِيهَا" سَمَّتِ الْجِرَارَ"؟ قَالَتْ: نَعَمْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے برتن، روغنی برتن، کدو کی تونبی اور لاکھی برتن سے منع فرمایا۔ ابراہیم بن علیہ کی روایت میں ہے کہ اسحاق کہتے ہیں: ہنیدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے معاذہ کی حدیث کی طرح بیان کیا اور گھڑوں کا ذکر کیا، میں نے ہنیدہ سے کہا: تم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو گھڑوں کا نام لیتے سنا، وہ بولیں: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5643]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کی جڑ کے برتن، تارکول لگے برتن، کدو برتن اور روغنی مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔“ یہ ابن علیہ کی روایت میں ہے۔ اسحاق نے کہا کہ ہنیدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ کی حدیث کے مثل بیان کیا ہے اور (مطلقاً) مٹکوں کا ذکر کیا۔ میں نے ہنیدہ سے کہا: تم نے ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے سنا، انہوں نے مٹکوں (مٹی کے گھڑوں) کا نام لیا تھا؟ اس (ہنیدہ) نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5644
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ طَوْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقَيْسِيِّ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هُنَيْدَةَ بِنْتِ شَرِيكِ بْنِ زَبَّانَ، قَالَتْ: لَقِيتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِالْخُرَيْبَةِ , فَسَأَلْتَهَا عَنِ الْعَكَرِ؟ فَنَهَتْنِي عَنْهُ، وَقَالَتْ:" انْبِذِي عَشِيَّةً، وَاشْرَبِيهِ غُدْوَةً، وَأَوْكِي عَلَيْهِ، وَنَهَتْنِي عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ".
ہنیدہ بنت شریک بن ابان کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (مقام) خریبہ میں ملاقات کی اور ان سے شراب کی تلچھٹ کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا، یعنی انہوں نے کہا: شام کو بھگو کر صبح پی لو اور برتن کے منہ کو بند کر کے رکھو۔ اور انہوں نے مجھے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5644]
حضرت ہنیدہ بنت شریک بن ابان رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خریبہ میں ملی۔ میں نے ان سے شراب کی باقی ماندہ میل کچیل (تل چھٹ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس سے بھی منع کیا، نیز فرمایا: شام کو نبیذ بناؤ تو صبح کو پی لیا کرو اور رات کو اس کا منہ باندھ کر رکھا کرو۔ اور انہوں نے مجھے کدو کے برتن، کھجور کی جڑ کے برتن، تارکول لگے برتن اور روغنی مٹکے سے بھی منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17973) (ضعیف) (اس کے رواة ”طود“ اور ان کے باپ ’’عبدالملک“ دونوں لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، طود بن عبد الملك القيسي البصري: مجهول الحال (التحرير: 3049). وهنيدة مجهولة (التحرير: 8698) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 365
35. بَابُ: الْمُزَفَّتَةِ
باب: روغنی برتنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5645
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الظُّرُوفِ الْمُزَفَّتَةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغنی برتنوں سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5645]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تارکول لگے ہوئے برتنوں (میں نبیذ بنانے)“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1584)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 6 (1992)، مسند احمد (3/110، 112، 119) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
36. بَابُ: ذِكْرِ الدِّلاَلَةِ عَلَى النَّهْىِ لِلْمَوْصُوفِ مِنَ الأَوْعِيَةِ
باب: سابقہ مذکور برتنوں کے استعمال کے ممنوع ہونے کے دلائل کا بیان کہ ممانعت تادیبی نہیں بلکہ حتمی تھی۔
حدیث نمبر: 5646
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7".
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ”رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو، اور جس سے تمہیں روکیں، اس سے رک جاؤ“ (الحشر: ۷)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5646]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کدو کے برتن، روغنی مٹکے، کھجور کی جڑ کے برتن اور تارکول لگے ہوئے برتن“ سے منع فرمایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”رسول اللہ جو کچھ تمہیں دیں، وہ لے لو اور جس چیز سے تمہیں روکیں، اس سے رک جاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔاشربة 6 (1997)، سنن ابی داود/الٔهشربة 7 (3690)، (تحفة الأشراف: 5623) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون تلاوة الآية وكأنها مدرجة
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5647
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهَا، يُقَالُ: لَهُ أَنَسٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7؟ , قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36؟ , قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي" أَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ".
انس (قیسی بصریٰ) کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ”جو کچھ تمہیں رسول دے، اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے، اس سے رک جاؤ“ (الحشر: ۷) میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللہ ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم» ”کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں اپنے معاملات میں کوئی حق نہیں رہتا“ (الاحزاب: ۳۶) میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے برتن، روغنی برتن، کدو کی تونبی اور لاکھ برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5647]
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے چچا زاد بھائی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) یہ نہیں فرمایا: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”اور جو کچھ تمہیں اللہ کا رسول دے، وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے، اس سے رک جاؤ۔“ میں نے کہا: کیوں نہیں (بلکہ فرمایا ہے)۔ پھر انہوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 36] ”کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کو لائق نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول فیصلہ فرما دیں تو وہ اپنا اختیار استعمال کرے؟“ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کی جڑ کے برتن، تارکول لگے برتن، کدو کے برتن اور روغنی مٹکے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5363) (ضعیف) (اس کے رواة انس قیسی اور اسماء قیسیہ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، فيه مجهول ومجهولة وسليمان التيمي مدلس وعنعن. والحديث السابق (الأصل: 1997) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
37. بَابُ: تَفْسِيرِ الأَوْعِيَةِ
باب: ممنوع برتنوں کی شرح و تفسیر۔
حدیث نمبر: 5648
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَاذَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْجَرَّةَ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْقَرْعَ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَهِيَ النَّخْلَةُ يَنْقُرُونَهَا، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَهُوَ الْمُقَيَّرُ".
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے درخواست کی کہ مجھ سے کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے سلسلے میں سنی ہو اور اس کی شرح و تفسیر بھی بیان کیجئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی برتن سے روکا اور یہ وہی ہے جسے تم «جرہ» (گھڑا) کہتے ہو۔ «دباء» سے روکا، جسے تم «قرع» (کدو کی تُو نبی) کہتے ہو، «نقیر» سے روکا اور یہ کھجور کے درخت کی جڑ ہے جسے تم کھودتے ہو (اور برتن بنا لیتے ہو) اور «مزفت» جو «مقیر» ۱؎ ہے اس سے بھی روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5648]
حضرت زاذان سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گزارش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان برتنوں کے بارے میں سنی ہو، اس کی وضاحت بھی فرمائیے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْحَنْتَمِ» ”حنتم“ سے منع فرمایا“ اور اسے تم مٹکا کہتے ہو۔ اور ” «الدُّبَّاءِ» ”دباء“ سے منع فرمایا“، جسے تم کدو کا برتن کہتے ہو۔ اور ” «النَّقِيرِ» ”نقیر“ سے منع فرمایا“۔ یہ کھجور کی جڑ ہوتی ہے جسے لوگ اندر سے کرید کرید کر برتن بنا لیتے ہیں، نیز آپ نے ” «الْمُزَفَّتِ» ”مزفت“ سے منع فرمایا“ اور یہ وہ برتن ہوتا ہے جسے تارکول یا لاکھ مل دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الّٔشربة 6 (1997)، سنن الترمذی/الْٔشربة 5 (1868)، (تحفة الأشراف: 6716)، مسند احمد (2/56) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پینٹ کیا ہوا روغن چڑھایا ہوا برتن۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
38. بَابُ: الإِذْنِ فِي الاِنْتِبَاذِ
باب: مشکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5649
أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ عَنِ الدُّبَّاءِ وَعَنِ النَّقِيرِ وَعَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ" , وَقَالَ:" انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ أَوْكِهِ وَاشْرَبْهُ حُلْوًا"، قَالَ: بَعْضُهُمُ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي مِثْلِ هَذَا، قَالَ:" إِذًا تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ"، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَصِفُ ذَلِكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد کو جب وہ آپ کے پاس آئے کدو کی تونبی اور لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور منہ کھلے گہرے برتن سے روکا، اور فرمایا: ”مشک میں نبیذ تیار کرو اور اس کا منہ بند کر دو اور اسے میٹھا میٹھا پیو، ان میں سے کسی شخص نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اس جیسے برتن کی اجازت دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: تو تمہیں اس جیسا چاہیئے اور آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی شدت اور تیزی بیان کرنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5649]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبد القیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو کدو کے برتن، کھجور کی جڑ کے برتن، تارکول لگے برتن اور کٹے ہوئے منہ والے مشکیزے میں نبیذ بنانے سے روک دیا اور فرمایا: ”اپنے (معروف) مشکیزے میں نبیذ بناؤ اور اس کا منہ باندھ کر رکھو اور اسے میٹھی میٹھی پیو۔“ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس جیسی (متغیر) نبیذ پینے کی بھی اجازت دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تو اسے ایسی (نشے والی) بنا لے گا۔“ آپ نے اسے بیان کرنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ بھی فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 14541)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 6 (1993)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3693)، مسند احمد (2/491) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5650
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ سِقَاءً يُنْبَذْ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغنی گھڑے، کدو کی تونبی اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشکیزہ نہ ہوتا جس میں آپ کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ کے لیے پتھر کے برتن میں نبیذ بنائی جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5650]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تارکول لگے ہوئے مٹکے، کدو کے برتن اور کھجور کی جڑ کے برتن (میں نبیذ بنانے)“ سے منع فرمایا ہے، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیذ بنانے کے لیے مشکیزہ نہ ملتا تو پتھر کے کونڈے میں آپ کے لیے نبیذ بنائی جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 6 (1999)، (تحفة الأشراف: 2826) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5651
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي الْأَزْرَقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ نَنْبِذُ لَهُ فِي تَوْرِ بِرَامٍ" , قَالَ:" وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ میں نبیذ تیار کی جاتی تھی، جب مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کے برتن میں تیار کی جاتی، اور آپ نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5651]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور جب مشکیزہ میسر نہ ہوتا تو پتھر کے کونڈے میں آپ کے لیے نبیذ بنائی جاتی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، کھجور کی جڑ کے برتن اور تارکول لگے ہوئے مٹکے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔهشربة 6 (1998)، تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2791)، مسند احمد (3/32626) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح