سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، مُفْرَدًا
باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5622
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ:" حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: سَمِعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا عَجِبْتُ مِنْهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، قُلْتُ: مَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ مِنْ مَدَرٍ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا۔ میں نے کہا: میں نے آج ایک ایسی بات سنی ہے، جس پر مجھے حیرت ہے۔ وہ بولے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، میں نے کہا: «جر» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا ـ: مٹی سے بنی تمام چیزیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5622]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسے حرام قرار دیا ہے۔“ پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے آج ایک ایسی بات سنی ہے جس پر مجھے بہت تعجب ہوا ہے۔ انہوں نے کہا: وہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسے حرام قرار دیا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ فرمایا۔ میں نے کہا: جی! مٹکے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: مٹی سے بنا ہوا ہر برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الّٔشربة 6 (1997)، سنن ابی داود/الٔنشربة 7 (3690)، (تحفة الأشراف: 5649)، مسند احمد (2/104، 112، 153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5623
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , وَشَقَّ عَلَيَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ , فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: صَدَقَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان سے «جر» کی نبیذ کے بابت پوچھا گیا تو بولے: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے، جو کچھ میں نے سنا وہ مجھ پر گراں گزرا۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک چیز کے بارے میں پوچھا گیا، وہ (ان کا جواب) مجھے بہت برا لگا۔ وہ بولے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: ان سے «جر» کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو ابن عباس نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا، میں نے کہا: «جر» کیا ہوتا ہے؟ وہ بولے: ہر وہ چیز جو مٹی سے بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5623]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ان سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسے حرام قرار دیا ہے“۔ میں نے یہ بات سنی تو یہ مجھے بہت شاق گزری۔ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو میں ان کے جواب پر بہت حیران ہوا ہوں۔ فرمانے لگے: وہ کیا مسئلہ تھا؟ میں نے کہا: ان سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے سچ فرمایا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسے حرام قرار دیا ہے“۔ میں نے کہا: مٹکے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: مٹی سے بنا ہوا ہر برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5657) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
29. بَابُ: الْجَرِّ الأَخْضَرِ
باب: سبز روغنی گھڑے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5624
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ"، قُلْتُ: فَالْأَبْيَضُ، قَالَ: لَا أَدْرِي.
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز لاکھی برتن کی نبیذ سے منع فرمایا۔ (شیبانی کہتے ہیں) میں نے کہا: اور سفید؟ (برتن سے) انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5624]
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: سفید مٹکا (جائز ہے؟) انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔںشربة 8 (5596)، (تحفة الأشراف: 5166)، مسند احمد (4/353، 356، 380) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس باب اور اگلے ابواب میں مذکور تمام برتنوں میں شروع میں (جب شراب حرام کی گئی تھی) حلال نبیذ بنانا بھی ممنوع قرار دیا تھا گیا کیونکہ ان برتنوں میں نشہ لانے والے شراب کے اثرات باقی تھے تو نبیذ بناتے وقت اس میں فوراً نشہ پیدا ہو جانے کا خطرہ تھا، اور جب بہت دن گزر گئے اور وہ سارے برتن خوب خوب سوکھ گئے تب ان میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی، لیکن بعض علما ہمیشہ کے لیے ممانعت کے قائل ہیں، دیکھئیے باب نمبر ۳۶ اور اس کے بعد کے ابواب کی احادیث و آثار۔
قال الشيخ الألباني: صحيح خ بلفظ لا لم يذكر أدري وهو شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ، وَالْأَبْيَضِ".
ابواسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرے اور سفید لاکھی برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5625]
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز اور سفید مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله والأبيض فإنه مدرج
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5626
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: حَرَامٌ , قَدْ حَدَّثَنَا مَنْ لَمْ يَكْذِبْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ".
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے لاکھی برتن کی نبیذ کے بارے میں پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ انہوں نے کہا: حرام ہے، ہم سے اس شخص نے بیان کیا جو جھوٹ نہیں بولتا (یعنی بعض صحابہ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز روغنی گھڑا، کدو کی تونبی، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5626]
حضرت ابو رجاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ انہوں نے کہا کہ حرام ہے۔ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے جھوٹ نہیں بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(روغنی) مٹکے، کدو کے برتن، تارکول لگے ہوئے مٹکے اور کھجور کی جڑ سے بنائے گئے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15549) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
30. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ نَبِيذِ الدُّبَّاءِ
باب: کدو کی تونبی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5627
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5627]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کدو کے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5628
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5628]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کدو کے برتن سے منع فرمایا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
31. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ نَبِيذِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ
باب: کدو کی تونبی اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5629
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ , وَحَمَّادٌ , وَسُلَيْمَانُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5629]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن اور تارکول لگے ہوئے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔلشربة 8 (5595)، صحیح مسلم/الٔرشربة 6 (1995)، (تحفة الأشراف: 15989، 15955، 15936)، مسند احمد 6/11515، 278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5630
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کدو کی تونبی اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5630]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کدو کے برتن اور تارکول لگے ہوئے برتن (کے نبیذ) سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔنشربة 8 (5594)، صحیح مسلم/الٔیشربة 6 (1994)، (تحفة الأشراف: 10032)، مسند احمد (1/83، 139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5631
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ".
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5631]
حضرت عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کدو کے برتن اور تارکول ملے ہوئے برتن سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الٔےشربة 13 (3404)، (تحفة الأشراف: 9736) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح