سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
بہنوں اور بیٹیوں کی بہترین کفالت پر جنت کا مژدہ
ترقیم الباني: 294 ترقیم فقہی: -- 1565
-" من كان له ثلاثة بنات فصبر عليهن وأطعمهن وسقاهن وكساهن من جدته كن له حجابا من النار يوم القيامة".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس کے تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے اور محنت و کوشش کر کے ان کو کھلائے پلائے اور انہیں پہنائے، تو وہ اس کے لیے روز قیامت آگ سے آڑ ثابت ہوں گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1565]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 294
ترقیم الباني: 1027 ترقیم فقہی: -- 1566
-" من كان له ثلاث بنات يؤويهن ويكفيهن ويرحمهن فقد وجبت له الجنة ألبتة. فقال رجل من بعض القوم: وثنتين يا رسول الله؟ قال: وثنتين".
سیدنا جابر بن عبدللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی تین بیٹیاں ہوں، وہ ان کی رہائش کا بندوبست کرے، ان کی کفالت کرے اور ان پر رحم و کرم کرے تو اس کے لیے ہر صورت میں جنت واجب ہو جائے گی۔“ کسی آدمی نے کہا: ے الله کے رسول! اور دو بیٹیاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہوں تب بھی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1566]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1027
ترقیم الباني: 295 ترقیم فقہی: -- 1567
-" من كن له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات فاتقى الله وأقام عليهن كان معي في الجنة هكذا، وأومأ بالسباحة والوسطى".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ (ان کے بارے میں) الله تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور ان کی نگہداشت کرتا رہے تو میں اور وہ جنت میں اس طرح (قریب) ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی اور درمیان والی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1567]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 295
ترقیم الباني: 2679 ترقیم فقہی: -- 1568
-" من كن له ثلاث بنات يؤويهن ويرحمهن ويكفلهن وجبت له الجنة البتة. قيل: يا رسول الله! فإن كانت اثنتين؟ قال: وإن كانت اثنتين. قال: فرأى بعض القوم أن لو قالوا له: واحدة؟ لقال: واحدة".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی رہائش کا بندوبست کرے، ان سے رحمدلی سے پیش آئے اور ان کی کفالت کرے تو اس کے لیے یقینا جنت واجب ہو جائے گی۔“ کہا گیا: اے الله کے رسول! اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ دو ہوں تب بھی۔“ بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اگر آپ سے ایک بیٹی کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ فرما دیتے: اگرچہ ایک ہو تب بھی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1568]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2679
کتنی مقدار رقم کا مالک سوال نہیں کر سکتا؟
ترقیم الباني: 2314 ترقیم فقہی: -- 1569
-" من استعف أعفه الله ومن استغنى أغناه الله ومن سأل الناس وله عدل خمس أواق، فقد سأل إلحافا".
مزنی قبیلے کے ایک آدمی کو اس کی ماں نے کہا: کیا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتا، تاکہ ان سے کچھ مانگ لائے، جیسا کہ دوسرے لوگ ان سے سوال کرتے رہتے ہیں؟ میں (ان کے کہنے پر) کچھ مانگنے کے لیے چلا گیا، میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے: ”جس نے پاکدامنی اختیار کی، الله تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بےنیاز ہونا چاہا، الله اسے بے نیاز کر دے گا۔ (یاد رکھو کہ) جس کے پاس اوقیہ ہوں اور وہ پھر بھی سوال کرے تو اس کا سوال اصرار ہو گا۔“ میں نے اپنے دل میں ہی کہا: ہماری اونٹنی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے اور ایک اونٹنی میرے غلام کی بھی ہے وہ بھی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے۔ اس بنا پر میں لوٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال نہ کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1569]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2314
یتیم کی کفالت کا اجر و ثواب
ترقیم الباني: 2882 ترقیم فقہی: -- 1570
-" من ضم يتيما له أو لغيره حتى يغنيه الله عنه وجبت له الجنة".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ جس نے اپنے یا کسی دوسرے آدمی کے یتیم بچے کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اسے غنی کر دیا تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1570]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2882
افتراق کی صورت میں بچوں کا حقدار باپ ہو گا یا ماں ہے؟
ترقیم الباني: 368 ترقیم فقہی: -- 1571
-" المرأة أحق بولدها ما لم تزوج".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کے بارے میں خاوند سے جھگڑا کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اس بچے کی زیادہ حقدار ہے، جب تک (آگے نئی) شادی نہ کر لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1571]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 368
متعہ حرام ہے
ترقیم الباني: 1010 ترقیم فقہی: -- 1572
-" نهى عن المتعة (زمان الفتح متعة النساء) ، وقال: ألا إنها حرام من يومكم هذا إلى يوم القيامة".
سیدنا ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فتح مکہ کے دوران عورتوں سے) نکاح متعہ کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”آگاہ ہو جاؤ! یہ آج سے روز قیامت تک حرام ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1572]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1010
ترقیم الباني: 381 ترقیم فقہی: -- 1573
-" نهى عن المتعة، وقال: ألا إنها حرام من يومكم هذا إلى يوم القيامة، ومن كان أعطى شيئا فلا يأخذه".
سیدنا ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع کیا اور فرمایا: ”خبردار! یہ آج سے قیامت کے دن تک حرام ہے اور جو کوئی (اس نکاح کے لئے کسی عورت کو جو کچھ) دے چکا ہے وہ واپس نہ لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1573]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 381
ترقیم الباني: 2402 ترقیم فقہی: -- 1574
-" هدم - أو قال: حرم - المتعة: النكاح والطلاق والعدة والميراث".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ثینئہ وداع میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ نے کچھ چراغ دیکھے اور بعض عورتوں کے رونے کی آواز سنی اور پوچھا: ”یہ کیا تھا؟“ انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ عورتیں ہیں، جن سے ان کے خاوندوں نے نکاح متعہ کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح، طلاق، عدت اور میراث نے متعہ کو منہدم یا حرام قرار دیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1574]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2402